عدل گیا بدل ؟

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

یہ کس کی خواہش تھی کہ چلتا کاروبار بند ہو جاے اور چلتی معیشت جھٹکے لینے لگے اور چلتی حکومت کو چلتا کر دیا جائے اور یہ ممکن نہ ہو تو اس کے سربراہ کو ہاتھ ملتا کر دیا جائے -

بڑے دن بعد دنیا میں ایک وقار بنا تھا جو جو کسی ذی وقار اور ساری دنیا پر سوار ٹرمپ کردار کی آنکھ میں کھٹک رہا تھا اور وہ خود اپنے ملک میں ہی بھٹک رہا تھا اور اکثریت طبقہ اپنے زہنوں سے جھٹک رہا تھا اور ایک لومڑ زہنیت سربراہ بھی برابر میں کھڑا تھا جو کبھی دہشت میں بڑا تھا کہ یہی نا اہل اس سے ایٹمی دھماکے کی دوڑ میں لڑا تھا اور جنگ کی جگہ امن چاہتا تھا -

ان سب کو یہ ناپسند تھا کہ چین کے ساتھ مل کر یہ چین کی بنسری کیوں بجایں اور معاشی راہداری کیوں بنایں اور لاکھوں کو روزگار کیوں ملےاور اس حکومت نے اپنے اداروں کی کارکردگی سے امن کیوں قایم کیا شہروں اور سب سے بڑے شہر میں خصوصاً اور عوامی منصوبے کیوں بن رہے ہیں اور بجلی کے منصوبے کیوں پروان چڑھ رہے ہیں -

اور آخر کار عدالت میں گھسیٹنے کا فیصلہ کیا اور ایک عجیب فیصلہ آیا جس پر آج بھی بحث جاری ہے اور جاری رہے گی اور دلیل سے عاری رہے گی -

لیکن عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں کہ ان کے فیصلے کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے اور کچھ تو انہوں نے ضمنی انتخاب میں جھلک دکھا دی ہے اور کچھ اگلے انتخاب میں دکھا دینگے -

کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے اور اب کیا ہوت جب چڑیاں چُک گئیں کھیت لیکن ابھی بہت کچھ ہونا ہے اور بہت کچھ ہو سکتا ہے اور ایک بولتی چڑیا اس نااہلی سے برامد ہو چکی ہے جس نے ابھی بہت کچھ کہنا ہے اور اس کھیت میں عوامی چڑیوں نے بہت سا چُگنا ہے جو کھیت چین کے ساتھ تعاون سے لگایا جا رہا ہے -

عدل اپنا کام درست کر رہا ہے اور بہت سی اچھی تبدیلیاں بھی آرہی ہیں اور بہت کچھ ادل بدل ہورہا ہے اور کسی حد تک آزاد بھی ہوا ہے مگر کوی حد ابھی اس پر نافز ہے جس سے آگے بڑھنا اس کے لیے مشکل ہے یا شائد انصاف اندھا ہوتا ہے اور اس کے سامنے ایسا کچھ پیش کیا گیا جو صدیوں پرانا ہونے کی وجہ سے دھندلا گیا تھا اور اس دھند میں اسی قسم کا فیصلہ ممکن تھا-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 28 Articles with 11653 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Feb, 2018 Views: 349

Comments

آپ کی رائے