دعوت مبازرت

(Amjad Siddique, Lahore)

وہ لوگ جو پردے کے پیچھے بیٹھ کر پتلی تماشے کیا کرتے تھے۔ ان کی طرف سے کھل کر دعوت مبازرت دی جانے لگی ہے۔اب تک وہ پردے کے پیچھے رہ کر اپنا کام نکال لیا کرتے تھے۔ان کے آلا کاران انہیں سامنے آنے سے بچاتے رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے یہ پتلیاں فیل ہوتی نظر آئیں۔جانے وقت کی ستم ظریفی تھی۔یاکچھ لوگوں کی مت ماری گئی۔جو بھی مہرا آگے بڑھایا یا۔پٹ گیا۔جو چال بھی چلنے کی کوشش کی گئی۔ناکام رہی۔جب چھوٹے موٹے ڈراووں سے بات بتنی نظر نہ آئی تو یہ قوتیں اب کھل کر میدان میں اترنے پر مجبور ہوگئیَں۔پٹے ہوئے مہرے بھی خجالت سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔جتنی ذلالت ان مہروں کو پچھلے کچھ سالوں میں اٹھانا پڑی اس کی مثال نہیں ملتی۔کئی لوگ نیک نامی بھی گنوابیٹھے اور ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔

چئیرمین تحریک انصاف عمران خاں اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے اپنے 17جنوری 2018کے لاہور جلسے سے خطاب کے دوران پارلیمنٹ کولعنتی کہ دینے کی جو فاش غلطی ہوئی تھی بار باراس کا اعادہ کیا جارہاہے۔پہلے توخاں صاحب نے یہ کہاکہ وہ پارلیمنٹ کے لیے لعنتی سے بھی زیادہ بڑا لفظ استعمال کرنا چاہتے تھے۔بعد میں انہوں نے تھوڑا نرم رویہ اپنا نے کا فیصلہ کرلیا۔ پارلیمنٹ کو لعنتی قرار دینے پر تو قائم ہیں۔مگر ان کی توضیحات تبدیل ہوگئیں۔اب وہ پارلیمنٹ کو کبھی چوروں پر مشتمل ہونے کے سبب لعنتی کہتے ہیں کبھی انہیں اس پارلیمنٹ سے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پارٹی صدارت کے لیے قانون سازی کرنے کے سبب لعنتی تصورکیا جارہاہے۔ان کے جوڑی دار شیخ رشید صاحب ا س سے بھی دور کی کوڑی لے آئے۔بولے جس پارلیمنٹ نے ناموس رسالتﷺص کے قانون میں تبدیلی کی اسے وہ لعنتی پارلیمنٹ سمجھتے ہیں۔دونوں قائدین کی طرف سے اپنی ایک غلطی کو تسلیم نہ کرنے کے روش کے سبب بیسو ں نئی غلطیاں کرنے کا یہ رجحان انتہائی نامناسب ہے۔

دونوں کی توجیحات بے وزن بھی ہیں۔اور بے محل بھی۔عمران خاں صاحب پارلیمنٹ کو چوروں پر مشتمل ہونے کے سبب لعنتی قراردیتے ہیں۔مگر اسی پارلیمنٹ میں خود ان کی جماعت کے ممبران بھی شامل ہیں۔ان کے اتحادیوں کی بھی معقول تعداد اس پارلیمنٹ میں شریک ہے۔جانے خاں صاحب کا پیمانہ اخلاق کیا ہے؟ وہ چور کس کس کو کہہ رہے ہیں؟ جانے ان کے نذدیک کون کون سے لوگ چور نہیں ہیں؟ ان کا فارمولہ جانے کیا ہوگا؟ اگر ان کی مراد ان کی جماعت اور ان کے اتحادیوں کے ممبران کے چورنہ ہونے سے ہے۔تو پھر ان کی رائے ان لوگوں سے متعلق کیا ہے۔جو دیگر جماعتوں کے لوٹوں میں سے ہیں جو دھڑا دھڑ ٹوٹ کر تحریک انصاف شامل ہورہے ہیں۔کیایہ لوگ ایمانداروں میں شمار کیے جائیں گے۔یا چوروں میں سے گنے جائیں گے؟ جانے پارلیمنٹ کے کون کون سے لوگ خاں صاحب کے پیمانہ صداقت وامانت پر پورا اتریں گے۔اور کون سے فیل ہوجائیں گے؟جب تک عمران خاں صاحب کو واضح کلیہ نہیں دے دیتے۔تب تک پارلیمنٹ میں موجود چوروں کا تعین ہونا آسان نہیں۔پالیمنٹ کو لعنتی قراردینے والے دوسرے شریف آدمی بھی بے پر کی ہانک رہے ہیں۔ابھی ان کے اسعتفی نہ دیے جانے پر وضاحت تسلیم نہیں ہوپائی تھی کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو لعنتی قراردینے کا ایک نیا سبب ڈھونڈلیا۔بولے کہ جس پارلیمنٹ نے ناموس رسالت ﷺکے بل میں تبدیلی کی اسے بار بار لعنتی کہوں گا۔شیخ صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ ا س قانون میں تبدیلی کی کوتاہی اجتماعی طور پر ہوئی تھی۔اس میں شاید ہی کوئی جماعت بری الذمہ قراردی جاسکے۔ان کی لاڈلی تحریک انصاف ہی نہیں پی پی۔ق لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے یہ غلطی کی۔شیخ صاحب اپنی گونواز گو ٹیم کے ساتھ اس کوتاہی کو حکمران جماعت بلکہ نوازشریف کے گلے ڈالنے پر بضد ہیں۔اگر وہ اس قانون سازی پر احتجاج کرناچاہتے ہیں تو پھر انہیں ساری کی ساری سیاسی جماعتوں پر لعنت بھیج کر کسی جنگل کا رخ کرلینا چاہیے۔

پارلیمنٹ کو لعنتی قراردیے جانا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔دراصل کہ وہ سوچ ہے۔جو پارلیمنٹ کو بے کار و بے وقعت سمجھنے سے متعلق ہے۔اس سوچ کے پیچھے وہ لوگ ہیں۔جوریاست کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ اس مرضی راہ میں کوئی رکاوٹ قبو ل نہیں۔انہیں پالیمنٹ سے اس لیے بیزاری ہے کہ وہ ان کی راہ میں قانونی اور آئینی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔یہ بیزاری اس وقت انتہاکو پہنچ جاتی ہے جب یہاں سے ایسی قانون سازی کی جائے جو ان کے مفادات کے خلاف ہو۔عمرا ن خاں غلط نہیں کہہ رہے۔نوازشریف کو پارٹی صدارت دلوانے والی پارلیمنٹ بھلا کیوں کر قابل قبول ہوگئی۔اسی پالیمنٹ کو لعنتی کہلوانا کچھ لوگوں کی مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتاہے۔پارلیمنٹ سے متعلق اس طرح کی سوچ سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ طبل جنگ بچ چکا۔اپنے پیادوں کے بار بار پٹ جانے کے بعد یہ لوگ اب خود میدان میں اترکر دعوت مبازرت دے رہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 68801 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jan, 2018 Views: 386

Comments

آپ کی رائے