چاند سی بہو

(Hukhan, karachi)

یہ روایت اب صدیوں پرانی ہوتی جارہی ہے،،،جس پر جس قدر ناز کیا جائے
(معاف کیجئے گا) جس قدر افسوس کیا جائے،،،کم ہے۔
ہر کسی ماں بہن کو چاند سی بہو اور بھابھی ہی چاہیے،،،تاکہ ان کی نئی ،،،
نسل قدرے قبول صورت ہو،،ہر جگہ بے شک انکی عقل پر ماتم کیا جائے
مگر ان کی خوبصورتی کے چار سو چرچے ہوں۔۔

گھر میں بے شک اس چاند کی وجہ سے میدانِ جنگ بنا رہے،،برتن بجتے
رہیں،،،پڑوسی توبہ توبہ کرتے رہیں،،،

کئی دفعہ ہمیں بھی اپنی نیم دانشوری کی وجہ سے ایسی محفل میں ،،،،
بیٹھنا پڑگیا،،،
ہم لڑکی والوں کی طرف سے تھے،،،کیونکہ کوئی لڑکے والے ہمیں ذیادہ،،،
منہ نہیں لگاتےکیونکہ ہماری وجہ سے ان کے لڑکے کی ویلیو ڈاؤن ہوجاتی
ہے،،،خیر مٹی ڈالیے مجھ پر۔۔۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی،،،لڑکے کی ماں یعنی لڑکی کی ہونےوالی مصیبت،،،
معاف کیجئے گا،،،ساس کی،،،
وہ اپنی ہونے والی بہو کی خوبصورتی کے ایسے ایسے قصیدے پڑھنےلگی
مثال کے طور پر،،،رنگ ایسا ہو،،،ناک ویسی ہو،،بال اتنے لمبےہوں،،قد ایسا
ہو،،،ہاتھ ایسے،،،انگلیاں ویسی ہوں،،،

اب جو ہم نے تصور میں جا کےدیکھا،،،بہو کی پکچر بنائی،،،تو کم سے کم ،،،
بارہ مس ورلڈ،،چھ مس یونیورس،،کوئی چونتیس کے قریب مس یو ایس اے
کو ملا کر ان کی بہو بن پاتی۔۔

ہم نے بہت ہی ادب سے عرض کیا،،مستقبل کی ساس صاحبہ،،ایسا نہ ہو
کہ اتنی پیاری لڑکی کے بعد آپ کے بیٹے کے ساتھ ،،،‘‘حور اور لنگور‘‘،،،،والا
معاملہ ہوجائے۔
ساس صاحبہ نے صبح کے مرغے والی زور دار اذان جیسی آواز میں کہا،،،!!!
کیا مطلب آپ کا؟؟؟،،،،!!!
ہمارے پیروں تلے سے قالین کھسک گیا،،،ہم جلدی سے بولے،،،،ہمارا،،
مطلب ہے،،،کہ آپ کا بیٹا حور لگے،،،،اور لڑکی بیچاری لنگور لگے۔۔

بس تھوڑی سی گرائمر مس ٹیک نے ساس صاحبہ کو سمجھنے نہیں دیا،،،
وہ بولیں،،،شکل سے آپ لگتے نہیں عقلمند،،،مگر پھر بھی آپ کی بات
میں وزن ہے،،،مگر میرا بیٹا حور تو نہیں،،،
خیر مگر چاند سے کیا کم ہوگا،،مگر اگلے ہی لمحے ہماری غلط فہمی
یوں دور کردی۔۔

چودہ سالہ لڑکی کی طرح شرماتے ہوئے بولیں،،یوں سمجھ لیجئےکہ ہماری
ٹرو کاپی ہے،،،
ہمارے کانوں سے دھواں سا نکلنے لگا،،ہمارا کھلا ہوامنہ دیکھ کربولیں،،
آپ کو لگتا ہے یقین نہیں آرہا،،،ہم بولے،،،جی بالکل۔۔۔

لڑکی والے بھی غصے سے ہمیں گھورنے لگے،،،ہم نے سوچا،،،ہمیشہ کی
طرح ہم نے کام خراب کردیا،،،مگر ہمارےدانشور دماغ نےفورا سیچویشن،
کوسنبھال لیا،،،
ہمارا مطلب ہے،،سچ کہیے ہم آپ کو لڑکے کی چھوٹی بہن،،یا کنوارہ ہی
سمجھ رہے تھے،،،

بس اس کے بعد تو ساس(اللہ معاف کرے) ایسی شرمائی،،،کہ ہمیں شرم
پر شرم آنےلگی،،،ہم پھر بھی لڑکی کی قربانی کو تیار تھے،،،کہ کم سے کم،،،
اک رشتہ تو ہمارے اکاؤنٹ میں ہونا چاہیے،،،

ہم بولے آپ اپنے چاند کی تصویر ہی دکھا دیجئے،،،! جب تصویر ہمارے
ہاتھ آئی،،،تو اک عجیب و غریب مخلوق جوکہ سر سے پوری گنجی تھی،،،!!!
ہمیں ایسےگھور رہی تھی،،،جیسے قصائی بکرے کو گھورتا ہے،،،ہم نے
ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا،،،اس کے سر پر تو اک بھی بال نہیں،،،یعنی کہ،،،!!!
فارغ البال،،،،،!

ساس جھٹ سے بولیں،،،اسی لیےہم سب کاچاند ہے یہ،،،کون کہتا ہے،،،،
میرا بیٹا گنجا ہے،،،،کبھی چاندکے سر پر بھی بال ہوئے ہیں،،،،
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 882487 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2018 Views: 789

Comments

آپ کی رائے
its real face of our nonsense society but it seems and feels good in this way
By: khalid, karachi on Jan, 10 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jan, 11 2018
0 Like