زہریلی خوراک کی فروخت کون بند کروائے گا؟

(Aslam Lodhi, Lahore)

 ہمارے حکمران وہ کام ضرور کرتے ہیں جو نہ بھی کیے جائیں تو گزارا ہوسکتا ہے لیکن وہ کام ہرگز نہیں کرتے جن کا براہ راست تعلق عوام کی صحت اور تعلیم سے ہوتاہے۔انسانی زندگی میں پانی وہ بنیادی عنصر ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔اﷲ تعالی نے صاف پانی کی نعمت انسان کو بالکل مفت فراہم کی لیکن انسان اتناغافل نکلا کہ اس نے صاف پانی میں بھی آلودگی اور گندگی پھیلانے کا خود اہتمام کرلیا اور بعد میں وہی آلودہ پانی پینے پر خود مجبور ہوگیا ۔ یونیسف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 53 ہزار بچے آلودہ پانی پینے سے مر جاتے ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس اور گردوں کے امراض کی حد سے بڑھتی ہوئی شرح تشویش ناک حدوں کو چھو رہی ہے ۔چیف جسٹس کے لاہور چیمبرز سے حاصل کیا جانے والا پانی بھی زہر آلود نکلا ۔اس سے زیادہ تشویش کی بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔ جبکہ دو تہائی لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں ۔جبکہ 30سے 40 فیصد بیماریوں اور اموات کا باعث آلودہ پانی بنتاہے ۔ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے جہاں کسی ایک کو بھی صاف پانی میسر نہیں ۔ دریائے راوی سے فراہم کیاجانے والا پانی فیکٹریوں کے زہریلے مادوں اور کثافتوں سے بھراہوا ہے حتی کہ دریا کی مچھلی کی ہڈیوں میں دھاتی کثافت کی مقدار انتہائی خطرناک حد تک بڑھی ہوئی پائی گئی ہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی انتہائی موذی بیماریوں کاشکار ہے ۔ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے پنجاب میں فوڈ اتھارٹی قائم کی گئی ۔ جس میں درجنوں افسر اور سینکڑوں ملازمین موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی میں کھانے پینے کی زہریلی چیزیں بازار میں کھلے عام فروخت ہورہی ہیں ۔گزشتہ دنوں قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ تحقیقی رپورٹ پیش ہوئی کہ ڈبے والے دودھ میں کینسر والا کیمیکل موجود ہے ۔اسی طرح مرغیوں (برائلر ) کو بھی جان لیوا بیماریوں سے بچانے کے لیے سنکھیا زہر کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں جون کا گوشت انسانی پیٹ میں پہنچ کر بھی اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے ۔ظلم تو یہ ہے کہ نہ مرغیوں کی خوراک میں شامل زہریلے عنصر کو روکاجارہا ہے اورنہ ہی اس کی فروخت کو ۔ہم اپنے مہمانوں کو بہت اعزاز تصور کرکے کولڈ ڈرنکس پلاتے بلکہ خود بھی پیتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق کوکاکولا ٗ پیپسی کولا سمیت جتنے بھی کولڈڈرنکس اور جوسز مارکیٹ میں فروخت ہورہے ہیں ان کولڈڈرنکس میں فصلوں میں ڈالنے والی کھاد ڈالی جاتی ہے جو انسانی معدوں کی خرابی اور کینسر کی افزائش کا باعث بنتی ہے ۔چیف جسٹس نے زائد دودھ حاصل کرنے کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پابندی کا حکم تو جاری کردیاہے لیکن اب اس کی بلیک میں فروخت کو کون روکے گا ۔ جیسے جیسے موبائل کانٹ ورک پھیلتا جارہاہے اسی طرح موبائل ٹاور کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں بھی موبائل ٹاور جابجا دکھائی دیتے ہیں ۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد نے اپنے دور میں اعتراف کیا تھا کہ موبائل ٹاور کینسر کی ریز چھوڑتے ہیں ۔ ٹاور کے قریب رہنے والے اکثر انسان ان خطرناک ریز کا شکار ہوکر کینسر کے مریض بنتے جارہے ہیں لیکن اعتراف کرنے کے باوجود کسی نے کینسر کی ریز پر قابو پانے کے لیے کوئی اہم اقدام نہیں اٹھایا ۔کیا دنیاکے ترقی یافتہ ممالک میں موبائل ٹاور کینسر کی ریز نہیں چھوڑتے اگر وہاں ماحول ٹھیک رہتا ہے تویہاں ایسے آلات کیوں ٹاور ز میں نصیب کیے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر اثرات انداز ہوتے ہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ڈبوں میں پیک دودھ ٗ کھاد کی ملاوٹ والے کولڈ ڈرنکس اور سنکھیا کے ٹیکے والا برائلر کا گوشت اور بھینسوں کا کھلا دودو پورے ملک میں بھر کھلے عام فروخت ہورہے ہیں۔بطور خاص لاہور میں دودھ کی فروخت ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے ۔ دھڑا دھڑ دودھ کی دکان کھل چکی ہیں کئی دکان دالے تو ایک کلو کی قیمت میں دو کلو دودھ بھی دینے کو تیار ہیں ۔ یہ سب حربے گاہکوں کے معدوں میں زہریلا کیمیکل انڈیلنے کے برابر ہے ۔ نہ جانے فوڈ اتھارٹی کہاں سو رہی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔ کئی مقامات پر ایسے فیکٹریاں بھی پکڑی گئی ہیں جہاں کیمیکل کودودھ کی شکل دے کر بڑے بڑے ٹینکروں میں بھر کر لاہور میں سپلائی کیاجارہا تھا۔ حالانکہ دودھ نام کی کوئی چیز اس میں موجود نہیں تھی ۔ جانوروں کی چربی سے کوکنگ آئل بنانے اور اینٹوں کی کیری کومرچوں میں ملانے کا عمل ہر جگہ آزادی سے دھرایاجارہا ہے۔ جس ملک میں ادویات بھی اصلی نہ ملیں کیا اس ملک کے عوام بیماریوں کاگھر نہیں بنیں گے تو اور کیا ہوگا ۔ ہر شخص کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوچکا ہے کسی کو گھٹنوں میں درد ہوتا ہے تو کسی کے کان ٗ فضائی آلودگی اور غیر ضروری شور (انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے اب تو سبزی اور پھل بیچنے والوں نے بھی لاوڈ سپیکر لگا رکھے ہیں کبھی وہ وقت تھا جب وہ بلند آواز میں اپنی مصنوعات فروخت کیا کرتے تھے ۔حکومت نے مسجدوں کے سپیکر تو بند کروادیئے ہیں لیکن جو کھلے عام خوانچہ فروش لاوڈ سپیکر استعمال کررہے ہیں ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔ بہرکیف دیگر سرکاری اداروں کی طرح ہماری فوڈ اتھارٹی بھی گونگلوں کا مٹی جھاڑکر خاموش ہوجاتی ہے ۔ آلودہ پانی بیماریوں کی جڑ ہے ۔ لاہور شہر میں پینے کا پانی پائپ لائنوں کے ذریعے شہریوں تک پہنچانے سے پہلے اگر ٹریٹ کرلیا ئے پھر نئے پائپ بچھاکر گھروں تک پہنچایاجائے توپینے کے پانی کا مسئلہ ہوحل ہوسکتا ہے۔ ٹریٹ منٹ والا پانی اگر صاف ہوبھی جائے تو گھروں میں پہلے ٗسے نصب پائپوں کے ذریعے آنے والے پانی کو کیسے آلودہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ۔گندے پانی سے کھانے کے برتن دھونے ٗ نہانے اور وضو کرنے سے ٹریٹ منٹ پلانٹ کے صاحف پانی کو پینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طر ح پانی کی آلودگی اور گندگی سے کیسا بچا جاسکتا ہے ۔ چیف جسٹس اگر قوم پر احسان کرنا ہی چاہتے ہیں تو زہریلے دودھ ٗ زہریلے برائلر گوشت کی فروخت بند کروا کر صحت افزاء اور معیاری دودھ ہی مارکیٹ میں فروخت کیاجائے ۔یہ کام صرف چیف جسٹس کا ہی نہیں شہباز شریف کو بھی زہریلی اشیاء خورد نوش کی فروخت بند کرنے میں سخت اقدامات کرنے چاہیئں ۔مارکیٹ میں صرف وہی اشیائے فروخت کی جائیں جن پر فوڈ اتھارٹی کی مہر لگی ہو۔کھلے مرچ مصالحوں اور گھی تیل پر بھی پابندی لگائی جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 575 Articles with 292496 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jan, 2018 Views: 674

Comments

آپ کی رائے