سائبان ۔۔۔ پہلی قسط

(فائزہ شیخ, Karachi)

حنا اور وحید صاحب کی زندگی میں امن ھی امن تھا ۔۔
نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی حنا وحید کی فیملی میں یکے بعد دیگرے چار بیٹیاں تھی ۔۔وحید ایک کپڑے کی دکان میں نوکر تھے ۔۔شام میں دکان سے آنے کے بعد وحید رات کے وقت ایک کارخانے میں ملازم تھے بیٹیوں کی فکر ہونے کی وجھہ سے وحید کچھ سال سے دو دو نوکریاں کرنے پر مجبور تھے ۔۔کبھی وحید نے اس بات کر جھگڑا نہیں کیا تھا کہ آخر کیوں حنا کا گزارا ایک نوکری میں نہیں ۔۔ہوتا بھی کیسے ۔۔بارہ ہزار کی معمولی تنخواہ میں حنا دس سال گھر چلاتی رہی۔دس سال بعد وحید کو دوسری نوکری کی ضرورت شدّت سے محسوس ہوئی جب چھوٹی بیٹی منال کی پیدائش ہوئی ۔۔
حنا نے بیٹیوں کو اتنی سمجھداری سےبڑا کیا تھا کے وحید کے گوش و گزار بھی نہیں ہوتا کہ کونسی بیٹی کو کس چیز کی ضرورت ہے ۔۔حنا نے سلائی کڑھائی کا جو تھوڑا بہت ہنر سکھا ہوا تھا وہ اپنی بیٹیوں کے کپڑوں پر ایسے استعمال کرتے کے دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہوتا کہ واقعی یہ گھر کے سلے ہوئے کپڑے ہیں ۔۔حنا کی۔ دیکھا دیکھی اسکی بیٹیاں بھی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانا سیکھ گئی تھی ۔۔ حریم اب انٹر کے امتحان کی تیاری کے ساتھ گھر پر بچوں کو ٹیوشن بھی دے رہی تھی ۔۔مشال میٹرک میں تھی مگر اسے قدرت نے لکھنے پڑھنے سوچنے سمجھنے کی بیش بہا صلاحیت دی تھی ۔۔پینٹنگ کرتی تو اپنے جذبے کینوس پر بکھیر دیتی تھی ۔۔ اور کھانے بناتی تو وحید کی آنکھوں میں آنسو آجاتے کےیہ ننھی پریاں کل کو نہیں ہونگی جب ۔۔پیا گھر سدھار جائینگی تو یہ صحن اور دریچہ سونا ہوجاۓگا ۔۔
" بابا ایک بات کہوں آپ سے " حریم وحید سے سامنے چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے گویا ہوئی
"جی جی کہو ۔۔۔مگر اس وقت ڈائجسٹ لانے کی فرمائش نہ کرنا وو میں آپکو کل صبح لادوگا " کیونکہ گزشتہ چار روز سے حریم نے ڈائجسٹ کی فرمائش کر رکھی تھی
"ارے نہیں بابا ۔۔یہ کوئی اور بات ھے ۔۔"حریم نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے کہا تھا
ہاں کہئے نا بیٹا ۔۔
"بابا آپ اب پلیز یہ کارخانے کی نوکری چھوڑ دیں " وہ ایک دم سے بول چکی تھی
"وہ کیوں میرا بچہ ۔۔اگر بابا کام نہیں کرینگے تو آپکی ننھی منھی سی فرمائشیں کیسے پوری کرینگے ۔" وحید نے کچھ بھانپتے ہوئے مگر مسکرا کر جواب دیا
"ہمیں پتہ ہیں بابا مگر آپ ھی تو کہتے ہنا کے ہم آپکی بٹیا نہیں بیٹے ہیں تو اب کیا ہم اپکا ہاتھ نہیں بٹا سکتے بابا ؟؟"
مختصر سے جملے میں عقب سے آتی مشال حریم کے دل کی بات کہ چکی تھی۔۔
"ہممم ۔۔مطلب منصوبہ اس آفت کی پری کا بنایا ہوا تھا مگر بندوق پاکستان کے کندھے پر تھی ہنا ۔۔" یہی اسکا انداز تھا اپنی بیٹیوں کے ساتھ بلکل دوستانہ ۔۔آخر وہ اپنی بیٹیوں کا اعتماد تھا۔۔اور بیٹیاں اسکا اعتبار تھی ۔۔
"یس بابا ۔۔آپ ویسے بھی بہت کمزور ہوتے جارہے ہیں اب آپ رات میں آرام کرینگے پلز ۔۔باقی ہماری ضروریات ہیں ہم کم کرلیںگے ۔۔اگر اشد ھی ضرورت پری تو اب ہم کچھ ایسا کرلینگے کے ہماری ضرورت گھر بیٹھنے پوری ہوجاۓ کیوں کے ہمیں اچھے سے معلوم ہے کے آپ ہمیں گھر سے باہر نہیں جانے دینگے ۔۔ "
مشال روانی اور بنا کسی گھبراہٹ کے اپنے پیارے بابا سے محو گفتگو تھی ۔۔چاۓ ختم ہو چکی تھی ۔۔وحید سوچ میں پر گئے تھے کے کل تک انکے کندھوں پر چڑھنے کی ضد کرنے والی مشال آج اتنی بڑی کیسے ہوگئی ۔۔
"بیٹا دنیا کا کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ وہ آرام کرے اور اسکی پھول سی بیٹیاں کام کرے گھر کو چلائے ۔۔بیٹا یہ بات بھی نہیں ہیں کے ہمیں آپ پر اعتبار نہیں ہے آپ دونوں ہماری بڑی بیٹیاں تو ہیں ھی ہمارا غرور بھی ہیں ۔۔ہماری تو چاروں ھی بیٹیاں ماشاء اللّه ذہانت اور سمجھداری کی مثال ہیں مگر بیٹا آپ لوگ جانتی ہیں نا ہم لوگ ۔۔۔" وحید بولتے ہوئے روک گئے تھے ۔۔تفکر اور تشکر کے ملےجلے احساس انکے بوڑھے ہوتے چہرے سے عیاں تھے ۔
"ہم لوگ غریب ہیں اور ہمیں اپنی عزت کا اتنا خیال رکھنا پڑتا ھے جتنا امیر کو اپنی دولت کا ۔۔ھے نا بابا " حریم کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا ۔
بہت بڑی ہوگئی ہیں میری بیٹیاں" وہ بڑی مشکل سے آنسو روک پارہے تھے
"بابا ہم نے اکیلے پلان نہیں بنایا ہمارے ساتھ مما بھی شامل ہیں ۔۔ہم سب نے ڈیسائیڈ کیا ھے کے اب ہم اپنا سلائی سینٹر شروع کرینگے ۔۔بابا ۔۔ہم نے جو بھی کچھ سیکھا ہے وہ مما کی ھی وجہ سے ہے ۔۔اگر مما اتنی سگھڑ نہ ہوتی ۔۔جسے دسرے لفظوں میں ٹیلنٹڈ بھی کہتے ہیں تو آج حریم اور مشال بھی کچھ سیکھی نہ ہوتی ۔۔جانتے ہیں نا بابا ۔۔جو آپ اتنی لمبی لمبی جابز کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ہمیں یہاں گھر میں بھی تو آپکی ضرورت رہتی ھے ""۔۔۔کچھ ان کہی سے شکایت در آئی تھی مشال کے لہجے میں ۔۔حنا بھی ساتھ کمرے سے صحن میں آن پوھنچی ۔۔
کیا باتیں چل رہی ہیں اقوام متحدہ کی میٹنگ میں ہاں ؟؟ "
حنا اور وحید دونوں ھی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے بقول وحید کہ اگر حنا زیادہ پڑھ لکھ جاتی تو کسی نا کسی اسمبلی کی ممبر ضرور ہوتی ۔۔ حنا کا رکھ رکھاؤ اور سادہ طرز زندگی ھی تھا کہ وحید کو کبھی لگے بندھے پیسوں اور اخراجات جیسے موضوعات پر گھر میں بحث یا جھگڑے کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔۔
حنا تم نے کبھی بتایا نہیں کہ میری بیٹیاں میری کمی محسوس کرتی آرہی ہیں گھر میں ۔۔ انکو کہیں یہ گمان تو نہیں ہوگیا کے میں صرف پیسے کما کر اپنا فرض ادا کر رہا ہوں ۔۔کیوں کہ میں جو بھی کر رہا ہوں انہی کے مستقبل کے لئے ھے ۔۔"" کچھ درد بھر آیا تھا لہجے میں ۔۔کچھ شکایات اس طرف بھی تھی
نہیں وحید آپ شاید ان بچیوں کی بات کا غلط مطلب لے گئے ۔۔" حنا کچھ پریشانی میں بولی تھی
بابا ہمیں پتہ ہے کے اگر مما نے ہمیں اتنے اچھے طریقے سے زندگی کے اتار چڑھاؤ سکھائے ہیں تو یہ اسی لئے ممکن ہوا کیوں کہ آپ نے ان پر اعتبار اتنا کیا کہ مما جو بھی کرینگی وہ ہمارے فائدے کے لئے ہوگا یہ اسلئے ممکن ہوا بابا کہ ہم نے کبھی آپ دونوں کو جھگڑا کرتے لڑتے اور ایک دوسرے کو کوستے نہیں سنا۔۔ مشال کی ہر بات پر وحید حیران ہوتے جاتے کے محض 17 سال کی مشال آج اسکی ڈھال بننے کو تیار کھڑی تھی
"ہاں وحید ۔۔اگر آپکا مورل سپورٹ نہ ہوتا مجھے اگر آپ کا اعتبار حاصل نہ ہوتا اگر اپنے نے اپنی محنت کی کمائی کو میرے حوالے اس اعتبار سے نہ کیا ہوتا کہ میں اس کرائے کے گھر اور چار بیٹیوں کے تعلیمی اور معاشی اخراجات نبھا سکوگی تو ہرگز یہ ممکن نہ تھا ۔۔کیوں کہ وہ گھر بھی ہوتے ہیں جہاں رحمتیں اور برکتیں روزانہ کی تو تو میں میں سے ختم ہوجاتی ہیں ۔۔مجھے اگر کبھی پیسے کام بھی پرے تو میں اپنی امی جان سے اس شرط پر ادھر لیتی تھی کے تنخواہ آتے ھی ادا کردونگی ۔۔اور وحید ہم سفید پوش لوگوں کا گزارا اور ممکن بھی کیسے ہیں ۔۔یہ رونقیں۔۔کھلکاریاں ۔۔یہ معمولی نوک جھونک ہمارے طبقے کی جان ہیں ورنہ دنیا میں رکھا کیا ہے ۔۔""اب کی بار حنا نے بھی وحید کو تسلی بخش جواب دیا تھا وحید کے چہرے سے اڑی ہوائیاں اب نظر نہیں آرہی تھی ۔۔حریم اور مشال کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے وحید بے اختیار کہہ پڑے ""واقعی تم بٹیا نہیں میرے بیٹے ہو ""
دن اور ہفتے۔۔مہینے اور سال بن کر گزرنے لگے تھے وحید اب صرف دکان پر جایا کرتے تھے ۔۔حنا صبح میں کچھ لڑکیوں کو سلائی کڑاھی سکھا رہی تھی۔۔حریم اب بی اے کے آخری سال میں آگئی تھی ۔۔شرارتی اور انتہائی بے باک سی مشال اب میڈیکل کے داخلے کی تیاری کر رہی تھی ۔۔انشال اور منال بھی لڑکپن کی دہلیز چھوڑ جوانی میں داخل ہوا چاہتی تھی..مالک مکان گھر بیچنا چاہ رہا تھا اسنے وحید کو کہیں اور شفٹ ہونے کی آخری تاریخ دیدی تھی ۔وحید کچھ پریشان ہوا مگر پھر حنا سے اس معاملے پر بات ہوئی تو ہمیشہ کی طرح حل تیار رکھا تھا
ایسا کریں کہ یہ گھر آپ خرید لیں اس گھر سے ہماری یادیں وابستہ ہے ہمارے بچوں کا بچپن ہے ۔۔
مگر حنا اتنے پیسے کہان سے آںُنگے۔
ہمیں دکان کی اس وقت ضرورت نہیں ہے جو آپکے والد مرحوم چھوڑ گئے تھے ۔۔اسکا کرایا جو آتا رہا اسسے میں نے کچھ بچت کی ہے باقی بھی ہوجاۓگا ۔۔یہ گھر کوئی کروڑوں کا تو ہے نہیں مشکل سے ان دو کمروں اور ٹن کی چھت کے کوئی 15 لاکھ لگے ہیں یہ تو ہم بھی خرید سکتے ہیں ۔۔حنا کی بات وحید کو پسند آگئی تھی ۔۔دکان بیچ کر اور بچت کمیٹی کے پیسے ملا کر اسنے 13 لاکھ تو ادا کر دئے تھے اب صرف 2 لاکھ باقی تھے ۔۔بہت خوش تھے یہ سب لوگ کے ایک دن دکان سے حنا کے موبائل پر فون آگیا ۔۔۔۔
""وحید صاحب صبح دکان پر آتے ہوئے ایک روڈ حادثے کا شکار ہوگئے تھے ۔۔ جب 12 بجے تک وہ دکان پر نہیں پوھنچے ہم۔ نے انکو فون کیا ۔۔کسی انجان شخص نے اٹھا کر بتایا کے آج صبح ہوئے والے ٹرک اور رکشے کے تصادم میں وحید صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔" اس سے آگے تو حنا سن بھی نہیں پائی تھی کے اسکے ہاتھ چھوٹتا فون اور چہرے سے ارے رنگ نے حریم کو متوجہ کیا ۔۔حریم نے آگے کی بات بڑی ہمّت سے سنی تھی ۔۔حنا سمیت چاروں بیٹیاں ٹوٹ گئی اس خبر سے ۔۔رشتےدار بھی چلے آئے ۔۔کوئی صبر کی تلقین کرتا کوئی ہمّت کی مگر آخر کیسے صبر آتا ان بیٹیوں کو جنکا کل اثاثہ ھی والدین ہوتے ہیں جنکا رہنما۔۔دوست ۔۔آئیڈیل انکا باپ ہوتا ہے ۔۔آخر اس بیوی کو کیسے صبر آتا کیسے ہمّت آتی جس نے سرد و گرم اور ہر موسم میں اپنے شوہر کا بوجھ کم کرنے میں اسکا اتنا ساتھ دیا تھا یہ سوچ کر کے بیٹیاں بیاھی جاینگی تو قربت کے جو لمحات فرائض اور زمیداری ادا کرتے گنوادئے تھے وہ جی لینگے ۔۔اب وہ خوش باش انسان ایک مردہ جسم بنا جنازے پر سوار تھا ۔۔آہیں اور سسکیاں مگر کب تک رہتی۔۔شاید حریم اور مشال کو بہت کم عمری سے بہت زیادہ سمجھداری اور احساس ذمہ داری بھی اسلئے ملا تھا کیوں کہ وحید کے حق میں کچھ اور لکھا تھا۔وہ باپ جسکے وقت کے لئے ساتھ کے لئے حریم اور مشال نے اسکی نوکری چھڑوا کر آرام دیا ۔۔آج ابدی آرام گاہ جارہا تھا
۔سوئم کے بعد رشتےدار سمٹنا شروع ہوئے ۔۔حنا تو جیسے سکتے میں تھی ۔۔حریم اور مشال انشال اور منال کو بہلاوا دیتی کبھی خود کو ۔۔کبھی ایک دوسرے کو ۔۔دن ہوا کی رفتار سے گزر رہے تھے ۔۔وحید کا چہلم ہوگیا ۔۔زندگی کچھ رواں ہوئی تو حریم کا رشتہ آگیا ۔۔نیک پروین نامی محلہ بھر کی خالہ یہ رشتہ حریم کے لئے لے کر آئیں تھی ۔۔
""بھئ کچھ بھی کہو ۔۔تمہاری بیٹیاں جتنی خوش شکل اتنی ھی خوش اخلاق بھی ۔۔تعلیم تہذیب سب تو دیا ہے تم نے اور بیٹیوں کو۔ کام آتا ھی کیا ہے یہ انگریزی رسالے اور ٹی وی ڈرامے تھوڑی ۔۔"" نمکو اور چاۓ کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے خالہ کی زبان تیزی سے چل رہی تھی
"جی خالہ صحیح فرمایا اپنے ۔۔ویسے لڑکا کرتا کیا ھے ؟ "مشال جو نزدیک ھی بیٹھی ایک انگلش میگزین کا جائزہ لے رہی تھی سوال کر بیٹھی ۔۔
لڑکے کو۔ کچھ کرنے کی۔ ضرورت کہان ھے بیٹا ۔۔اپنا کارخانہ ہے گارمنٹس کا باپ بھائی سب ھی کا ایک کام ہے ۔۔پیسے کی۔ تو ریل پیل ھے انکے گھر ۔۔وہ وہ بازار سے شاپنگ کرتے ہیں کہ ہم تم تو بس نام ھی سنتے رہ جایں ۔۔
"اوہ مطلب لڑکا خود کے بل بوتے پر نہیں ہے ابھی خود کفیل نہیں ۔۔"حنا نے چاول کی تھال اٹھا کر مشال کو دی تھی ۔۔حریم پہلے سے ھی کچن میں موجود تھی ۔۔اب مشال بھی ادھر ھی آگئی تھی ۔۔
۔۔حنا کی بات خالہ کو بھائی نہیں تھی
"حنا بیبی ۔۔۔میں تو کہتی ہوں ۔۔ لڑکا ایک بار دیکھ لو پھر بتانا کے پروین کے تعلقات کیسے ہیں ہاں ۔۔اچھا چلو میں چلتی ہوں ارادہ ہوا تو فون کر لینا مجھے ۔۔" خالہ اپنا بکھرا برقعہ سمیٹ کر کھڑی ہورہی تھی کے پھر بول پڑی ۔۔
"اور ہاں حنا ۔۔لڑکا ذرا سا چھوٹے قد کا ہے پھر یہ نہ ہو کے پروین کا نام آجاۓ کل کو کہ بونے سے رشتہ کروادیا ۔۔بھئ اب تمہاری لڑکیاں 22 اور 20 کی ہوگئ ہے جلد از جلد انکی شادیاں کر دو غریب کر گھر رشتے ویسے بھی کم آتے ہیں اور آجایں تو جہیز پھر بہت مانگتے ہیں تم کہاں سے دوگی ان چار چار بیٹیوں کوجہیز ۔اب تھوڑا سمجھوتہ تو کرنا ھی پڑےگا باقی سب خیر ھے ۔۔""
خالہ اب اٹھ کھڑی ہوئی اور ابھی دروازے تک پوھنچنے لگی تھی کہ حنا نے آواز لگادی ۔۔
خالہ ۔۔۔ میری طرف سے انکار ھے۔
ہائے بھلا کیوں ؟؟
میری مرضی ہے پروین خالہ ۔۔میری بیٹیاں کوئی مجھ پر بوجھ نہیں ہے جو میں جلد از جلد چلتا کرنے کی کوشش میں کسی بھی ایرے غیرے کو سونپ دوںگی ۔۔چلئے مان لیا کے آپکی۔ جان پہچان ہے ان سے ۔۔مگر شادی کے بعد ہونے والی اونچ نیچ میں کسی کا کیا اعتبار ..

ہائے پھر اس حساب سے تو بیٹیاں بیاہنی نہیں ہے تمہیں ۔۔خالہ ذرا غصیلے انداز میں طنز کر گئیں تھیں ۔۔
"بیٹیاں بیاہنی ہیں خالہ ۔۔بیچنی نہیں ہیں ۔۔اور جب اللّه نے بیٹیاں دی ہیں تو انکے اچھے رشتے بھی اتارے ہونگے اس میں امیر اور غریب کا تصور تو ہم نے ڈالا ہے ہم انسانوں نے ورنہ رحمان کو تو ہر انسان کی فکر ہے ہر چیز کی ہے ۔۔ہم غریب ھی صحیح ۔۔ہم لوگ بھی تو محنت سے ھی بیٹیاں بڑی کرتے ہیں ۔۔ہم لوگ بھی تو انکی تعلیم و تربیت انکی صحت انکی ضرورت کا ویسا ھی خیال کرتے ہنا جیسا کے امیر لوگ ۔۔خالہ بس فرق یہ ہے کہ ہماری ترجیحات امیر لوگوں کی نسبت مختلف ہوتی ہیں ۔ہم پیٹ بھر کھانا اور عزت سے تن چھپا کر جینے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔۔کیا غریب کی بیٹی کے کوئی ارمان نہیں ہوتے ۔۔آپ میری حریم کو دیکھئے ۔۔یہ تو بہت کم خوبصورت ہے اسسے بھی خوبصورت خوش شکل تعلیم یافتہ لڑکیاں دے دی جاتی ہیں غریب کی بیٹیاں ہوتی ہیں وہ بس یہ قصور ہوتا ہے انکا ۔۔اور شوہر کی کوئی ایک خامی برداشت کر بھی لیں ۔۔چھوٹا قد یا لمبا اللّه کی دین ہے ۔۔امیر غریب ہونا بھی اللّه کی حکمت مگر پھر ان بچیوں کے سسرال میں ہم اور آپ جیسے لوگ کبھی پلٹ کر خبر لینے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ جسطرح یہ بیٹیاں ماں باپ کے گھر کھلکھلاتی تھی وہ کھلکاری اب بھی باقی ھے یا نہیں ۔۔جس طرح آزاد تتلی سی گھوماکرتی تھی اب اس تتلی کے رنگ باقی ہیں یا نہیں ۔۔ انکے سسرال میں یہ تتلیاں یہ پڑیاں۔۔۔ماسیاں بن جاتی ہیں بیچاری ۔۔اور میں نے اپنی بیٹیوں کو ایسے لوگوں میں نہیں بیاہنا جہاں انکی حیثیت ماسی جیسی ہو ۔۔ انشاء اللّه جس طرح وحید کے ساتھ نے مجھے ہمّت اور حوصلہ دیا تھا کم آمدنی میں بھی ہم نے بیٹیوں کو اعلٰی تعلیم دلواںُی ھے جس طرح تربیت کی ھے اسی نے مدد کی تھی اور ابھی بھی وہی مصبب الاسباب ہے ۔۔مجھے اسکے علاوہ کسی سے امید نہیں ہیں ۔۔" حنا نے اپنے مخصوص دھیمے مگر سخت لہجے میں خالہ کو تفصیلی جواب دے کر لاجواب کردیا تھا ۔۔خالہ بغیر کچھ کہے ھی جا چکی تھی ...آخر وہ کہتی بھی کیا حنا کا لفظ لفظ سچ تھا ۔۔حریم اور مشال ماں کے پاس صحن میں آگئی تھیں جہاں حنا تخت پر تقریباً ڈھہہ گئی تھی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔۔وحید کی یاد اور بیٹیوں کی زمہ داری۔۔۔یااللّه کیا اب یہ امتحان روز روز ہونے ہیں ؟؟ حریم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لتے ہوئے وہ رو پڑی تھی ۔۔
مما ۔۔میرے پاس ایک تجویز ہے اگر آپ مناسب سمجھیں ۔۔
تجویز ۔۔؟؟ حنا کی۔ نگاہوں میں سوال امنڈ آیا
"جی مما ۔۔" نہایت پرسکون اور پراعتبار لہجہ حریم اور مشال کی آنکھیں ملی تھی ۔۔حنا کو امید کہ مشال کی تجویز ہمیشہ کی طرح بہتری کے لئے ہوگی ۔۔

********
مشال کی لکھی تحریریں ایک ایک کرکے مختلف اخبارات کی زینت بنتی جارہی تھی ۔۔وہ سائنس کی سٹوڈنٹ تو تھی ھی مگر اسکی دلچسپی سیاست اور معاشرت میں بھی کافی تھی ۔۔وہ مختلف جرائد کے لئے صحت اور معاشرت پر کالم لکھتی اور لوگ اسے سراہتے ۔۔اسنے انٹر کے بعد سائنس کی دنیا کو چھوڑ کر میڈیا سائنس کے لئے داخلہ لے لیا تھا حریم کا بی اےمکمل ہوا وو اچھے گریڈ سے کامیاب ہوئی ۔۔حنا کی۔ عدت ختم ہونے کے بعد سلائی کنٹری بھی دوبارہ شروع کیا گیا ۔۔
انشال نے میٹرک کے امتحان دئے ۔۔رنگ روپ می مشال کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔۔زندگی رواں ہونے لگی تھی ۔وحید کی یاد ہر دن حنا کو مارتی اور بیٹیوں کے زمیداری ہر دن حنا کو جینے کے لئے اکساتی ۔۔حنا حریم۔ اور مشال جیسی بٹیا پا کر بہت مطمئن تھی کیوں کہ آج کے تیز ترین دور میں جہاں بیٹیاں والدین کو ایک سے ایک فرمائش اور خواہش کرتی ہیں وہاں ان دونوں نے کبھی لب کشا نہ کئی ۔۔کچھ حنا کی تربیت بھی ایسی تھی کہ جو حنا پسند کرتی بیٹیاں بھی وہی پسند کرلیتی ۔۔حنا خود ھی انکے عید تہوار کے کپڑے بناتی تھی ۔۔اپنی ہم عمر سہیلیؤں اور کزنز کو دیکھ کر کبھی ان۔ لڑکیوں نے منہ نہ بگاڑا حنا نے کبھی انکو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ مہنگے کپڑوں اور ظاہری رکھ رکھاؤو اہمیت رکھتا ھے ۔۔حنا کی یہی سیکھ تھی کہ انسان کی۔ پہچان اسکے لباس سے نہیں اسکے اچھے اخلاق اور اعلی کردار سے ہوتی ھے ۔۔حنا کی۔ بیٹیاں کسی توڑ واجبی نہیں تھی بلکے قدرت نے تمام بیٹیوں کو خوبصورتی اور خوش اخلاقی کا پیکر بنایا تھا ۔۔جہاں حریم سادہ مزاج اور خاموش طبیعت کی حامل وہیں مشال شوخ چنچل اور بے باک ۔۔انشال بھی مشال ھی کی پرچھائی تھی ۔۔جب کہ منال رنگوں کی دنیا میں رہنے والی ۔۔کچھ نا کچھ کرتے رہنے اور سیکھٹی رہنے کی دھن لئے بچیں مزاج رکھنے والی ۔۔ انشال کو گانے کا بھی بہت شوق تھا وہ اپنے اسکول میں ہر فنکشن میں حصّہ لیتی چاہے میلاد ہو یا جشن آزادی ۔۔اننول ڈے ہو عید ملن پارٹی ۔۔وہ کوئی موقع نہ جانے دیتی اپنے ٹیلنٹ کو ظاہر کرنے کا ۔۔

((Continue))
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فائزہ شیخ

Read More Articles by فائزہ شیخ: 9 Articles with 4320 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Feb, 2018 Views: 656

Comments

آپ کی رائے