لال مسجد ،ماڈل ٹاؤن ،فیض آباد چوک واقعات تواتر کے ساتھ کیوں ؟

(Sohail Azmi, Dera Ismail Khan)

ماڈل ٹاؤن آپریشن صوبائی حکومت کے کہنے پر اور فیض آباد آپریشن سپریم کورٹ کے حکم پر ہوا لیکن دونوں آپریشنز میں شہباز شریف کی حکومت ملوث تھی ۔ماڈل ٹاؤن آپریشن میں ایسا کوئی بحران نہ تھا جس کے باعث عوام الناس کو تکلیف کا سامنا ہو لیکن فیض آباد آپریشن کی وجوہ میں عوامی تکلیف کا برا عمل دخل نہ تھا ۔ماڈل ٹاؤن آپریشن نہایت عجلت اور بغیر کسی سوچ وبچار کیاگیا لیکن فیض آباد دھرنے کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے مذاکرات کے کئی دور کیے لیکن نتیجہ صفر آنے پر آپریشن کیاگیا اگر حکومت وفاقی وزیر قانون کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیتی تو شاید اتنی اموات ،توڑپھوڑ ،میڈیا پر قدغن ،ملک بھر کے آمدورفت کے وسائل کو بند کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی لیکن مشہور محاورہ ہے کہ گیڈر کی جب موت آتی ہے توہ شہر کا رخ کرتا ہے موجودہ حکومت کا ویسے بھی چل چلاؤ تھا۔پانامہ سکینڈل،حدیبیہ کا معاملے نے انہیں ویسے ہی پسپا کرکے رکھ دیا تھا اب تو زرداری جیسا عالمگیر کرپٹ سیاستدا ن بھی نواز شریف سے ملنے تک کو تیار نہیں ہے کیونکہ ڈوبتی ناؤ میں کوئی بھی بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتا اوپر سے ماڈل ٹاؤن واقعہ کی طرح فیض آباد آپریشن میں بھی حکوم ت نااہلی اور منصوبہ بندی کا فقدان نظر آیا ۔میڈیا کو آپریشن کے سلسلے میں ( جسے اعلی عدلیہ اور پچاس لاکھ سے زائد ان شہریوں کی مکمل حمایت حاصل تھی )پہلے اعتماد میں نہ لیاگیا ۔سوات آپریشن سے پہلے بے نظیر دور میں میڈیا کو بریفنگ دی گئی جس کے بعد میڈیا کوریج کے سلسلے میں بڑی قومی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے احتیاط سے کام لیا لیکن فیض آباد آپریشن میں اسلام آباد ،پنڈی ،صوبائی حکومت اور آپریشن میں شامل اداروں نے ایسا نہ کرکے مجرمانہ غفلت کی جس کے باعث جیسے ہی آپریشن شروع ہوا تمام تر الیکٹرانک چینلز پر اس کی کوریج شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں تمام ملک میں خبر پہنچتے ہی مظاہرہ ،دھرنوں توڑ پھوڑ اور روڈبلاک کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے باعث اکثر کاروباری ادارے بڑے شہروں میں بندہونے سے اربوں روپوں کا نقصان تاجران اور حکومت کو اٹھانا پڑگیا ۔ملک کی بڑی بڑی شاہرائیں خاص کر موٹر وے بند ہوگئی جس کے باعث لوگ اپنے گھر میں مقید ہوکر رہ گئے ۔تعلیمی اداروں دفاتر وغیر ہ میں لو گ و بچے پھنس گئے ۔ملک کی بڑی شاہراہ لاہور پنڈی موٹرواے پر چکری کے مقام پر چھ سو کے قریب اور پنڈی بھٹیاں کے مقام پر چار سو کے قریب مظاہرین نے دھرنا دیا ۔دھرنا آپریشن کے باعث اب تک سات افراد ہلاک ،83 پولیس 75 ایف سی اور 50 عام شہری اتوار تک زخمی ہوئے ۔سرکاری وغیر سرکاری املاک کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا ۔پورے ملک مین کاروبار زندگی برے طریقے سے متاثر ہوا ۔تمام تر صورتحال میں حکومتی اندازے غلط ثابت ہوئے اور اب صرف وزیر قانون کے مستعفی ہونے کی بات سے معاملہ کہیں آگے پہنچ گیا ہے ۔اب حکومت کے مستعفی ہونے کی بات کی جارہی ہے ۔موجودہ حکمرانوں کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ انہیں کسی قسم کی اپوزیشن کی ضرورت نہیں ہے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اﷲ اور وفاقی وزیر زاہد حامد ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،وزیر پانی وبجلی کے ہوئے ہوئے انہیں کسی بھی اپوزیشن کی ضرورت نہیں ہے ۔مذکورہ تمام صوبائی وفاقی وزراء نے عوام الناس کو حکومت کے خلاف کھڑا ہونے پر بڑا کردار ادا کیاہے۔اب فیض آباد آپریشن کے بعد حکومت بیک فٹ پر اور تحریک لبیک یارسول اﷲ ؐ فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں ۔اس تحریک کے بڑوں کے کردار ،طرز تقریر او ر دھرنے سے جس کے باعث عام انسان تکلیف اٹھارہا تھا مجھ سمیت کئی لوگوں کو اختلاف ہیں لیکن حکومت جس کے وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال جوکہ 2025 کا وژن پیش کرچکے ہیں میں ایک معمولی دھرنے کو سنبھالنے کی طاقت اور منصوبہ بندی نہیں ہے۔وہ اگر معاملے کی حساسیت کو سمجھ پاتے تو وہ دھرنے کے شرکاء کو فیض آباد چوک پر اکٹھے ہی نہ ہونے دیتے لیکن ہماری پولیس ودیگر ادارے منصوبہ بندی سے عاری ہیں حکوم توقت کو ہماری پولیس سے متعلقہ ایجنسیاں اکثر سب اچھا کی رپورٹ دیتی ہیں کیونکہ ان ایجنسیوں میں یعنہ نااہل ،سفارشی لوگوں کو بھرتی کیاگیا ہے ۔اس لئے ان کی اکثر رپورٹس بھی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہیں ۔اگر پنجا ب حکومت پنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ کی اس درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء کو پہلے ہی روک لیتی یاتو تتر بتر کردیتی توانہیں فیض آباد چوک تک جسیے اہم مقام پر قبضہ جمانے کا موقع ہی نہ ملتا لیکن انہوں نے درخواست پر کان نہ دھرے اور اسلام آباد جیسے اہم شہر کو جام کروا کر اپنی ملکی اور غیر ملکی طور پر جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا ۔اب بھی وقت ہے کہ ہماری عدلیہ ،پارلیمنٹ ،مذہبی وسیاسی جماعتیں متفقہ طور پر مل بیٹھ کر دھرنوں و احتجاجوں کے لئے مقام منتخب کریں اور ختم نبوت کے حلف نامے کی سازش کے عقب میں جو بھی نعاصر ملوث ہیں ان کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے یا کم از کم انہیں عوا م کے سامنے آشکارہ ضرور کیا جائے ۔سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پرایک جوڈیشل انکوائری کے ذریعے اس کا تعین کرے کہ کیوں آخر ملک میں لال مسجد ،ماڈل ٹاؤن اور اب فیض آباد آپریشن جیسے واقعات تواتر سے رونما ہورہے ہیں ان کا تدارک کیونکر ممکن ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Azmi

Read More Articles by Sohail Azmi: 154 Articles with 74113 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2018 Views: 427

Comments

آپ کی رائے