آزادکشمیر،طبی شعبہ میں پاک فوج کا قابل قدر وقابل تحسین کردار

(Safeer Hussain Kazmmi, )
آزادکشمیر میں پاک فوج کے تحت عوام کو درپیش طبی مشکلات کے تناظر میں مختلف اوقات میں میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔خاص طور پر دُور افتادہ علاقوں میں کے عوام کو سفر اور معاشی مسائل سمیت موسمی رکاٹوں کو سمجھتے ہوئے کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے مقامات پر میڈیکل کیمپس لگائے جائیں ۔جہاں زیادہ سے زیادہ عوام مستفید ہوسکیں ۔اس حوالے سے خاص بات یہ ہے کہ میڈیکل کیمپس میں جُملہ ادویات مفت مہیا کی جاتی ہیں ۔جبکہ دیہی علاقوں میں چونکہ خواتین کی تعداد بھی نمایاں ہوتی ہے ۔اور خواتین کو درپیش بعض مسائل بھی کافی پیچیدہ اور خصوصی توجہ کے حامل ہوتے ہیں ۔چنانچہ پاک فوج کے فری میڈیکل کیمپس کے سلسلے میں جہاں دیگر بیماریوں کے ماہر (سپیشلسٹ)ڈاکٹرز کی خدمات لی جاتی ہیں ۔وہیں گائناکالوجسٹ کی موجودگی کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔تاکہ خواتین کو اپنے طبی مسائل کے سلسلے میں بات کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔چار جنوری2018کو مظفرآباد سے شمال مشرق کی جانب دُور افتادہ علاقہ ریشاں میں پاک فوج کی مقامی میڈیکل بٹالین نے محکمہ صحت/ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طارق فاروق اعوان کیساتھ اشتراک عمل سے ایک میڈیکل کیمپ منعقد کیا ۔پاک فوج کی مقامی میڈیکل بٹالین کے زیر اہتمام ریشاں میں منعقدہ فری میڈیکل کیمپ میں1000سے زائد لوگوں کا چیک اَپ کیا گیا۔پیشنٹ کئیرکا خصوصی خیال کرتے ہوئے خواتین و حضرات کیلئے الگ الگ استقبالیے اور انتظار گاہوں کا انتظام کیا گیا ۔خواتین کے ساتھ آنیوالے چھوٹے بچوں کی دلچسپی کا پورا پورا خیال رکھا گیا ۔ٹافیاں بھی دی گئیں ۔اور ہاتھ دھونے کی اہمیت و ضرورت پر بٹالین کے ایک افسر نے لیکچر بھی دیا ۔ڈی ایچ او ڈاکٹر طارق فاروق اعوان نے میڈیکل بٹالین کیساتھ مکمل تعاون کیا ۔اور میڈیکل کیمپ میں آنیوالی خواتیں کیلئے گائنا کالوجسٹ مامور کی ہوئی تھی ۔جس نے گائنی سے متعلق اُمور بارے تدابیر بھی بتائیں ۔اور ضروری احتاطیں و علاج بھی تجویز کئے ۔جبکہ ڈاکٹر طاہر ،جراثیم سے محفوظ رکھنے کیلئے اور فری میڈیسن فراہم کی گئیں ۔پاک فوج کا متذکرہ میڈیکل کیمپ، بی ایچ یو ریشاں میں لگایا گیاتھاجہاں ریشاں ،شاریاں ،لمنیاں سمیت دیگر دیہاتوں سے بزرگوں ،خواتین ،اور بچوں کی بآسانی رسائی تھی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دُور افتادہ علاقے ریشاں میں پاک فوج کی مقامی میڈیکل بٹالین کے زیر اہتمام میدیکل کیمپ میں آنکھوں کے معائنے اور نظر کمزوری کی صورت میں موقع پر عینکیں فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا گیا تھا ۔ الشفاء ٹرسٹ سے آئی سپیشلسٹ کی خدمات بھی لی گئی تھی ۔ڈاکٹر رفیق ،ڈاکٹر سرجن عابد ،ڈاکٹر اکرام سمیت آرمی کے ڈاکٹرز نے پورا دِن انتہائی مستعدی کیساتھ عوام کو طبی سروسز فراہم کیں ۔جسکی بدولت ایک ہزار سے زائد خواتین و حضرات ،بچوں کو چیک اَپ ،ادویات کی سہولت میسر آئی ۔کیمپ میں آنیوالے معززین علاقہ نے پاک فوج کے مجموعی کردارکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرول لائن کے عوام اپنی بہادر فوج کے شانہ بشانہ موجود ہیں ۔معززین کا کہنا تھا کہ جس میں آرمی اور سول ڈاکٹرز نے مریضوں کو چیک کیا ۔اور ادوویات مفت میں فراہم کی گئی ہیں۔اس پر کمانڈنگ آفیسرلیفٹیننٹ کرنل اعجاز احمداور اُنکے ساتھیوں کی کاوشوں کو مبارکباد کا مستحق سمجھتے ہیں ۔جنہوں نے عوام علاقہ کو شدید سردی میں دہلیز پر طبی سہولت مہیا کی ہے۔۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال موسم گرما میں بھی مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپس لگائے گئے تھے۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ آزادکشمیر کے دُور افتادہ علاقوں میں جہاں طبی سہولیات کی فراہمی کا فقدان ہے ،وہاں پاک فوج کے تحت فری میڈیکل کیمپس کا انعقادایک روایت بن چکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مختلف علاقوں میں عوام کی سہولت کیلئے سال بھر میں پاک فوج کی جانب سے متعدد فری میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں ۔اس حوالے سے خاص بات یہ بھی ہے کہ کنٹرول لائن و ملحقہ دیہاتی علاقوں کے عوام کی سہولت کیلئے گریژن کے تحت خصوصی ترجیح دی جاتی ہے کی جاتی ہے ۔جبکہ عوام بھی اپنے لئے پاک فوج کے ہمہ وقتی انتھک کردار سے بہت متاثر ہیں ۔یہی قوجہ ہے کہ کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں عوام میں پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ دفاع وطن کیلئے کام کرنے کا ایک خاص جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے تحت میڈیکل کیمپس کیساتھ ساتھ سہ ماہی بنیادوں پر ہر ضلعی صدر مقام پر دو/تین روزہ میڈیکل کیمپس بھی لگائے جائیں ۔جہاں سفید پوش ،کم آمدنی والے شہریوں کو تقریباََتمام طرز کے چیک اپ ،اور آپریشنز کیلئے بِلامعاوضہ سہولت میسر آئے ۔اس حوالے سے محکمہ صحت کا کردار بھی منفرد ثابت ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safeer Hussain Kazmmi

Read More Articles by Safeer Hussain Kazmmi: 9 Articles with 3730 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2018 Views: 393

Comments

آپ کی رائے