شرک و بدعت سے پاک معاشرہ پرامن معاشرہ

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ایسی صورت میں بندہ بہت ساری تنظیموں کا شکار ہوتا ہے اور اس کو علم ہی نہیں ہونے دیا جاتا اور ٹینشین اور ڈپریشن کا شکار ہوکر جب وہ اول فول بکنے لگتا ہے یا گالیاں دیتا ہے تو اس کے خلاف توہین عدالت کا ایشو اٹھایا جاتا ہے اور عدالتوں میں بحثیں ہوتی ہیں کہ اس کا کیا کیا جائے اور پھر اس کا فائدۃ اٹھایا جاتا ہےاور بڑے بڑے وکیلوں کو ہائر کرکے کیس کو پیچیدہ کر دیا جاتا ہے اور پھر کہانیاں اور ڈرامے اور فلمیں اور زیادہ بنائی جاتی ہیں اور ایک طرح سے ایک ایموشنل بلیک میلنگ ہوتی ہے اور اس کو ایک بڑا مذہبی رہنما بنا دیا جاتا ہے اور وہ ایک کٹھ پتلی کی طرح کافروں کی پالیسیاں لانچ کرتے ہیں اور افسر شاہی کی مرضی کے مطابق اس کو پرٹوکول دیا جاتا ہے اور بدلے میں اس کا خاندان اور مذہب گروی رکھا جاتا ہے اس کے اثاثے منجمد کر دئے جاتے ہیں اور تحقیقات اور انکوائری کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور بدلے میں جن احکامات کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کے بارے میں یہ بیانات جاری کرائے جاتے ہیں کہ اسلام ایک پرانا مذہب ہے -

اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے اور ظلم ایسی چیز ہے جس سے معاشرہ بدامنی اور فتنہ و فساد کا شکار ہو جاتا ہے اور برے اثرات بڑھتے جاتے ہیں اسی مصیبت میں آج کے دور میں مغرب کا معاشرہ ہے یورپ امریکہ اٹلی فرانس آسٹریلیا انگلینڈ کینیڈا انڈیا چائنہ کے معاشروں میں یہ بہت زیادہ خرابیاں پائی جاتی ہیں فتنہ و فساد قتل وغارت بے حیائی فحاشی وعریانی ان ملکوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے غربت بھی بہت ہے اور خودکشی کے واقعات بھی ان ملکوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں اور جسم فروشی کا گھناونا کاروبار بھی عروج پر ہے اور ناچ گانا شراب نوشی حرام خوری اس طرح عام ہے جیسے اسلامی ملکوں میں کولڈ ڈرنک ہاٹ ڈرنک چائے کافی وغیرہ استعمال ہوتے ہیں لیکن ان لوگوں کی سازش ہی ایسی ہے کہ وہ بہت ہی سکون و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں جس کو دیکھ کر غریب ملک ان لوگوں جیسا بننا چاہتے ہیں اور خاص طور پر اسلامی تاریخ سے فائدہ اٹھانے میں وہ بہت پیش پیش رہتے ہیں اور ہر چیز کو کاروبار کے طور پر کرتے ہیں اور فلموں اور ڈراموں اور گیموں اور کھیلوں کو ہی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں اور خبروں میں بہت زیادہ سسپینس ڈال کر فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ہر کام میں عدل و انصاف کے نام پر دخل اندازی کی جاتی ہے اور اس وقت تک دخل اندازی کی جاتی ہے جب تک سامنے والا یہ نا کہے کہ جو مرضی کرلو تو پھر چھوڑتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہے تم کہتے تو جو مرضی کر لیتے ہیں اب تم ہمارے نقصان کے ذمّہ دار ہو گے دنیا میں ہو یا آخرت میں اور اس تماشے کی کہانیاں ڈرامے اور فلمیں بنا کر اور گیمیں بنا کر کمائی کرتے ہیں اور پھر سلسلہ شروع ہوتا ہے خبروں کا کہ فلاں ذمّہ دار بندے نے استعفٰی دے دیا ہے اور مذکورہ بندہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ جان چھوٹ گئی ہے مگر وہ اس کی بدبختی کی شروعات ہوتی ہے

اس کو کھانے کو بھی دیتے ہیں رہنے کو بھی دیتے ہیں اور دوسری عیاشیوں کے لئے بھی موقع دیتے ہیں اور ان کی نگرانی کرا کر خبروں پہ خبریں ایشو پہ ایشو بنائے جاتے ہیں اور سب سہولتوں کا اس پر قرضہ بھی چڑھایا جاتا ہے اور اس طرح جب ان کا کاروبار زیادہ ترقّی کرتا ہے تو اس کو زیادہ قرضی بھی فراہم کیا جاتا ہے یہ ساری چیزیں اس لئے اس کی ساتھ کی جاتی ہیں کہ وہ مذہب کی بات کرنے کے قابل ہی نا رہے اور ایک ہارا ہوا اور فیلئر انسان بن کر جیے اور ہمارے کاروبار کے لئے یوز ہوتا رہے یہ ایک طرح کی بلیک میلنگ ہی ہوتی ہے جو سب کے سامنے ہو رہی ہوتی ہے مگر کوئی کر کچھ نہیں سکتا

ایسی صورت میں بندہ بہت ساری تنظیموں کا شکار ہوتا ہے اور اس کو علم ہی نہیں ہونے دیا جاتا اور ٹینشین اور ڈپریشن کا شکار ہوکر جب وہ اول فول بکنے لگتا ہے یا گالیاں دیتا ہے تو اس کے خلاف توہین عدالت کا ایشو اٹھایا جاتا ہے اور عدالتوں میں بحثیں ہوتی ہیں کہ اس کا کیا کیا جائے اور پھر اس کا فائدۃ اٹھایا جاتا ہےاور بڑے بڑے وکیلوں کو ہائر کرکے کیس کو پیچیدہ کر دیا جاتا ہے اور پھر کہانیاں اور ڈرامے اور فلمیں اور زیادہ بنائی جاتی ہیں اور ایک طرح سے ایک ایموشنل بلیک میلنگ ہوتی ہے اور اس کو ایک بڑا مذہبی رہنما بنا دیا جاتا ہے اور وہ ایک کٹھ پتلی کی طرح کافروں کی پالیسیاں لانچ کرتے ہیں اور افسر شاہی کی مرضی کے مطابق اس کو پرٹوکول دیا جاتا ہے اور بدلے میں اس کا خاندان اور مذہب گروی رکھا جاتا ہے اس کے اثاثے منجمد کر دئے جاتے ہیں اور تحقیقات اور انکوائری کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور بدلے میں جن احکامات کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کے بارے میں یہ بیانات جاری کرائے جاتے ہیں کہ اسلام ایک پرانا مذہب ہے -

یہ ساری کاروائی جاری رہتی ہے جیسا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بیان جاری کیا تھا کہ جہاد کا مطلب دہشت گردی نہیں ہے پلکہ مقدّس جنگ ہے لیکن اس بات کو اتنی پذیرائی نہیں دی جاتی اور اس طرح کی بہت ساری باتوں کو چند دن موضوع بحث بنایا جاتا ہے مگر جو ایک روش چل چکی ہے اس کو ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اس بات کو یہ معنی پہنائے جاتے ہیں کہ جو امریکی اتّحادی فوج کر رہی ہے وہ ہی جہاد ہے اور اس کا مطلب مقدّس جنگ ہے مسلمانوں کا جہاد دہشت گردی ہے اور اگر وہ اتّحادی فوج کی چاکری کریں اور ان کے اتّحادی بن کر جئیں اور حق نمک ادا کریں تو وہ جہاد اور مقدّس جنگ میں شامل ہیں اور وحدت بھی اسی بات کو کہا جاتا ہے اور جو جدید یونائٹڈ نیشنز کو اہل توحید نہیں مانتا اس کو مشرک کہا جاتا ہے اس بات کو بڑے سکالر پروفیسر اور کالمسٹ تجزیہ نگار میڈیا پر بیان کرتے ہیں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آواز خلق نکّارہ ء خدا اور پوری دنیا کی قوّتیں جو انسانی حقوق کے اصول بناتی ہیں وہ ہی توحید اور امریکی صدر کی بات اور فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے اور جیسا بھی ہے جو حکمران فیصلہ انصاف پر مبنی کرتا ہے وہ ہی خدائی فیصلہ ہے چاہے کبیرہ گناہوں کو جائز اور ٹھیک اور جدید وقت کی ضرورت قرار دے دے اور سب کچھ جائز ہونا چاہیے بس کسی کا دل نہیں ٹوٹنا چاہے کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے کسی کو کوئی شکائت نہیں ہونی چاہیے یہ باتیں انصاف پر مبنی کیسے ہوسکتی ہیں جن میں غریب غریب تر ہوتا چلا جائے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جائے غریب پسی خرچ کرے تو انصاف مل سکتا ہے ورنہ مظلوم ہے تو اپنی غلطیوں کی وجہ سے مظلوم ہے امیر لوگوں کو خوش کرتے رہنا اور ان کے لئے یوز لیس بنتے چلے جانا اس کا مقدّر ہے جیسے جانور انسانوں کی خدمت کے لئے بنے ہیں ایسے ہی غریب امیروں کی خدمت کے لئے بنے ہیں وہ زندہ رہنے کے لئے امیروں کی ملازمت کرتے چلے جائیں اور ان کے بچّے اور آنے والی نسلیں امیروں کی خدمت کرتی رہے اور ایسے ہی مر جائے یہ نتیجہ نکلتا ہے کبیرہ گناہوں کا یہ کیسا انصاف ہے -

ان وجوہات سے تو دہشت گرد اور ڈاکو جنم لیتے ہیں اور خودکش حملوں کی بھرمار ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ کے دین کو اگنور کیا جاتا ہے جس سے اللہ پاک کا عذاب نازل ہوتا ہے یہ باتیں آج کل زیادہ مشہور ہو رہی ہیں کہ مذہب کا نام ہی نا لیا جائے تاکہ نا مذہبی انتہا پسندی ہو اور ناشرک کا خطرہ پیش آئے نا کوئی مذہب کا نام لے اور نا جنّت جہنّم کا جھگڑا شروع ہو گا کونکہ یہ کوئی بھی نہیں جانتا کون جنّتی ہے کون جہنّمی ہے بلکہ سائنس دان جانتے ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرے گا اور جس کو دجال بادشاہ جہنّم میں پھینکے گا وہ ہی جہنّمی ہوگا جس کو دجال صفت بادشاہ جنّتی قرار دے گا وہ ہی جنّتی ہوگا یہ سوچ موجودہ دور کے بادشاہوں کی اور دنیا کے دانشوروں کی ہے جیسے فرعون نسل در نسل صدیوں تک غریبوں کو اور خاص طور پر بنی اسرائیل کو ظلم و تشددّ کا نشانہ بناتا رہا ہے اور جو بھی ان مظلوموں کی مدد کی بات کرتا تھا اس کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور اس کو قتل کر دیا جاتا تھا اور انتہا پسند اور دہشت قرار دیا جاتا تھا اسی طرح سے دجّال بھی صدیوں تک نسل در نسل اللہ کو ماننے والوں اور غریبوں کو ظلم و تشدّد کا نشانہ بناتے رہیں گے اور فراعین بھی اپنے یعنی انسانوں کے بنائے ہوئے دین کے مطابق انصاف کے نام پر ظلم کرتے تھے اور دجّالین بھی انسانوں کے بنائے ہوئے دین کے مطابق انصاف کے نام پر ظلم ڈھاتے رہیں گے اور یہ کیفیّت ہے آج کل کے انصاف کی کہ ظالم اور مظلوم کا پتّہ لگانے کے لئے ریوالور میں ایک گولی ڈال کر اس کو گھما دیا جائے اور کہا جائے کہ دونوں میں سے ایک زندہ رہے گا باری باری کنپٹی پر پستول رکھ کر ٹریگر دبایا جائے جو مجرم ہوگا وہ گولی کا شکار ہو جائے گا کیا یہ انصاف ہے یا جوا ہے

یہ انصاف کا طریقہ آج کل فلموں میں دکھایا جاتا ہے اس میں اس بات کو لیکر کہ کوئی آدمی یہ بات آکر بیان کرتا ہے کہ مجھ سے جادو کے ذریعہ سے جرائم کرائے گئے ہیں اور میں اقبال جرم کرتا ہوں تو بجائے اس کے کہ بند کمرے میں اس کو خود گولی مارنے کا کہا جائے بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق زمین میں گاڑ کر سنگسار کیا جائے یا گرد ن کاٹی جائے اور لوگوں کو عبرت کا منظر دکھایا جائے کوڑے مارنے کی سزا ہوتو سرعام کوڑے مارے جائیں کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اس کو شریعت کے مطابق سزا دی جائے اور جادو کرنے والا صرف ایک آدمی کو تو نشانہ نہیں بناتا بلکہ وہ ایک خاندان اور ایک قوم اور ایک شہر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور جادوگر کا کام یہ ہی ہوتا ہے وہ اپنے جادو اور اثروسوخ کے ذریعہ سے حدود اللہ کا نفاذ روک دیتا ہے اور پھر حدود اللہ کو ایک کاروبار بنا لیا جاتا ہے اور اپنے مفادات کی خاطر غلط رنگ دے دیا جاتا ہے گنہ گار کو دولت اور دنیاوی فائدہ کے لئے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایک بے گناہ کو مار کر زمین میں گاڑ کر اس پر مزار بنا کر شرک کا اڈا بنا لیا جاتا ہے اور صاحب کرامت قرار دے کرمیلے ٹھیلے اور چڑھاوے چھڑھائے جاتے ہیں اور مشرکوں کے مثال کے طور پر ہندوستان میں اس کے بت بنا کر اس کی پوچا کی جاتی ہے اور گھر گھر اس کو دیوتا بنا کر اس کی مورتیاں سجادی جاتی ہیں اور ان کی پوجا کی جاتی ہے پرساد چڑھائے جاتے ہیں اس طرح سے اللہ کے دین کو مشکل سے مشکل بنا دیا جاتا ہے اور پھر اللہ کی طرف سے آسمانوں سے پتھروں کی بارش ہو جاتی ہے یا کوئی پڑا پتھر زمین پر اللہ کی طرف سے گرا کر ملیا میٹ کر دیا جاتا ہے جیسا کہ ایک مذہبی فلم میں ہیرو یہ بات کہہ کر حد کا نفاذ روک دیتا ہے کہ وہ آدمی پتھر مارے جو خود گناہ گار نہیں ہے کیا یہ ایک اللہ کو یہ دعوت نہیں ہے کہ اللہ اور فرشتے ہی گناہوں سے پاک ہیں وہ ہی پتھر ماریں اور پوری قوم کو ہی تباہ کر دیں پوری بستی کو ہی ملیا میٹ کردیں شیطان ایسا ہی چاہتا ہے -

کہ گناہوں کا سلسلہ رکنے نا پائے حتّی کہ لوگوں کا حدود اللہ سے ایمان ہی ختم ہوجائے اور یہ سوچ آم ہو جائے کہ گناہ کرتے جاو کرتے جاو جب زندگی سے اکتا جاو تو خود کو ختم کرلو اور خود کو سزا دے کر جنّت میں چلے جاو کیا یہ انصاف ہے خود پر ہی حد نافذ کرو تو کرو ہم فرقہ بندی کی وجہ سے حدود نافذ نہیں کرسکتے کیونکہ اب وہ زمانہ نہیں رہا اس لئے جیو اور جی بھر کے جیو اور امید پہ دنیا قائم ہے نیّت ٹھیک رکھو اللہ پاک معاف کرنے والا ہے اور جنّت میں داخل کر دے گا جیسے کوئی ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچّہ آگ میں جلے اللہ جو ستّر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ اپنے بندوں کو ہر گز عذاب نہیں کرے گا اور حدیثیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کو مایوسی سے بچانے کوشش کی جاتی ہے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لئے اللہ کے دین میں تبدیلی کر دی جاتی ہے اور جو لوگ کافروں کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں اور ان کو برما اور اراکان اورفلسطین کی طرح اور کشمیر کی طرح ہزاروں لاکھوں لاشوں کو گرایا جاتا ہے اور مسلمان مایوسی سے بچنے کے لئے بدعتیں ایجاد کر رہے ہوتے ہیں اگر حکومت اللہ کے دین کو نافذ کرے اور بڑی تعداد میں مجاہدین کو تیار کریں جو ملک کی فضا اور امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنائیں تاکہ لوگ کافروں کے ملکوں سے ہجرت کر کے آئیں تو ان کو بھی اسلامی فوج میں شامل کیا جائے تو اللہ کی رحمتیں جو ش میں آئیں گی اگر ہم کافروں سے ڈر کر ان کے ساتھ شامل ہو کر مظلوم مسلمانوں کو مارتے اور جلاتے جائیں گے تو دنیا میں تو ذلّت و رسوائی کی زندی جی ہی لیں گے مگر آخرت میں مظوموں کا ہاتھ ہوگا اور مسلمانوں کا گریبان ہوگا تو اس کا یہ حل پیش کیا جاتا ہے ہم غیر مسلم بن کر مظلوم بن جاتے ہیں تو ہم گریبان کو محفوظ کر لیں گے اور اسلام کے ٹھیکیداروں کوسزا بھگتنی پڑے گی جیسے بنی اسرائیل نے ہجرت کی تھی تو ان پر بھی جہاد کا حکم نازل ہوا تھا اور نافرمانی کرکے اللہ کے غذب کا شکار ہوئے تھے اب وہ جہاد کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس وقت بھی ہم نے جہاد کیا تھا اور اب تاریخ کو ظالم مکّار اپنے حق میں کر لیا ہے اور مجرم مسلمانوں اور عیسائیوں کو بنا دیا ہے اور وہ کہتے ہیں اصل مقدّس جنگ یہ ہے کہ گریٹر اسرئیل کا قیام وجود میں لایا جائے اور ان کے حکمران ہی دجّال بنتے ہیں اورانصاف کے نام پر ظلم کا بازار گرم کرتے ہیں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 83016 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Feb, 2018 Views: 356

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ