بھارتی سازشوں کا جال

(Raja Majid Javed Bhatti, )

نومبر 2008میں ہونے والے ممبئی دھماکوں کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی جو بھونڈی سازش تیار کی وہ بالآخر بے نقاب ہوگئی۔26/11کے نام سے معروف ان نام نہاد دھماکوں کی اصلیت کو اگر کسی مسلمان نے بے نقاب کیا ہوتا تو دنیا شاید اس پر یقین نہ کرتی لیکن مقام شکر ہے کہ بھارت کی اس مکروہ سازش کو بے نقاب کرنے والاElias Davidssonمسلمان نہیں۔ اس کی پیدائش 1941میں فلسطین میں ہوئی۔ اس کے والدین جرمن نژاد یہودی تھے۔ڈیوڈسن کی ایک کتاب حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے، کتاب کا نام“The Betrayal of India : Revisiting the 26/11 Evidence” ہے۔اس کتاب میں ڈیوڈسن نے مختلف حوالوں، عینی شہادتوں اور ثبوتوں کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ ممبئی دھماکے اصل میں ممبئی ڈرامے تھے جنہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے رسوائے زمانہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء نے بھارتی میڈیا اور بھارتی عدالتوں سے بھی بھرپور مدد حاصل کی۔بھارتی میڈیا نے پہلے سے طے شدہ کہانی کے مطابق حقائق کو اس انداز میں مسخ کیا عام آدمی کے لیے سچ پر یقین کرنا تقریبا ناممکن ہوگیا۔اب جب کہ اس کتاب کے توسط سے بھارتی عوام کو بھی معلوم ہوچلا ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنے گاڈ فادر امریکا کی خوشنودی کے لیے ان دھماکوں کی آڑ میں، 162سے زائد بے گناہ بھارتی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور الزام نہایت بھونڈے انداز میں پاکستان پر دھر دیا۔ڈیوڈسن کی مذکورہ کتاب کی اشاعت کے بعد بھارت کی معاشرتی زندگی میں ایک بھونچال سا آگیا ہے۔ لوگ اپنی ہی حکومت پر لعن طعن کر رہے ہیں۔سارے واقعے کی از سر نو تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔مصنف نے نہایت واضح الفاظ میں لکھا ہے،’ بھارتی اور امریکی ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر اسرائیلی اداروں کے گٹھ جوڑ سے تیار ہونے والی اس خونی سازش کا ایک ہی مقصد تھا کہ پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ بات صرف سازش پر عمل درامد تک ہی محدود نہیں رہی، دنیا کو دکھانے کے لیے کی جانے والی تحقیقات سے لے کر میڈیا کوریج تک ساری بھارتی قوم کو بے وقوف بنایا گیا۔‘ ممبئی دھماکوں کی منصوبہ بندی اس خیال کے پیش نظر کی گئی تھی کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں رہنے والوں کو پاکستان کے خلاف اکسایا جائے تاکہ پاکستان اور پاکستانیوں پر پابندیوں کا مطالبہ ایک عوامی آواز بن کر سامنے آسکے۔تاہم اس سارے معاملے میں سب سے قابل مذمت کردار بھارتی عدلیہ کا ہے جس نے خود کو امریکی اور بھارتی ریاستی اداروں کے ہاتھ میں پلاسٹک کا بندر بننے دیا، ثبوت، میڈیکل رپورٹس اور وہ تمام شواہد جو اس سارے واقعے کی قلعی کھولنے کے لیے کافی تھے، عدالت نے ان کی طرف سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے رکھیں۔ عدالتوں کی عزت اور وقار ان کی دیانتداری اور غیر جانبداری سے منسلک ہوتی ہے، بھارتی عدالتوں نے عدالتوں کے اس وقار کو پاش پاش کر دیا۔ بھارت میں اگرچہ اس واقعے کی حقیقت جاننے کے بعد عوام شدید غم و غصے کی حالت میں ہیں لیکن ان کا یہ غصہ اس وقت بدترین اشتعال میں بدل جائے گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کو نظر آتش کرنے کا واقعہ بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایسی ہی ایک بھونڈی سازش تھا۔پاکستان میں بھی گنتی کے چند عناصر نے اپنے نشریاتی اور اشاعتی اداروں کے تعاون سے اس بھارتی سازش کو سچائی کا روپ دینے کی کوشش کی، قوم کا حق ہے کہ اب ڈیوڈسن کی کتاب کی اشاعت کے بعد ان اداروں سے بھی تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے۔

بھارت ہمیشہ بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے دہشت گردی کے ہر واقعہ کا الزام پاکستان لگا دیتا ہے اور پھر ان الزامات کی گردان جاری رکھتا ہے۔ یعنی جھوٹ بولو کہ اتنا بولوکہ لوگ سچ سمجھنے لگ جائیں۔ ممبئی حملے کی حقیقت بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک انڈر سیکرٹری آروی ایس منی نے یہ کہہ کر بے نقاب کرچکے ہیں پارلیمنٹ اور ممبئی پر حملے خود حکومت نے کرائے تھے اور ایسا کرنے کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کو مزید سخت کرنا تھا۔ عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کے تفتیشی افسر اور وزارتِ داخلہ کے دو بیاناتِ حلفی پر دستخط کرنے والے آر وی ایس منی نے عدالت میں جمع کرائے جانے والے ایک بیانِ حلفی میں انکشاف کیا ہے کہ سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی مشترکہ ٹیم کے رکن ستیش ورما نے انہیں بتایا تھا کہ2001میں پارلیمنٹ ہاؤس اور 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملے بھارتی حکومت کی سازش کا نتیجہ تھے۔ ان حملوں کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کرکے انہیں مزید سخت کرنا تھا۔ آر وی ایس منی کے مطابق انہیں ستیش ورما نے بتایا تھا کہ 2001میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ بدنام زمانہ قانون پوٹا (پریونشن آف ٹیررسٹ ایکٹیویٹیز)ایکٹ کے وضع کئے جانے اور 2008میں ممبئی میں ہونے والے حملے یو اے پی اے (ان لا فل ایکٹیویٹیز پریونشن ایکٹ) میں ترامیم کرکے اسے مزید سخت بنانے کا سبب بنے۔ آر وی ایس منی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں میں ماؤ نواز باغیوں اور دیگر علیحدگی پسندوں نے حکومت کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ان پر قابو پانے کے لیے بھارت میں قائم ہونے والی تمام حکومتیں ماورائے آئین اقدامات کرتی رہی ہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاکستان سے ملحق سرحد پر فوج لگاکر جنگ کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کے افضل گورو کو عدم ثبوت کے باوجود اس کیس میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ 2008 کے ممبئی حملوں کے الزام میں اجمل قصاب کو پھانسی دی گئی۔ بھارت نے ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی اور حملہ آور بھی پاکستان ہی سے آئے تھے۔ پارلیمنٹ اور ممبئی پر حملوں کے بعد بھارتی حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کے قوانین سخت بنانے کا موقع ملا اور مقبوضہ کشمیر میں فوج کے آپریشن کو قانونی جواز نصیب ہوا۔ ممبئی حملوں کے بعد یو اے پی اے کے نام سے نیا قانون لایا گیا۔ ستیش ورما اب جونا گڑھ (گجرات) کے پولیس ٹریننگ کالج کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے موجودہ لینڈ اینڈ ڈیویلپمنٹ آفیسر آر وی ایس منی کے بیان پر تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں یہ نہیں معلوم کہ ان سے کسے کیا شکایت ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سارا جھگڑا جون 2004 میں احمد آباد کے نزدیک ہونے والی اس پولیس مقابلے کی تفتیش کے دوران کھڑا ہوا جس میں گجرات پولیس نے عشرت جہاں اور اس کے تین ساتھیوں امجد علی، ذیشان گوہر اور جاوید شیخ کو کالعدم لشکر طیبہ کے مشتبہ کارکن قرار دے کر قتل کردیا تھا۔ اب یہ مقابلہ سرکاری سطح پر جعلی قرار دیا جاچکا ہے اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ گجرات پولیس نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی اس رپورٹ کو بنیاد بناکر انکاؤنٹر کیا تھا کہ ذیشان گوہر، امجد علی اور جاوید شیخ مبینہ پاکستانی باشندے ہیں اور ان کا تعلق کالعدم لشکر طیبہ کے اس ماڈیول (گروپ) سے ہے جو گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے تفتیش کے بعد اپنی رپورٹ میں عشرت جہاں اور اس کے تین ساتھیوں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے مقابلے کو جعلی ٹھہرایا تھا۔ اگست 2009 میں مرکزی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیانِ حلفی میں آئی بی کی اِن پٹ کا حوالہ دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ آئی بی نے عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کو کالعدم لشکر طیبہ کا رکن قرار دیا تھا۔ جب گجرات حکومت نے اس پولیس مقابلے کو درست ثابت کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ کے پہلے بیانِ حلفی اور اس میں آئی بی کی اِن پٹ کو استعمال کیا تو ستمبر 2009 میں مرکزی وزارتِ داخلہ نے دوسرے بیانِ حلفی میں موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی نے اپنی اِن پٹ میں عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کو حتمی طور پر کالعدم لشکر طیبہ کا رکن قرار نہیں دیا تھا بلکہ محض شبہ ظاہر کیا تھا۔ آر وی ایس منی نے اپنے سینئرز کو لکھا ہے کہ ستیش ورما نے عشرت جہاں کیس میں غلط بیانی پر مبنی بیانِ حلفی پر دستخط کرنے کے لیے ان پر دبا ڈالا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اِس بیان پر دستخط کریں کہ مرکزی وزارتِ داخلہ کے پہلے بیانِ حلفی میں آئی بی کے دو افسران کی بھی اِن پٹ شامل تھی جبکہ فی الواقع ایسا نہیں تھا۔ آر وی ایس منی کے مطابق ستیش ورما نے بتایا کہ مرکزی وزارتِ داخلہ کے پہلے بیانِ کا مسودہ تیار کرنے والے افسر راجیندر کمار پر دبا بڑھ گیا ہے کیونکہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کی راہ ہموار کرنے سے حوالے سے اس پر گجرات حکومت سے ساز باز کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ سی بی آئی اس کے خلاف بھی فردِ جرم عائد کرسکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Majid Javed Bhatti

Read More Articles by Raja Majid Javed Bhatti: 57 Articles with 24944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2018 Views: 239

Comments

آپ کی رائے