علامہ اقبالؔ کی شخصیت کے تخلیقی عناصر

(Arif Kisana, Sweden)

ڈاکٹر آصف علی عادل علی محمد
سابق صدر شعبۂ اردو ۔ مہاتما گاندھی انسٹیٹیوٹ ۔ ماریشس

علامہ اقبالؔ کی شخصیت ہمہ گیر ہے اور فن کے اعتبار سے ان کا شمار ان شاعروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اردو شاعری میں اس طرح انقلاب پرپا کیا ہے کہ شعر و سخن میں جامعیت ، بلند خیالی ، فکر میں بالیدگی ، سوز و گداز ، درد و کرب ، کششِ الفاظ و تراکیب، جاذبیت اور دیگر اسی قبیل کے عناصر نظر آنے لگے۔ یہی عناصر اقبالؔ کی زندگی کے اس رْخ کا عکس ہیں جسے ہم یقین و ایمان کہتے ہیں۔

اقبالؔ کی شخصیت کو بنانے ، سنوارنے اور پروان چڑھانے میں عصرِ حاضر کے نہ صرف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا ہاتھ نہیں رہا ہے جن میں اقبالؔ نے داخلہ لے کر علومِ عصریہ اور مغربی تعلیم حاصل کی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر اقبالؔ ان تعلیمی اداروں سے استفادہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جاتے اور انہیں علوم و فنون کی علمی موشگافیوں میں اپنی دلچسپیوں کو محدود رکھتے تو زیادہ سے زیادہ فلسفہ ، معاشیات، ادب اور تاریخ کی ایک ماہر استاد اور پروفیسر کا عہدہ پاتے یا ایک بڑے پایہ کے مصنف ، علومِ عصریہ کے ماہر ، صاحبِ اسلوب ادیب یا ایک اچھے شاعر ہوتے یا پھر وہ ایک کامیاب بیرسٹر (barrister) ، ایک اچھے جج یا حکومت کے ایک اچھے وزیر بنتے۔ لیکن شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا ورنہ بہت ممکن تھا کہ زمانہ انہیں بھلا دیتا اور اقبالؔ کو گوشہ ٔ عزلت یا بحرِ گمنامی میں غرق کر دیتا۔

اس کے بر عکس اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اقبالؔ کی ذہانت و عبقریت نے ہی ان کا نام عالمی ادب میں زندۂ جاوید کر دیا ہے۔ اقبالؔ کے کلام میں پوشیدہ پیغامات اور ذہن و دل کو تسخیر کرنے کی طاقت و کشش نے ہی ان کو دوسرے شعراء سے ممتاز کر دیا ہے۔

اقبالؔ کی سیرت و شخصیت، علم و فضل اور اخلاق اس قلبی دبستان کا مرہونِ منت جس میں اقبالؔ نے برسوں زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے۔ علاوہ بریں اقبالؔ کے کلام کا مطالعہ اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ خارجی مدرسہ کی بہ نسبت داخلی مدرسہ نے ان کی زندگی میں درد و سوز ، تب و تاب اور ایک نئی قوت و توانائی بخشی۔
’’ ایمان و یقین ‘‘ وہ پہلا عنصر ہے جو اقبالؔ کو اپنے داخلی مدرسے میں حاصل ہوا۔ یہی ان کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سر چشمہ ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اقبالؔ کا ’’ یقین ‘‘ عقیدہ اور محبت کا ایک حسین امتزاج ہے جو ان کی پوری زندگی پر چھایا ہوا ہے۔

اسی سبب سے اقبالؔ اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت ہی راسخ الایمان تھے۔ ساتھ ہی ساتھ رسول ﷺ کے ساتھ ان کی محبت ، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجے کا تھا۔ لہٰذا رسول ﷺ کی شان میں وہ فرماتے ہیں کہ ؂
وہ دانائے سنبل ، ختم الرسول ، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا

جب اقبالؔ نبیِ کریم ﷺ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا شعری وجدان جوش مارنے لگتا ہے اور ان کی شان میں نعتیہ اشعار ابلنے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محبت و عقیدت کے چشمے پھوٹ پڑے ہوں۔ اس ضمن میں چند اشعار قابلِ غور ہیں ؂

در دلِ مسلم مقامِ مصطفےٰ است
آبروئے ما زنام ِ مصطفےٰ است
ماند شبہا چشم ِ او محرومِ نوم
تا بہ تختِ خسروی خوابیدِ قوم
دخترک را چوں نبی بے پردہ دید
چادر خود پیش روئے او کشید

جوں جوں زمانہ گزرتا گیا ، اقبالؔ کی حضورِ پْر نور محمدؐ کے لئے والہانہ محبت و الفت بڑھتی گئی۔ حتیّٰ کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں نبیؐ کا ذکر آتا تو وہ بے قرار ہو جاتے ، آنکھیں پر آب ہو جاتیں اور آنسو رواں ہو جاتے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اقبالؔ کا یہی وہ ایمانِ کامل اور حبِّ صادق تھا جس نے اقبالؔ کے کلام میں یہ جوش ، ولولہ ، یہ سوز و گداز پیدا کر دیا ۔
شعراء کو ان کی فطری قوتِ شاعری ، لفظوں کا حسنِ انتخاب ، معانی کی بلاغت انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور یہی وہ عناصر کلامِ اقبالؔ کو دیگر نظم گو شعراء سے متفرق کرتے ہیں۔

’’ اقبالؔ کا کلام ہمارے جانے پہچانے شعراء سے بہت کچھ مختلف ہے، اقبالؔ کا کلام ہمارے شعور و احساس ، قلب و وجدان اور اعصاب میں حرکت و حرارت ، سوز و گداز ، درد و تپش پیدا کرتا ہے اور پھر ایک ایسا شعلہء جوالہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے جس کی گرمی سے مادیت کی زنجیریں پِگھل جاتی ہیں ، فاسد معاشرہ اور باطل قدروں کے ڈھیر جل کر فنا ہو جاتے ہیں ، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کس قدر طاقت ور ایمان، پر درد و پر سوز اور بے چین روح رکھتا ہے۔ ‘‘ ۱؂

اقبالؔ کی شخصیت کو تعمیر کرنے والا دوسرا عنصر قرآن مجید ہے جو مسلمان گھر میں موجود تو ہے لیکن جس کی روشنی سے خود مسلمان محروم ہے۔ اقبالؔ کی زندگی پر یہ عظیم کتاب نہایت ہی اثر انداز ہوئی ہے۔ ان کے ہاں قرآن سے شغف، تعلق اور شعور و احساس کے ساتھ مطالعہ کا ذوق بہت زیادہ ہے۔ وہ حسبِ دستور روزانہ ، بعد نمازِ صبح قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

اس سلسلے میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کیا خوب کہا ہے کہ :

’’ علّامہ اقبالؔ نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبْر و تفکر کرتے گزاری، قرآن مجید پڑھتے، قرآن سوچتے ، قرآن بولتے، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا ، اس سے انہیں نیا یقین ، ایک نئی روشنی اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی، جوں جوں ان کا مطالعہء قرآن بڑھتا گیا، ان کی فکر میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی۔ ‘‘ ۲؂

علاوہ ازیں اقبالؔ کی شخصیت کی تعمیر میں عرفانِ نفس اور خودی کا بڑا دخل ہے۔ ان کو خودی کی تربیت اور عرفانِ نفس پر بڑا اعتماد تھا۔ مزید برآں یہ کہنا درست ہوگا کہ اقبالؔ کا تصوّرِ خودی خود ان میں اس قدر رچ بس گیا تھا کہ ان کی زندگی عرفانِ نفس کا نمونہ تھی۔
انہوں نے عرفانِ ذات پر بہت زور دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کے نزدیک انسانی شخصیت کی حقیقی تعمیر منت کشِ خودی ہے۔ اس ضمن میں اقبالؔ کے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں ؂

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا ، نہ بن ، اپنا تو بن
پانی پانی کر گیا مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا ، نہ تن

ان اشعار سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبالؔ کے کلام میں معنوی بلندی کے ساتھ ساتھ لفظوں کی بندش ، ہم آہنگی ، اتار چڑھاؤ ، روانی و تسلسل اور موسیقیت اس قدر ہے کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔

جیسا کہ ہر اردو داں جانتا ہے کہ علّامہ اقبالؔ ایک قادر الکلام اور ماہرِ فن شاعر تھے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں چند اسباب ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :

﴾ وہ ایک فطری شاعر ہیں۔
﴾ ان کی شاعری پر جوش و پر سوز ، معانی کی معنویت اور الفاظ کی شوکت کی آئینہ دار ہے۔
﴾ ان کی شاعری کو عظیم بنانے میں انگریزی او ر جرمن شعر و ادب اور فارسی شاعری کا بھی بڑا دخل ہے۔

جو چیزیں اقبالؔ کو اپنے معاصرین سے ممتاز کر دیتی ہیں، وہ ہیں :

﴾ ان کی شاعرانہ عظمت
﴾ ادبی قوت
﴾ فنی ذہانت
﴾ جبلّی عبقریت
﴾ اسلام کا پیغام
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اقبال ؔ کی شاعری بالخصوص ان کی نظموں نے خوابِ غفلت میں پڑی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا اور ان کے دلوں میں ایمان و یقین کی چنگاری پیدا کر دی۔

اقبالؔ کی شخصیت کو پروان چڑھانے میں خود اقبالؔ کی آہِ سحر گاہی کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ جب سارا عالم خوابِ غفلت میں پڑا سوتا رہتا تو صبحِ صادق یعنی اخیر شب میں اقبالؔ کا اٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہونا، پھر گڑگڑانا اور رونا ، یہ وہ چیزیں ہیں جو ان کی روح کو ایک نیا نشاط اور ان کے قلب کو ایک نئی روشنی عطا کرتی ہیں۔
عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی
نہ چھین لذّتِ آہِ سحر گہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

اس کے علاوہ اقبالؔ جوانوں میں اپنی آہ و سوز اور درد و تپش کو دیکھنے کے خواہاں تھے۔ یہ بات انہوں نے اس طرح اپنی نظم میں پیش کر دی ہے ؂

جوانوں کو مری آہِ سحر دے
تو ان شاہیں بچّوں کو بال و پر دے
خدا یا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
۱؂ مولانا سید ابو الحسں علی ندوی، نقوشِ اقبالؔ، ۱۹۷۶؁ء ، صفحہ ۶۱
۲؂ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، نقوشِ اقبالؔ، ۱۹۷۶؁ء ، صفحہ ۶۲
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Kisana

Read More Articles by Arif Kisana: 242 Articles with 131149 views »
Blogger Express Group and Dawn Group of newspapers Pakistan
Columnist and writer
Organiser of Stockholm Study Circle www.ssc.n.nu
Member Foreign Pr
.. View More
02 Feb, 2018 Views: 413

Comments

آپ کی رائے