آخری وار یا war ؟

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

اقامہ پر نا اہلی سےتسکین نہ ملی مقدمے تیز کر دینے سے مقبولیت کم نہ ہوی خبریں گرم کرنے سے پارٹی نہ ٹوٹی مخالف پارٹیوں کے اتحاد سے دال نہ گلی دھرنے سے بات نہ بنی اور ان سب کے باوجود ضمنی الیکشن نہ ہرایا جا سکا عوام کے دلوں سے نہ اتارا جاسکا ووٹ بھی کم نہ ہوے تو اب پارٹی صدارت سے نااہل کردیا گیا اگر یہ وار بھی خالی گیا تو اُن چند کی اُمیدوں کا کیا ہو گا-

عوام کو تو صدمے برداشت کرنے کی عادت ہے اُن کے لیے منصوبے بنیں نہ بنیں امن رہے نہ رہے ان کے منتخب کے ساتھ جو بھی ہو لیکن اصل مسئلہ تو چند لوگوں کی خواہش کا ہے کہ اُن کا کیا ہو گا -

تھوڑے دن کی بات تھی عوام فیصلہ کر لیتے مگر اُب کو صبر نہ ہوا وہ چند لوگ بڑی جلدی میں ہیں کسی کو انجام تک پہنچانے میں جو اس ملک کا انجام اچھا دیکھنا چاہتا تھا اور وہ عوام کے ووٹ سے آیا تھا جبکہ الیکشن کی نگرانی بھی خوب ہو رہی ہے اور نظام میں مسلسل بہتری بھی آرہی ہے اور اب تو ہار مانے والے بھی خوش دلی سے ہار کو تسلیم کر رہے ہیں مگر کچھ لوگ ہار نہیں مان رہے اور ان کی نظر میں محنت کرنے والے قابل قبول نہیں جو بظاہر محب وطن بھی ہوں اور مشکل وقت میں عوام کی حوصلہ افزای اور اداروں کے ساتھ مل کر امن اور ترقی کی راہ پر رواں دواں ہوں اور آنکھ میں کچھ شرم بھی رکھتے ہوں اگر اُن پر انگلی اُٹھای جاے عدالت کا سامنا بھی کریں اور عدالتی حکم پر عمل درآمد بھی کریں -

مگر کچھ لوگوں کو کسی صورت قرار نہیں آرہا ہے اور ان چند لوگوں کا چین کچھ زیادہ ہی اہمیت اختیار کر گیا ہے جو عوام کو زیادہ دیر برداشت شائد نہ ہوسکے اور اس کا رد عمل الیکشن میں ہی آے تو سب کے لیے بہتر ہوگا-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 28 Articles with 11371 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2018 Views: 148

Comments

آپ کی رائے