عمران خان کی پارلیمنٹ پر لعنت

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جمہوریت پارلیمنٹ پرہی کھڑی اور قائم ر ہتی ہے۔ پارلیمنٹ وہ جگہ ہے جہاں پر عوام اپنے نمائندے منتخب کرکے بیجتے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے جس میں اقلیت اور مخصوص نشستیں بھی شامل ہے وہ سب لوگ ایک جگہ پر بیٹھ کر عوام کی فلاح وبہبود کیلئے قانون سازی کرتے ہیں ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز پر بحث اور مباحثے کے بعد اس کی منظوری دی جاتی ہے جہاں سے وہ قانون یا بل کی شکل میں سینیٹ جاکروہاں بھی مختلف پارٹی نمائندے اس پر مزید بحث کرتے ہیں اور آخر میں کسی بھی مسئلے یا قانون کو منظوری یا ری جیکٹ کرکے بل کو ختم کیا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں دو سائٹ یا نشستیں ہوتی ہے ایک جگہ پر حکومت اور دوسری نشستوں پر اپوزیشن یا حکومت مخالف نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ حکومت کوئی بھی کام یا قانون سای کرنے کیلئے بل لائے( وہ تر قیاتی ہو یا غیر ترقیاتی)اس پر اپوزیشن کے سوالات اور ان کے جوابات دینا متعلق وزرا اور وزیر اعظم پاکستان کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس کا جواب دے اور ارکن اسمبلی کو مطمین کریں بلکہ اپنی پارٹی کے ممبران کو بھی اس بل کے متعلق آگاہ کریں اور ان کے سوالوں کے جواب دیں کیوں کہ پارلیمنٹ میں حکومت کانہیں بلکہ عوام اور ملک کے فلاح کا سوچا جاتا ہے جو حکومت کے حق میں ہو یا مخالفت میں۔ پارلیمنٹ ہی وہ جگہ ہوا کرتی ہے جہاں وزیراعظم ممبران اسمبلی کی تسلی کریں ۔حکومتی اور اپوزیشن پارٹی دونوں ممبران اسمبلی کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیں۔ یہ پارلیمنٹ کا بنیادی کا م ہے تاکہ جو بھی ملک کے لئے کام ہو وہ پوری غور و خوص کے بعد اورتمام پہلوؤں کا جائز لے کر منظوری دی جائے۔ اس لیے جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی اہمیت ہے اور اس کو عوامی سوچ اور پلیٹ فارم کہاجاتا ہے اور جمہوری نظام کو اسلئے پسند کیا جاتا ہے۔

لیکن پاکستان میں کیا ایسا ہوتا ہے خاص کر موجود نون لیگ کی حکومت ایسا کرتی ہے جس کا جواب مکمل نفی میں ملتا ہے ۔ نون لیگ کی حکومت نے پارلیمنٹ کی اہمیت اور کار کردگی کو بالکل صفر کردیا ہے ۔ سابق نااہل وزیر اعظم میاں نوازشریف اپنے ساڑھے چار سال کی مدت میں اندازتاً25دفعہ اسمبلی گئے ہیں جبکہ اپنے برطانیہ گھرمیں تقریباً75دفعہ گئے ہیں جس وقت میاں نواز شریف پارلیمنٹ گئے ہیں وہ بھی اپنے مقصد کیلئے ناکہ ممبران اسمبلی کو جواب دینے کیلئے۔موجود حکومت نے پارلیمنٹ کو عوام کے حقوق کی بجائے ایک کلب بنایا جہاں بیٹھ کر عوامی نمائندے گپ شپ کریں اور مراعات لیں ایک ممبر اسمبلی تقریباً 20لاکھ سے زیادہ مراعات لیتا ہے اگروہ کسی کمیٹی کا چیئرمین ہو تو بات دوگنی ہوجاتی ہے مراعات میں اضافے کیلئے مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہے جس میں بعض کمیٹیوں کا پروٹوکول ایک وفاقی وزیر کے برابر ہوتا جیسا کہ مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کمیٹی کے بطور چیئرمین مراعات ایک وفاقی وزیر کے برابر ہے جس میں وہ گزشتہ دس سال سے موجود ہے ۔

اس سے بھی بڑھ کر عوام کے ساتھ جو مذاق کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کسی بھی مسئلے کو پارلیمنٹ میں ڈسکس نہیں کیا جاتا ہے صرف قانون میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ عوام ایشوز خصو صاً صحت ، تعلیم مہنگائی ، بے روزگاری ، عوام پر آئے روز نئے ٹیکسز ، غربت کے خاتمے کیلئے منصوبے یا اربوں اور کھربوں روپے کے وہ منصوبے جو ڈبل سود پر قرضے لیے جاتے ہیں جس کا بوجھ براہ راست عوام پرپڑتا ہے کوئی بھی ڈسکس نہیں ہوتا ۔ صحت کی سہولتیں خاص کر صاف پانی عوام کو ملک کے کسی بھی جگہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ہسپتالوں میں علاج کے نام پر جعلی آپریشن دونمبر دوائیاں لینے کیلئے بھی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ۔ پٹرولیم مصنوعات سے لے کر آئے روز عوام پر مختلف ٹیکسز بجلی ، گیس اور آشیاء خوردونوش پرلگائے جاتے ہیں ۔اسلام آباد سے لاہور اور پشاور سے اسلام آباد سمیت تمام ٹول پلازوں پر موٹروے ٹیکسوں میں ڈبل نہیں تین اور چار گنا اضافہ کیا گیا ۔ گزشتہ پانچ سال میں دوائیوں کی قیمتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا یعنی پانچ سال پہلے جو دوا سو روپے کی تھی اب وہ پانچ سو روپے کی ہے ۔ ترقیاتی کاموں کے نام پر کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے لیکن کوئی بھی ایشو یا عوام کے نام پر مفاد کے کاموں کو اسمبلی میں ڈسکس نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح ملک کو درپیش بیرونی چیلنجز کو بھی پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جاتا ۔ ظلم وجبر کی انتہا تو یہ ہے کہ وزیر اعظم کیا ، وزرا بھی پارلیمنٹ میں جا نا اپنا توہین سمجھتے ہیں ۔ الیکشن کے حوالے سے قانون سازی کی اڑ میں خاموشی سے ناموس رسالت ختم نبوت میں ترمیم لائی گئی تاکہ قادیانیوں کو قانونی تحفظ مل جائے ۔ سپریم کورٹ سے ناہل شخص جس کی پوری دنیا میں 300سو ارب سے زیادہ جائدادیں ہے جس کا سپریم کورٹ میں ایک جواب بھی جمع نہیں کیا گیااُس کرپٹ شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کیلئے قانون سازی کی جاتی ہے جس پر عمران خان کہتا ہے کہ میں ایسے پارلیمنٹ پر لعنت بیجتا ہوں جہاں ختم نبوت قانون میں چھپا کر وار ہو اور ایک کر پٹ اور نااہل شخص کو پارٹی سربراہ مقرر کیا جائے تو ہماری ساری جماعتوں کا دشمن عمران خان بنا جاتا ہے، جہاں عمران خان کی بات پر غور کی بجائے ان پرتنقید اور خلاف قرارداد پاس کی جاتی ہے وہاں مجھے نہیں معلوم کہ عمران خان نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تقدس کو کتنا نقصان پہنچا یا جب اس نے ایسے پارلیمنٹ پر لعنت بیج دی جو کرپٹ مافیاز کا سپورٹر اور مفاد عام کا محافظ نہ ہو وہاں پاکستان کے عوام سے جب مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر سروے ہوا تو 100میں سے 70فیصد عوام نے عمران خان کی حمایت کی اور رائے دی کہ اس پارلیمنٹ نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا صرف اپنے مفاد کا خیال رکھاان پر واقعی لعنت ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 126031 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
24 Jan, 2018 Views: 452

Comments

آپ کی رائے