طاقت کی زبان

(Amjad Siddique, Lahore)

قانون کی حکمرانی نہ ہو تو معاشرہ کسی جنگل کا منظر نامہ پیش کرنے لگے۔ایسا منظر نامہ جس میں صرف اور صر ف طاقتور کی بات سنی جائے۔اسی کے حق کی بات کی ہو۔اسی کو عزت ملے اور اسی کو مقام۔جہاں تک کمزور کی بات ہے۔ اسے کسی خاطر میں نہ لایا جائے۔پہلے سے بے بس او رلاچار طبقے کو بالکل روند دیا جاتاہو۔اتنا کچلا جاتاہے کہ اس کی زندگی جہنم بن جائے۔قانون کا وجود بلا وجہ نہیں قائم کیا جاتا۔اس کے پیچھے بڑے چھوٹے۔طاقتور اور کمزور ہر کسی سے یکساں سلوگ کیے جانے کا مقصد ہوتاہے۔قانون کی حکمرانی ہی کسی معاشرے کو متوازن۔پرامن اور رواں رکھنے کی ضمانت ہے۔قانون کا غلبہ جس قدر زیادہ ہوگا۔اس کی افادیت اتنی ہی بڑھے گی۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی اس قدر ناپید ہے کہ بعض اوقات اس کے عدم وجود کا شبہ ہوتاہے۔ایک ریڑھی بان سے ایوان صد ر تک سبھی جگہ من مانیاں محسوس کی جاسکتی ہیں۔ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق قانون شکنی پر کاربند ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اول تو لاتعلقی پر مبنی رویہ اپنائے ہوئے ہیں یا پھر کبھی حرکت میں آتے بھی ہیں تو صرف انتہائی نچلی سطح تک ان کی کاروائیاں رہتی ہیں۔جہاں بگاڑ کی جڑیں ہیں۔وہاں تک یہ لوگ کبھی نہیں پہنچ پائے۔این آر او یا ڈیل اسی قسم کی لاقانونیت کی ایک شکل ہیں۔یہ ایک ایسا طریقہ کار ہوتاہے جس میں کسی شخص یا گروہ کے معاملات قانون سے ہٹ کرنبٹائے جائیں۔شریف برادران کی سعودیہ روانگی اور وہاں قیام کے طویل ہوجانے کے سبب ملک میں کسی نئے این آر اور کے کیے جانے کی چہ مگوئیاں ہونے لگی ہیں۔پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خاں اور پی پی کی قیادت نے کسی قسم کے این آر او رکو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔دونوں جماعتوں نے کسی نئی ڈیل ہونے پر سڑکوں پر آنے کا اشارہ بھی دیاہے۔مسلم لیگ ن کے حلقے کسی قسم کے این آر اور کو مستر دکررہے ہیں۔مگر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شا ہ لیگی قیاد ت کی یکا یکی سعودی عرب روانگی کو دال میں کچھ کالا ہونے سے تعبیر کررہے ہیں۔ڈیل کی چہ مگوئیوں کی ایک وجہ مشیرقومی سلامتی کونسل ناصر جنجوعہ کی جاتی عمرہ میں سابق وزیر اعظم سے ملاقات بھی رہی۔اس ملاقات کے حوالے سے میڈیا میں کسی نئے این آر او سے متعلق باتیں بھی سنی گئیں۔

ہمارے ہاں کچھ ڈیلیں تو حالات کے تناظر میں ہوئیں۔اور کچھ یوں ہی خواہ مخواہ ہی سمجھی جاسکتی ہیں۔شریف فیملی نے بھی جدہ روانگی کی دس سالہ ڈیل کی تھی۔تب حالات او ر تھے۔کہا جاتاہے کہ چھوٹے او ربڑے میاں صاحب الگ الگ اندازمیں اس ڈیل کے خلاف تھے۔نوازشریف لڑنے اور آخری حد تک جانے کی با ت کرتے تھے۔وطن سے دور جانے پر آمادہ نہ تھے۔جبکہ شہبازشریف کسی ایسے سمجھوتے کے خواہشمند تھے جو تھوڑا بہت گنوا کر پاکستان میں ہی رہ جانے کا موقع دے۔اس ڈیل کو ایگر شریف فیملی کے بزرگوں کی ہدایت سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ میاں شریف مرحوم نے ہمیشہ فوج سے محازآرائی نہ کرنے کی تلقین کی تھی۔جب 12اکتوبر کا وقوعہ ہوچکا تو یہ میاں شریف ہی تھے۔جنہوں نے مذید بگاڑ کی مخالفت کی۔ ہر قیمت پر اس معاملے کو مزید نہ الجھانے کا فیصلہ کرلیا۔بزرگوں کو ویٹو کا حق دینے والی شریف فیملی اس فیصلے پر آمنا صدقنا کہنے پر مجبور ہوئی۔چھوٹے اور بڑے میاں صاحبان اختلاف رکھنے کے باوجود اس ڈیل پرآمادہ ہوگئے۔کچھ ڈیلیں پی پی قیادت نے بھی کیں۔بدقسمتی سے ان ڈیلوں کو بے حکمتی پر مبنی ہی قرار دیا جاسکتاہے۔حالات نے ثابت کیا کہ پی پی قیادت نے عجلت اور عدم بلوغت کا مظاہر ہ کیا۔بھٹو اگر سقوط ڈھاکہ کے بعد اقتدارپانے کی جلدی نہ کرتے تو آمریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کیا جاسکتاتھا۔آمریت اس وقت آخری سانسیں لے رہی تھی۔بھٹو نے تب بجائے جمہوری قوتوں کا اعتما د حاصل کرکے عسکری قوتوں سے ڈیل کرلی۔جمہوریت جمہوریت رٹتے پی پی قیادت اپنے چھ سالہ دور میں آمریت کو ایک نئی زندگی بخشنے کا سبب بن گئی۔بجائے یہ کہ آمرانہ قوتوں کو کمزور کیا جاتا۔بھٹو اپنے ہم عصر جمہوری لوگوں کا ناطقہ بند کرنے میں لگے رہے۔پی پی کی اگلی دو ڈیلیں بے نظیر کے کھاتے آئیں۔پہلی بار اقتدارملا تب انہیں ایک آمر کے سیاہ دور کے احتساب سے باز رہنے کی مجبوری ہوئی۔ایک دوسری ڈیل مشرف کو اپنا صدر مان کر وزارت عظمی پانے کی بھی کی گئی۔اب راج کرے کی خلق خداپکارتی بے نظیر بھٹونے دونوں بار جمہوری قوتوں پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے۔اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد کیا۔

شریف فیملی کا سعودی عرب کا دو رہ اور طویل قیام پاکستان میں کسی نئے این آر او کی چہ مگوئیوں کو ہو ادے رہاہے۔عمران خاں اور آصف زرداری دونوں تلملا رہے ہیں۔انہیں اس قسم کی ڈیل سے اگلے الیکشن میں حالات پلٹتے نظر آرہے ہیں۔دونوں کے پاس عوام کو متوجہ کرنے کے لیے کچھ نہیں۔زرداری دور میں پی پی کی مقبولیت بے انتہا کم ہوئی تھی۔2013 کے الیکشن نتائج اس کی ایک جھلک تھے۔بد قسمتی سے پچھلے پانچ سالوں میں بھی پی پی کوئی ایسا تیر نہیں مار سکی جس کو وہ الیکشن کمپئین میں کیش کرواسکے۔تحریک انصاف کی قیادت بھی جو جہاں کا کچرا سمیٹے قوم کو انقلاب کی نوید سناتے سناتے اکتاچکی۔اس کے لیے بھی کسی نئے این آر او کی خبریں تازیانے سے کم نہیں۔اس کا بھی آخری آسرا خفیہ ہاتھ ہیں۔زردار ی اور عمران خاں کے لیے عوام کا سامنا کرنا آسان نہیں۔عین اس وقت پر جب کہ الیکشن سر پر ہیں۔جب کہ اگلے پانچ سالوں کے اقتدار کا فیصلہ ہونے جارہا ہے۔مسلم لیگ ن کو کسی قسم کا ریلیف ملنا دونوں جماعتوں کے لیے کسی سیاسی موت سے کم نہیں۔دونوں جماعتیں کسی بھی قسم کے این آر او کو قبول نہ کرنے کا اعلان کر ہے ہیں۔اس کے خلاف سڑکوں پر آنے کی بات کررہے ہیں۔مگر اگر این آر او ہو ا تو ان سے پوچھ کر نہیں ہوگا۔ہمارے ہاں طاقت کی زبان سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔دونوں جماعتیں سیاسی قوت سے عاری ہیں۔پی پی کو قیادت کی قلت کا سامنا ہے۔اور تحریک انصاف میں رقابتیں ماحول بگاڑے ہوئے ہیں۔یہ نوازشریف کی طاقت ہی ہے کہ کبھی ان کے خلاف اتحاد بنائے جاتے ہیں۔کبھی ان کے خلاف کسی مشترکہ تحریک کی باتیں کی جاتی ہیں۔اگر عدالت کے ایک فیصلے نے انہیں ناہل قراردے رکھ اہے تو نوازشریف اس کے باوجو د اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے خلاف اتحاد بھی ہورہے ہیں۔اور انہیں منانے کے لیے پاکستان سے باہر بھی ہاتھ پیر مارے جارہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 68756 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2018 Views: 314

Comments

آپ کی رائے