نو مور امریکہ

(Wisal Khan, )

وطن عزیزمیں آجکل ہربحث کابنیادی نکتہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے پاکستان بارے بیانات ہیں نئے سال کے شروع ہوتے ہی امریکی صدرکے لہجے میں اچانک یہ تیزی کیوں آئی اسکے متعددوجوہات بیان کئے جارہے ہیں پاکستان کی چین اورروس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات امریکہ کوایک آنکھ نہیں بھاتے ،سی پیک سے اسے تکلیف ہے،افغان طالبان کے ساتھ امن عمل کی ناکامی کاذمے دارپاکستان کوقراردیاجارہاہے،بھارتی چوہدراہٹ کے راستے کاپتھرپاکستان ہے،اسرائیل کی ناجائزریاست کوپاکستان سے خطرہ محسوس کیاجارہاہے،سعودی امریکہ اتحادمیں پاکستان غیرجانبداررہناچاہتاہے،افغان مسئلے کاپائیداراوردیرپاحل چاہتاہے ،القدس کو اسرائیل کادارالخلافہ تسلیم نہیں کرتااورسب سے بڑاجرم یہ ہے کہ اپنی سرزمین کوخونریزی سے پاک کرناچاہتاہے یہ وہ جرائم ہیں جو امریکہ کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں اوروہ کبھی ایک توکبھی دوسرے بہانے پاکستان پردباؤڈالنے کی کوشش کرتارہتاہے افغان جنگ کے گزشتہ پندرہ سال سے امریکہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹس براجمان ہو ں یاریپبلکن کاقبضہ ہو پاکستان سے ڈومورکے مطالبات کی گردان میں کوئی کمی نہیں آرہی آئے روزپاکستان پرنت نئے الزامات لگائے جاتے ہیں اسے ڈرانے دھمکانے کی کوشش ہوتی ہے اسکی امدادبندکرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اوراسکی عزت نفس کومجروح کیاجاتاہے امریکہ کوجب پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے تب اسکی ہراداپیاری لگتی ہے اسے بن مانگے امداددی جاتی ہے ،اسکی ضروریات پوری کرنے کے اعلانات سامنے آتے ہیں ،امریکی حکام کے جہازوں سے پاکستانی ائیرپورٹس خالی نہیں ہوتے، جوش میں آکراسے نان نیٹو اتحادی کادرجہ دیاجاتاہے اوراسکی قربانیوں ،شجاعت اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردارکی تعریفیں کی جاتی ہیں مگرجب پاکستان امریکہ کی کسی بات کوماننے سے انکارکرتاہے توپاکستان دنیاجہاں کی تمام خرابیوں کامرکزبن جاتاہے یہ دہشت گردوں کے ساتھ روابط بھی رکھتاہے ،یہ امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم بھی کھیلتاہے ،اسکی آرمی بھی روگ آرمی بن جاتی ہے ،اسکے سیاستدان بھی دوغلے بن جاتے ہیں اوریہ ایک روگ سٹیٹ کاروپ اختیارکرلیتاہے محبت پھرنفرت، پھرمحبت اورپھرنفرت کایہ نارواکھیل گزشتہ ستربرسوں سے جاری ہے پاکستانی عوام نفرت اورمحبت کے اس مکروہ کھیل سے اب اکتاچکی ہے امریکہ نامی اس ملک نے پاکستان پردوجنگیں مسلط کیں سوویت یونین نے اگرافغانستان پرحملہ کیاتھاتو یہ افغان عوام کامسئلہ تھاہاں پاکستان برادراسلامی ملک کے ساتھ ہمدردی رکھتاہے اوراپنی سدابہارپالیسی کے مطابق کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاروادارنہیں مگرامریکہ نے ساتھ سمندرپارسے آکرافغان جنگ کوپاکستان کے سرتھوپ دیاپاکستان کوسوویت یونین کے خلاف بیس کیمپ کے طورپراستعمال کیا،دنیاجہاں سے جہادیوں کوتلاش کرکرکے پاکستان کی سرزمین کوان کیلئے کھلوادیا،ٹریننگ کیمپس بنادئے ،پاکستان کے ائیربیسزکوشیرمادرسمجھ کراستعمال میں لایاگیا،پاکستان کوہمسایہ ملک کے مہاجرین کا دوسرا گھر بنا دیا گیا،ہرقسم کے اسلحے کاڈپوبنادیاگیا،سیدھی سادھی پاکستانی قوم کوکلاشنکوف کلچرکاتحفہ دیکرہیروئن سے متعارف کرایاگیا،فحاشی اورعریانی کوفروغ دیاگیااورگلی گلی قتل وغارتگری اوربم دھماکوں کاسلسلہ شروع کرادیاگیاسوویت یونین کی شکست کے ساتھ ہی امریکہ کی آنکھیں بدل گئیں اوریہاں سے بوریابسترگول کرنے کے ساتھ ہی اسے پریسلرترمیم کے ذریعے مختلف قسم کی پابندیوں میں جکڑاگیاپاکستان ابھی ان بداثرات سے نکلنے کی تگ ودودمیں مصروف تھاکہ اوپرسے نائن الیون کاواقعہ رونماہوااس واقعے کے حالات وواقعات اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ یہ امریکہ کی اپنی ہی منصوبہ بندی کانتیجہ تھااس سے پہلے پاکستانی قوم اسامہ بن لادن کے نام سے جزوی واقفیت تورکھتی تھی مگرالقاعدہ نامی بلاسے پاکستان کو امریکہ نے ہی متعارف کرایاپاکستان کوپتھرکے دورمیں پہنچانے کی دھمکی دیکراسے اپناہمنوابنالیاگیابس وہ دن اورآج کادن پاکستانی قوم سکون نامی پرندے کے نام سے ہی ناآشناہوگئی گلی گلی اورمحلے محلے خوکش دھماکے شروع ہوگئے یہ جنگ جوکہ امریکہ کی ضرورت تھی پاکستان کواس میں زبردستی گھسیٹاگیاافغانستان میں جنگ لڑناامریکہ کاکام تھادہشت گردوں کوپاکستان میں داخل نہ ہونے دیناامریکہ کی ذمے داری تھی افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کرکے وہاں اپنی مرضی کی مضبوط کٹھ پتلی حکومت کاقیام امریکہ کی خواہش تھی ان تینوں امورکوامریکہ انجام دینے سے قاصررہاطالبان کی حکومت ختم کرکے امریکہ کوئی قابل قبول حکومت نہ بناسکاافغانستان سے دہشت گردپاکستان میں داخل ہوگئے اورامریکہ افغان جنگ ناہی لڑسکااورناہی جیت سکاآخرکارشکست کی ہزیمت کومٹانے کیلئے امریکہ نے خودساختہ اعلان فتح کے ساتھ افغانستان سے نکل جانے میں ہی عافیت جانی اورجنگ پاکستان کے گلے کاطوق بن کررہ گیاپاکستان نے اس جنگ کومنطقی انجام تک پہنچانے کیلئے بیش بہاقربانیاں دیں اورپاک فوج کی بے مثال بہادری کاہی نتیجہ ہے کہ پاکستان آج دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہاآج پاکستان تقریباًمحفوظ ہونے کے قریب ہے اب امریکہ کوخیال آیاکہ پاکستان نے اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیلی ہے یہاں امریکہ اوراسکے اتحادیوں نیٹووغیرہ کی اہلیت پرایک بڑاسوالیہ نشان ثبت ہورہاہے کہ دنیاکی جدیدجنگی سازوسامان سے لیس فوج اوردنیاکے خودساختہ حکمرانوں کویہ علم سولہ سال بعدہواکہ پاکستان توڈبل گیم کھیل رہاہے اگرپاکستان جیساچھوٹاسامعاشی مشکلات سے دوچاراورطرح طرح کے مصائب میں گھراہواملک امریکہ اور نیٹوکودھوکہ دے سکتاہے توہاتھیوں کایہ اتحادکسی بڑی طاقت کے خلاف کیاکامیابی حاصل کرے گا ؟ درحقیقت ناہی توپاکستان نے کوئی ڈبل گیم کھیلاہے ناہی امریکہ اورنیٹوکے ساتھ کوئی دھوکہ کیاہے بلکہ امریکہ اوراسکے تیس مارخان اتحادی افغانستان میں ناکامی سے دوچارہوئے اس ناکامی کی کئی وجوہات ہیں ایک توجنگ نے امریکہ اوراسکے اتحادیوں کی توقعات کے برعکس طوالت اختیارکرلی اتحادیوں کاخیال تھاکہ انکے افغانستان میں درآنے کے فوری بعدطالبان منتشرہوکربھاگ جائینگے اوروہ چنددنوں کے اندرہی وہاں کسی حامدکرزئی کوبٹھاکرواپسی کی راہ لے لینگے مگرانکے یہ اندازے اورتوقعات غلط ثابت ہوگئے افغان قوم نے ناصرف امریکی منصوبے خاک میں ملائے بلکہ پاکستان کوبھی امریکہ کاساتھ دینے کی پاداش میں میدان جنگ بنادیاامریکہ نے تو جنگ کوطول پکڑتے دیکھ کرراہ فراراختیارکرلی مگرپاکستان توکہیں بھاگ کرنہیں جاسکتاتھالہٰذااس نے اس جنگ کوچاروناچاراپنالیایااسکے گلے کاہاربنادیاگیاپاکستان نے امریکہ کی طرح راہ فرارکی بجائے اس چیلنج سے نبرآزماہونے کافیصلہ کرلیاآج پاکستان اس جنگ کوجیتنے کے قریب پہنچ چکاہے اورامریکہ کوپاکستان کی یہ کامیابی ہضم نہیں ہورہی وہ اپنی سبکی مٹانے کیلئے پاکستان پرڈبل گیم اوردھوکہ دہی کے الزامات لگارہاہے اورساری دنیامیں پاکستان کوتماشابنادیاگیاہے پاکستان کواس صورتحال میں تدبراورہوشمندی کامظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے بلیم گیم سے خودکودوررکھناہے جواب دینااگرضروری بھی ہوتویہ جواب دفترخارجہ ،وزارت خارجہ یاآئی ایس پی آردے ہرکس وناکس صدرٹرمپ کوسخت سست کہنے سے پرہیزکرے سیاست چمکانے کیلئے کوئی اورذریعہ تلاش کیاجائے حکومتی سطح پرامریکی امدادسے جان چھڑانے کی فکراپنائی جائے تمام سیاسی جماعتیں امریکہ پرتبراء بھیجنے کی بجائے امریکی امدادسے دستبرداری کیلئے کوئی روڈمیپ دیں ہرشعبے میں خودانحصاری کی پالیسی بنائی جائے چین پربھی ضرورت سے زیادہ انحصارنہ کیاجائے دنیاکے تعلقات ضرورت کے محتاج ہوتے ہیں آج کی دنیامیں کوئی کسی کاسگانہیں سب اپنے مفادات کے اسیرہیں ہمیں اب سنجیدگی سے امریکہ کو’’نومور‘‘کہناہوگامزیدامدادکیلئے بھی اورکسی جنگ کاحصہ بننے کیلئے بھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 33225 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2018 Views: 242

Comments

آپ کی رائے