یاجوج ماجوج سے متعلق عوام میں پھیلے ہوئے چند مغالطے:

(Syed Abdul Wahab Sherazi, )

عوام میں مشہور کہ ان کا ایک کان اتنا بڑا ہوگا کہ اسے پورے جسم پر لپیٹ کر سو جائیں گے۔۔۔ یہ باالکل ہی غلط بات ہے کسی بھی روایت میں اس کا ذکر نہیں۔
یاد رکھیں یاجوج ماجوج دو قبیلوں کا نام تھا جو شاید اصل میں ان کے بانیوں کے اس نام پر مشہور ہوئے۔
یاجوج ماجوج ہماری طرح انسان ہی ہیں۔
یاجوج ماجوج کا قرآن میں دو مرتبہ ذکر آیا ہے ایک سورہ کہف میں دوسرا سورہ انبیاء میں
احادیث میں تقریبا سترہ احادیث مشہور ہیں جن میں ان کا ذکر ہے۔ کہیں پر بھی بڑے کانوں کا ذکر نہیں۔
احادیث میں ان کی تعداد کا ذکر ہے کہ یہ باقی قوموں یا انسانوں سے زیادہ ہوں گے۔
(اس وقت دنیا کی کل آبادی تقریبا سات ارب میں سے ہر چوتھا انسان چینی ہے یعنی سب سے زیادہ آبادی والی قوم چینی ہے)
جب یاجوج ماجوج کا فتنہ عروج پر ہوگا اس وقت وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہم نے (نعوذ بااللہ) اللہ کو بھی ختم کردیا ہے۔۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم اللہ کی بھی منکر یعنی کمیونسٹ ہے۔۔یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جب روس سپر پاور تھا تو وہاں کے کمیونسٹوں نے بھی ایک جنازہ نکالا تھا اور کہا تھا ہم نے اللہ کو مار دیا اب دفنانے جارہے ہیں۔(یاد رہے چائنی بھی کمیونسٹ ہی ہیں)
تاریخی روایات کی رو سے سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یاجوج ماجوج شمال میں ہیں۔ اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ یاجوج ماجوج حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ اور اس بات پر بھی تقریبا اتفاق ہے کہ شمالی علاقوں، روس، چین اور دیگر ممالک والے یافث کی اولاد ہیں۔
لہٰذا یہ کنسپٹ کلیئر کرلیں کہ یاجوج ماجوج کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں بلکہ ہمارے چچا کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں۔
عوام میں جو باتیں مشہور ہیں ان کو سن کر آدمی کے دماغ میں یہ فلم بنتی ہے کہ جیسے ایک ڈیم ہوتا ہے اس کے پیچھے میلوں تک پانی رکا ہوا ہوتا ہے پھر اچانک بند ٹوٹتا ہے تو سارا پانی بہتا ہے اور تباہی مچا دیتا ہے۔ تو شاید یاجوج ماجوج بھی کوئی مافوق الفطرت قسم کی مخلوق ہے جو دیوار کے پیچھے بند ہے اور اچانک دیوار ٹوٹے گی اور یہ پھیل جائیں گے۔
یاد رکھیں مستقبل کی پیشن گوئیوں پر مبنی جتنی بھی احادیث ہوتی ہیں ان میں استعاروں کی زبان ہوتی ہے جو اس وقت کے سامعین کو سمجھانے کے لئے ہوتی ہے۔ جیسے احادیث میں لوگوں کے تسموں اور جیبوں کے بولنے کا ذکر ہے جسے آج ہم موبائل کی شکل میں مشاہدہ کررہے ہیں۔
لہٰذا بعض محقیقن دیوار ٹوٹنے سے مراد خلافت کی دیوار ٹوٹنے کا خیال کررہے ہیں یعنی جب تک خلافت قائم تھی اس وقت تک یہ دنیا کے اس کونے میں بند تھے آگے نہیں آسکتے تھے لیکن اب وہ دیوار گر چکی ہے اور انہوں نے نکلنا شروع کردیا ہے جو اگلی چند دہائیوں تک پوری دنیا میں پھیل جائیں گے۔
آخری بات یہ کہ معلوم نہیں یاجوج ماجوج کا ذکر چھیڑنے سے نون لیگی کیوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ ارے اللہ کے بندو کیا سی پیک بن رہا ہے تو ہم قرآن کی آیات اور یاجوج ماجوج والی احادیث کو پڑھنا چھوڑ دیں۔ نون لیگیوں کو تکلیف ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی اور مانے یا نہ مانے نون لیگیوں کو پکا یقین ہے کہ یاجوج ماجوج چینی ہی ہیں، اس لیے ان کی خواہش ہے کوئی اس بات کو نہ چھیڑے کہیں ہمارے منصوبے بند نہ ہو جائیں۔
ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اللہ کے منصوبوں کو کوئی بند نہیں کرسکتا، سی پیک اللہ کا طویل المیعاد منصوبہ ہے ساری دنیا بھی مل کر اسے ختم نہیں کرسکتی کیونکہ یہ علامات قیامت میں سے ایک ہے
سورہ انبیا آیت 96 میں ارشاد ہے: مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ: وہ ہر اونچائی کے اوپر سے پھسلتے ہوئے چلے آئیں گے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشمِ مسلم دیکھ لے تفسیر حرفِ یَنسِلُوْن!
پتھروں اور جاڑیوں پر پھسلا نہیں جاتا ، ہاں گاڑیاں جب سلک روٹ پر پہاڑوں سے نیچے اتر رہی ہوں گے تو ایسے ہی نظر آئیں گی جیسے کوئی چیز پھسلتی ہوئی آرہی ہے۔
#نکتہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Abdulwahab Sherazi

Read More Articles by Syed Abdulwahab Sherazi: 72 Articles with 45993 views »
Writer, Speaker, Mudarris.
www.nukta313.blogspot.com
.. View More
18 Jan, 2018 Views: 1744

Comments

آپ کی رائے
Arre Bhai Hazrat Zulqar Nain Badshah ne un ko Allah k hukum se Ek ghati k Raste par jo paharo k darmyan he, band kar rakha he, ek a si deewar se Jo Tambe ki bani hui he, RoImranRo
By: Rahmatullah, Larkana on Jan, 19 2018
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ