میاں ،بیوی (ظرافیئے)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 ۱۔ دنیا میں اگرچہ بیویاں بھی ہیں لیکن دنیا ترک کرنا پھر بھی اتنا آسان نہیں۔
۲۔ اگر دنیا میں بیویاں نہ ہوتیں، تو شاید انسان جنت کی خواہش ہی نہ کرتا۔
۳۔ اگر دنیا میں بیویاں نہ ہوتیں تو دنیا سے جانا اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا۔
۴۔ بیوی کوئی کوئی بے وقوف ہوتی ہے جب کہ شوہر سارے ہی۔
۵۔ ہردانش ور شخص بیوی کے آگے صرف ’ور‘ رہ جاتا ہے ’دانش‘ غائب ہو جاتی ہے۔
۶۔ تقریباً ہرشوہر یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی بے وقوف ہے جب کہ تقریباً ہربیوی یہ جانتی ہے کہ اس کا شوہر بے وقوف ہے۔
۷۔ اگر شوہر حضرات اور بیویاں ایک دوسرے کے منہ پر وہ باتیں کہہ دیں جو وہ دل میں ایک دوسرے کے متعلق دل میں رکھتے ہیں تو دنیا تیسری عالمی جنگ کا انتظار چھوڑ دے۔
۸۔ دنیا میں ایک دوسرے کی دل سے عزت کرنے والے میاں بیوی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
۹۔ اگر میاں، بیوی کے رشتے کو آس پاس کے رشتوں کا حصار میسرنہ ہوتو یہ رشتہ جلد ہی حدود سے باہر چلا جائے۔
۱۰۔ میاں ، بیوی کی نوک جھوک تابکاری سے زیادہ سرایت کرتی ہے۔
۱۱۔ میاں، بیوی کا رشہ صرف انسانوں ہی میں نہیں پرندوں اور بعض حیوانوں میں بھی ہوتا ہے۔
۱۲۔ اگر مذاہب اور معاشرے میاں ،بیوی کا کردار متعین نہ کرتے تو دنیا میں نسلی، لسانی، علاقائی اور مذہبی فسادات کی جگہ عائلی فسادات رونما ہوتے۔
۱۳۔ میاں ، بیوی انسان کی تصویر کے دورخ ہیں، جھگڑا اس بات کا ہے کہ پہلا رخ کون ہے۔
۱۴۔ اگر، میاں بیوی میں ناچاقی نہ ہو تو ہمسائے پریشان رہتے ہیں۔
۱۵۔ میاں بیوی کی نوک جھوک بچوں کی ذہانت تیز کرتی ہے۔
۱۶۔ شوہر کو کبھی اپنی بیوی کو سمجھانے کی غلطی نہیں دہرانی چاہیئے۔
۱۷۔ شوہر کو اپنے اوپر فرض کر لینا چاہیئے کہ اس نے اپنی بیوی کی بات پوری توجہ سے سننی ہے ورنہ ایک کے بدلے گیارہ گنا۔
۱۸۔ دوسرے لوگوں کی موجودگی میں شوہر کو اپنی شریکِ حیات کی طرح کسی اور کی شریکِ حیات کو قطعاً نہیں دیکھنا چاہیئے ورنہ یہ شرک قابلِ معافی نہ ہو گا۔
۱۹۔ شریکِ حیات ایک مرکب لفظ ہے جو اپنی معنویت کے برابر ہے، جب کہ بیوی اور شوہر عجیب سے ہیں۔ یا شاید جیسی
حرکتیں ہیں ویسے الفاظ بھی ہیں۔
۲۰۔ لفظ بیوی کی جمع ’بیویاں‘ اکثر سننے میں آتا ہے جب کہبے چارے ’شوہر‘ کو جمع ہونے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
۲۱۔ لفظ ’بیوی‘ لفظ ’ہیوی‘ کے جیسا ہے جب کہ لفظ ’شوہر‘ لفظ ’ شوپر‘ جیسا ہے۔
۲۲۔ لفظ ’بیوی‘ کی آخری ’ی‘ فتح کا نعرہ لگتی ہے جب کہ لفظ ’شوہر‘ کا آخری ’ہر‘ ہار کا مرثیہ محسوس ہوتی ہے۔
۲۳۔ عورتوں کے لئے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ صدیوں سے ’میاں، بیوی‘ کی لفظی ترکیب میں ان کے حقوق غصب کئے جانے کا غضب ہوا ہے اب اس روشن خیال زمانے میں یہ ترتیب درست ہو کر ’ بیوی، میاں ‘ ہو جانی چاہیئے۔
۲۴۔ لفظی احساسِ کمتری ختم نہ ہو گا کہ ’میاں‘ کا لفظ شوہر کے علاوہ بہت سی دوسری جگہوں پر بھی مستعمل ہے لیکن ’ بیوی‘ بے چاری صرف بیوی ہے۔
۲۵۔ میاں ، بیوی کے بچت اسی میں ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بچت کریں۔
۲۶۔ میاں ، بیوی ایک دوسرے کو اپنا سمجھنے لگیں تو کسی اور کو ان کو سمجھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
۲۷۔ میاں ، بیوی کو ہمیشہ منگنی کا رومانوی زمانہ یاد رکھنا چاہیئے۔
۲۸۔ شادی کے دن کو یاد رکھنا شاید آسان نہیں کہ اس دن بہت زیادہ مصروفیت ہوتی ہے۔
۲۹۔ میاں ، بیوی کا رشتہ آسمانوں پے طے ہوتا ہے اسی لئے میاں بیوی بننے کے بعد آسمانوں کی طرف نظر ضرور اٹھتی ہے۔
۳۰۔ میاں، بیوی کے رشتے پر بہت سے نجومیوں کے پیشے کا انحصار بھی ہوتا ہے۔
۳۱۔ بہت سے ’میاں‘ صرف گھر سے باہر ہی میاں ہوتے ہیں۔
۳۲۔ اگر میاں ، بیوی کو زندگی کے بالترتیب دن رات کہہ لیا جائے تو مضائقہ تو نہیں لیکن اکثر خواتین ہی رات سے ڈرتی ہیں۔
۳۳۔ میاں ، بیوی اگر ایک دوسرے سے بد ظن نہ ہوں تو پھر کس سے ہوں۔
۳۴۔ اگر میاں ،بیوی کی لڑائی اصول پرستی پر ہو تو شاید کبھی نہ ہو۔
۳۵۔ ضرب المثل ہے : میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ لیکن یہ آدھا سچ ہے قاضی بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
۳۶۔ ایک ضرب المثل ہے : میاں گھر نہیں ، بیوی کو ڈر نہیں۔ جب کہ اسے یو ں ہونا چاہیئے: بیوی گھر نہیں، میاں کو ڈر نہیں۔
۳۷۔ بیوی کو ہندی زبان میں’ جورو‘ بھی کہتے ہیں اور کتنا مناسب لفظ ہے جو ’ جور‘ یعنی طاقت سے بھرا ہے۔
۳۸۔ ایک ضرب المثل ہے : ’جورو نہ جاتا، اﷲ میاں سے ناطہ‘ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اﷲ میاں سے ناطہ جوڑنے کے لئے جورو یا جاتا کو چھوڑنا ضروری ہے۔
۳۹۔ میاں یا بیوی کے اچھے ہونے کے لئے خوبصورت ہونا ضروری نہیں لیکن ایک کم فہمی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 177734 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
09 Jan, 2018 Views: 733

Comments

آپ کی رائے