تقابل کاغلط فارمولہ

(Amjad Siddique, Lahore)

ریاست قانون اور آئین کے طے کیے راسطے پر چلائی جائے تو یہ مضبوط ہوتی ہے پنپتی ہے اور ترقی کی منزل پاتی ہے۔ہم اہل مغرب کی ترقی کی جب بھی بنیادی وجہ ڈھونڈتے ہیں توسوائے اس کے کچھ نہیں پاتے کہ ہماری نسبت وہاں قانون کی حکمرانی زیادہ ہے۔باوجود ہزارہا دیگر قباحتوں کے اہل مغرب میں قانون کے احترام کا ہم سے زیادہ ہے۔وہاں طاقت کے اونچے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے بھی قانون کااتناہی احترام کرتے نظر آئے جتناعام آدمی کرتاہے۔ہمارے ہاں یہ روایت موجودنہیں یہاں قانون کے احترام کے لیے کسی کا کمزور اور بدحال ہوناضروری ہے۔کوئی جتنا طاقتور اور مالدار ہوگا۔قانون کے احترام سے استثنی اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا۔لوگوں کے ساتھ ساتھ حکومتی ادارے بھی عدم پرسش کے اس رجحان میں ایک دوسرے کی اہمیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔اس قدر بد اعتمادی ہے کہ ایک دوسرے کا دست وبازو بن کر ریاست کو کوئی آسر ادینے کے ایک دوسرے کو ناکام کرنے میں دلچسپی لی جارہی ہے۔اس قدر کنفیوژن قائم ہوچکی کہ چھوٹے بڑے کا فرق مشکل ہوچکا۔کون سا ادارہ برتر اور مقدم ہے طے کرنا مشکل ہوچکا۔بظاہر پالیمنٹ سب سے محترم ادارہ قراردیا جاتاہے۔مگر جس طرح سے دوسرے ادارے پارلیمنٹ کے معاملات کو باربار روند رہے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں اداروں میں منزلت کا جو تقابلی فارمولہ طے ہے۔اس پر نظر ثانی کی گنجائش موجود ہے۔

سابق وزیر اعظم اور عدلیہ کے درمیان معاملات تلخی کی طرف جارہے تھے۔اب یہ تلخی اپنی انتہا تک پہنچتی نظر آرہی ہے۔نوازشریف نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کچھ لوگ انہیں پارٹی صدارت سے محروم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ایسے فیصلوں کو نہیں مانوں گا۔کچھ اسی قسم کے ریماکس عدالتوں سے آرہے ہیں۔ چیف جسٹس کی جانب انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017کے خلاف درخواستوں کی شنوائی کے دوران یہ ریماکس دیے گئے کہ چور کو پارٹی یاپارلیمنٹ کا سربراہ نہیں مانتا۔نوازشریف اور چیف جسٹس کے ریمارکس حالات کی سنگینی کا پتہ دے رہے ہیں۔ابھی کل ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ ہمیں کوئی نکال نہیں سکتا۔ایسا ہوا تو عوام ہماری ریڑھ کی ہدی بنیں گے۔عوامی حمایت ہونے کا دعوی سابق وزیر اعظم کی طرف سے بھی کیا جارہاہے۔ان کے جلسے ان کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔قریبا سبھی ضمتی الیکشن کے نتائج ان کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔عوام کی جانب سے نوازشریف کے نمائدے کو کامیاب کروانا سابق وزیر اعظم کے لیے حوصلہ افزاء ہے۔ان کے مخالفین دق آچکے۔ان کی توقعات پوری نہیں ہوسکی۔نوازشریف کوتمام ترذہنی اذیت دیے جانے کے بعد بھی جھکایا نہیں جاسکا۔وہ اب بھی ڈے ہوئے ہیں۔حکومت میں رہتے ہوئے ا ن کے پاؤں اور زبان پر جو تالے تھے۔اتر چکے۔اب وہ دھاڑ رہے ہیں۔گرچ رہے ہیں۔یہ ان کے مخالفیں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔جہاں تک عدالت میں چلنے والے کیسز کا تعلق ہے۔ بظاہر یہی لگ رہاہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کی مدت تاحیات ہونے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔جس دن عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔اس دن چیف جسٹس کے ریماکس تھے کہ جب تک پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی مدت طے نہیں کی جاتی تب تک ناہلی تاحیات رہے گی۔جہاں تک سابق وزیر اعظم کی پارٹی صدار ت کے معاملے کا تعلق ہے۔اس کا فیصلہ بھی نوازشریف کے خلاف آتادکھائی نہیں دیتا۔یہ معاملا پہلے بھی سپریم کورٹ میں آیا تھا۔تب اس کا فیصلہ یہی تھا کہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو ہم رد نہیں کرسکتے۔اپنے سابقہ فیصلے کے متضاد فیصلہ دینا ایک نئی نظیر ہوگی۔

پارلیمنٹیرین کی جانب سے دوسرے اداروں پر مداخلت کا الزام لگایا جارہاہے۔یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ہر ادارہ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔عدلیہ اور سابق وزیر اعظم کے درمیاں میں نہیں مانتا کی تکرار کوئی اچھا شکون نہیں۔کچھ لوگ ہمارے ہاں ڈسپلن کو تباہ کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔اس طرح کا تکرار سازشیوں کی جزوی کامیابی کا ثبوت ہیں۔ریاست جس نظم وضبط اور اطور سے چلائی جاتی ہیں۔یہ سازشی اس کے مخالف ہیں۔وہ پارلیمنٹ کے اختیارات کو روندنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کبھی وہ کسی آمر کواستعمال کرتے ہیں۔کبھی عدالتوں میں بیٹھے ہوئے مہرے ان کے اشاروں پر پارلیمنٹ پر چڑھائی کردیتے ہیں۔اداروں میں کوارڈینیشن کے مخالفین کبھی فوج کے تقدس کا درس دیتے ہیں۔کبھی عدلیہ کے احترام سے آگاہ کیا جاتاہے۔جانے پارلیمنٹ کے احترام اور تقدس کادرس دیتے ان کی زبان کیوں لڑکھڑاجاتی ہے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کااعلان تو ہر طرف سے کیا جاتاہے۔جب تک یہ اعلانات کوئی عملی شکل اختیار نہ کریں گے۔ اداروں کے اختیارات او ر منزلت کا مسئلہ حل ہوگا۔ہماری منزل تب تک ہمارا منہ چڑائے گیا۔جب تک ہم اداروں کے اختیارات اور منزلت کا درست فارمولہ ترتیب نہ دیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65258 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2018 Views: 382

Comments

آپ کی رائے