کڑوا کڑوا ہپ ہپ ؟

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

کسی پر تنقیدی انداز سے کہا جاتا ہے کہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو " جو آدمی کی عام عادت ہوتی ہے کہ اچھا تو سب قبول کر لے اور جو مطلب کا نہ ہو اس سے اجتناب لیکن صحت کے نقطہ نظر سے اور حکمت کے لحاظ سے درست الٹا ہوتا ہے یعنی " کڑوا کڑوا ہپ ہپ " اور زیادہ میٹھے سے پرہیز اور خاص طور پر مصنوعی میٹھا اور سفید شکر اور طبی نگاہ سے زہر اور صحت کے لیے سامانِ قہر اور مہلک سحر کسی بھی پہر اور کم ہو وزن کی مشین کی لہر جبکہ قدرتی مٹھاس پھلوں گُڑ اور شہد وغیرہ کی نقصان دہ نہیں سواے استثنای صورت کے اور قدرت کی کڑوی اور کسیلی اور ترش چیزوں میں خاص شفا ہوتی ہے مثلاً کریلا الائچی میتھی لونگ کلونجی ہلدی لیموں لہسن ادرک گوار یا ایلوویرا دہی وغیرہ وغیرہ -

خوش قسمتی سے مجھے اچانک میٹھے سے قدرتی طور پر رغبت کم ہو گئ اور جسم کی مٹھاس کم ہو کر زبان کی مٹھاس میں اضافہ ہو گیا جو اپنے اور دوسروں کے لیے فوائید رکھتی ہے لیکن چم چم سے ابھی بھی کچھ رغبت ہے کہ کچھ تو میٹھا ہو زندگی میں اور اس کے سامنے آنے پر اپنے گرد مجاہدے کا حصار کھینچنا پڑتا ہے جس کی دلفریب کشش کے سامنے ہار بھی مانی پڑتی ہے اور حتی الامکان اس کا سامنا کرنے سے گریز ہی بہتر ہوتا ہے اور کبھی کبھی تھوڑا میٹھا کھانے میں حرج بھی نہیں -

مگر پہلے سے بہت بہتری ورنہ یہ حال تھا کہ سامنے اپنی پسند کا ڈرامہ ٹی وی پر ارہا ہو اور پسند کی ہیروئن آرہی ہو اور جب سین سے جاے تو سامنے موجود قوامی سویوں کی مٹھاس منہ میں جا کر ہیروئن کے ہجر کی تلخی کم کرسکے جو ہیرو سے زیادہ مجھے محسوس ہوتی تھی-

کچھ چیزوں کی ابتدا خوشنما مگر انجام غم اور فکر جیسے ادھوری محبت اور میٹھے کی زیادتی جس کے بعد طبیعت میں بھاری پن جبکہ ترش اور کڑوے کے بعد طبیعت میں ہلکا پن اور انجام اچھا اور مچھلی کی کیا بات ہے کہ خدا کا سب سے زیادہ زکر کرنے والی مخلوق اور سب سے زیادہ شفا بخش بھی ہے -

دوسری طرف یہ بھی سُنا بڑوں سے کہ درمیانہ رستہ بہتر ہوتا ہے اور یہ کہ اتنے کڑوے بھی نہ بنو کہ نگلا نہ جائے اور اتنے بھی میٹھے نہ بنو کہ لوگ سالم نگل لیں مگر کسی سے دو میٹھے بول لینا پسندیدہ عمل ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 28 Articles with 11666 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2018 Views: 1044

Comments

آپ کی رائے