تاریخ کا کوڑہ دان (آخری قسط)

(Sami Ullah Malik, )

تشددکاشکاربنائے جانے والے قیدیوں کاکہناتھاکہ جس طرح یہ سب کچھ اچانک ہوگیااس سے صاف پتہ چلتاہے کہ ان تامل پولیس کے بدمعاش اورظالم اہلکاروں کودراصل یہی ٹارگٹ دیکربھیجاگیا،ان کاکہناتھا:ہمیں مارنے والے پولیس اہلکاربلندآوازمیں کہہ رہے تھے کہ'' آؤ ہم سے لڑو ،اب آزادی کے نعرے لگاؤ''کہہ کرانتہائی ظالمانہ اندازمیں اندھا دھندلاٹھیاں برساتے رہے حتیٰ کہ تمام قیدیوں کوخون سے لہولہان کرکے دم لیا ۔سید صلاح الدین کے بیٹے شاہد یوسف کے سرپرتواس طرح وارکئے گئے جیسے اس کوجان سے ماردینے کاپروگرام ہو۔ایک قیدی کے سر سے جب خون کافوارہ پھوٹ پڑاتوفوری طورپراس کے سرپرتین چاریخ ٹھنڈے پانی کی بالٹیاں انڈیل دی پھر داڑھی سے پکڑکردورتک گھسیٹتے لے گئے ۔کشمیری قیدیوں کایہ بھی کہناتھاکہ تامل پولیس اہلکاروں نے کشمیریوں کوتو تشددکانشانہ بنایالیکن ان کے ساتھ آشوتوش مشرا نامہ ہندوکومحض اس لئے چھوڑ دیا کہ اس کی کلائی پرمخصوص دھاگہ بندھا ہواتھا۔

عین اس موقع پر جب اسلامیان کشمیربھارتی جیلوں میں پابندسلاسل اورپابہ زنجیر کشمیری قیدیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طورپرایک دن کی ہڑتال پر تھے۔دہلی کی تہاڑجیل میں نہتے کشمیریوں پرجووحشیانہ تشددکیاگیاوہ بھارت کااستبدادی چہرہ مزیدبے نقاب کرنے کاموجب بناہے۔یہ انتہائی افسوسناک واقعہ مہذب دنیا کیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتاہے ۔ بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ،انسانی حقوق کمیشن ،ایشیاواچ اورایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ منصبی ذمہ دار بنتی ہے کہ وہ مظالم برداشت کرنے والے کشمیریوں کی زندگی محفوظ بنانے میں کرداراداکریں۔تہاڑجیل کے اس واقعے سے چندیوم قبل جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں ایک قیدی کے جسمانی تشددکی تصویر سوشل نیٹ ورک نمودارہونے کے بعد معاشرے کے سنجیدہ فکرحلقوں اورریاستی حقوق کمیشن کی جانب سے تشویش اورفکرمندی کے اظہارکے بعدیہ امیدپیدا ہوئی تھی کہ بھارتی جیلوں سے بربریت پرقدغن کے ذریعے بین الاقوامی اورملکی قوانین کااحترام ممکن بنایاجا سکے گالیکن دہلی کی تہاڑ جیل میں۱۸کشمیری قیدیوں پرجسمانی تشددکے بعد ساری امیدیں ٹوٹ گئیں ہیں۔جیل کے ایک انتہائی نگہداشت وارڈمیں مقیدان قیدیوں کوجن کے معاملات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں،بے تحاشہ تشددکرکے لہولہان کر دیاگیاہے۔

اس واقعے کاشائدکسی کوعلم ہی نہ ہوتااگردہلی ہائی کورٹ میں ایک وکیل کی جانب سے اس حوالے سے مفادعامہ کی درخواست نہ دائر کی جاتی جس پر مذکورہ عدالت نے سخت تشویش کااظہار،معاملے کوسنجیدہ قراردیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی رپورٹ میں قیدیوں پرکئے گئے جسمانی تشددکی تصدیق کی ہے جس کے نتیجے میں دہلی ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ نے معاملے کی سنجیدہ تفتیش پرزوردیتے ہوئے زخمی قیدیوں کو معائنہ کرانے کیلئے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدائت جاری کی۔ان قیدیوں کی جوتصاویرسامنے آئی ہیں وہ اس بات کی مظہرہیں کہ ان کی مار پیٹ کرتے وقت کسی قسم کالحاظ نہیں کیاگیا۔ان قیدیوں کے جسم کے تمام حصوں پرزخموں کے نشانات نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔مذکورہ تصاویردیکھ کرہر دردمند دل دہل گیااورہرشخص سوچنے لگاکہ یہ جیل انتظامیہ کی انتقامی سوچ کاکھلامظہرہے۔

اگرچہ بھارتی سپریم کورٹ نے متعدد مرتبہ اس نوعیت کی شکایات پرسماعت کے دوران میں حکومتوں پرنہ صرف جیلوں کے اندرانسانی حقوق کا احترام ممکن بنانے پرزوردیابلکہ اس حوالے سے پامالیوں کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے پر بھی زوردیاگیاجبکہ ہائی کورٹس کوبھی جیلوں کی صورتحال اور قیدیوں کے حالات پرنظررکھنے کیلئے کہاہے لیکن اس کے باوجودکشمیرکے اندراوربیرونِ کشمیربھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں پرظلم وتشددکاسلسلہ جاری ہے۔آئے روزجیلوں کے اندراسیرانِ کشمیرکوذہنی اور جسمانی تشددکانشانہ بنایا جارہا ہے لیکن عالمی سطح پرکبھی بھی زوردار انداز میں ان کاسنجیدگی سے نوٹس نہیں لیاگیا۔ ریاستی حقوق کمیشن نے کوٹ بھلوال جیل میں پیش آنے والے واقعے کاازخودنوٹس لیکرجیل خانہ جات کے کٹھ پتلی ریاست حکام کوواقعے کی تحقیقات کرکے ایک ماہ کے اندراندررپورٹ پیش کرنے کی ہدائت کی تھی لیکن اس پرابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور ماضی کی طرح کمیشن کی ایسی ہدایات کونظراندازکیاجاتارہاہے۔تہاڑجیل معاملے کا چونکہ دہلی ہائی کورٹ نے سنجیدہ نوٹس لیاہے ،اس لئے ہو سکتاہے کہ خلاف قانونی کاروائی کے مرتکبین کوقانون کے کٹہرے میں کھڑاکردیاجائے۔

تہاڑجیل میں کشمیری قیدیوں پربدترین تشددکے بعدمقبوضہ کشمیرمیں یہ مطالبہ زورپکڑرہاہے اوراس کیلئے بڑے پیمانے پراحتجاج اورہڑتالیں بھی کی جا رہی ہیں کہ کشمیری قیدیوں کو بھارتی جیلوں سے کشمیرکی جیلوں میں بھیجاجائے ۔حریت کانفرنس کے بزرگ رہنماء جناب سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اوریٰسین ملک نے اقوام متحدہ ،ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ اورریڈکراس کمیٹی جیسے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کاسختی سے نوٹس لیں اور بھارتی حکومت پر دباؤبڑھائیں کہ وہ بے گناہ کشمیری قیدیوں کورہاکرے اور انہیں کشمیرکی جیلوں میں بھیجاجائے ۔حریت قائدین نے یہ بھی واضح طورپر کہا ہے کہ اگرکشمیری قیدیوں میں سے کسی جان ومال کونقصان پہنچاتواس کے نتائج بے حدسنگین ہوں گے اور پھر پورے کشمیرمیں ایک بڑی تحریک کے زور پکڑنے کوکوئی نہیں روک سکے گا۔جموں وکشمیربارایسوسی ایشن نے بھی اس حوالے سے بھرپورآوازبلندکرتے ہوئے کشمیری قوم کومتحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس حوالے سے مضبوط آوازبلندکرے اوردنیاکی سب سے بڑی فراڈ جمہوریت کی دعویدارمودی سرکارکے ظالمانہ چہرے کوعالمی سطح پربے نقاب کرے۔کشمیریوں کی تحریک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے اوراسی حوالے سے اقوام متحدہ کی درجنوں قراردادیں موجودہیں۔

ادھرقصرسفیدکافرعون ٹرمپ بھارتی دہشتگردی سے نظریں چراتے ہوئے متعصب مہاسبھائی مودی کی پیٹھ ٹھونکنے میں مصروف ہے اورپاکستان سے کہا جارہاہے کہ وہ بھارت کو مطمئن کرے۔اس کایہ دہرامعیارواضح کرتاہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں بھارت کوقصرسفیدکے فرعون کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اورکشمیرکی تحریک آزادی کوکچلنے کیلئے وہ بھارت کو ہرممکن مددفراہم کررہاہے لیکن مظلوم کشمیریوں نے اپنی لازوال قربانیوں سے تحریک آزادی کوجس موڑپر پہنچادیاہے اسے اب طاقت کے بل پرکچلناممکن نہیں۔کشمیری قوم کے ہرفردکے دل ودماغ میں غاصب بھارت کے خلاف نفرت کاالاؤ دہک رہاہے۔کشمیرکاہرگھرکسی نہ کسی حوالے سے بھارتی ظلم وستم سے متاثرہے۔انہیں کسی قسم کے لالچ، تشددیاقتل وغارت گری سے ڈرا دہمکاکرتحریک آزادی سے پیچھے ہٹانے پرمجبورنہیں کیاجاسکتا ۔

کشمیری قائدین کے خلاف بھی بھارت سرکاراپنی خفیہ ایجنسیوں کااستعمال کرتے ہوئے جس طرح کی سازشیں کررہی ہے اورانہیں عدالتوں کے ذریعے سزائیں دلوانے کے جومذموم ارادے رکھتی ہے ،اس میں انہیں ہرگزکامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔کشمیری قوم پاکستان کواپناسب سے بڑاوکیل سمجھتی ہے چونکہ کشمیری حریت پسندتکمیل پاکستان کی جنگ میں قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کررہے ہیں اس لئے پاکستان کوکشمیری بھائیوں کی وکالت کا فرض سرانجام دینے میں ذرّہ بھرتوقف،تاخیراورتکلف ایک ناقابل تلافی جرم ہوگا جس کیلئے خودپاکستانی عوام ان لیڈروں کاایسامحاسبہ کرے گی کہ تاریخ کاکوڑہ دان بھی ان کواپنے ہاں پناہ دینے میں شرمندگی اورخجالت محسوس کرے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225664 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2018 Views: 359

Comments

آپ کی رائے