زندگی آخر تم کیا ہو؟

(S A Kareem shah, Pasni)
زندگی اور جینے پر تبصرہ
زندگی جو ایک حسین خواب ہے جہاں خوشیوں کے میلے ہیں جہاں ہر طرف بہار ہی بھار ہوتی ہے- جہاں چاروں طرف سبزہ ہی سبزہ ہے- جہاں انسان سکون کی تلاش کا یک مسافر ہے- جہاں مقاصد کو حقیقت کی شکل دہنے پر لوگوں کی کوشش جاری دہتی ہے- جہاں ہر تارہخی میں ڈوبا شخص روشنی کا پیروکار ہے- جہاں ہر شخص دکھوں کا بوجھ اٹھا کہ تھک جکا ہے- جہاں ہر کسی کی زبان پر گلے شکوے رہتے ہیں- جہاں ہر کوئی حالات کے طوفان سے چور ہو چکا ہے- جہاں ہر شخص بے اعتبار زندگی کا متلاشی ہے- جہاں کوئی بہی اعتماد کے قابل نہیں - جہاں مطلب کے سہے تلے زندگی گزار دی جاتی ہے جہاں انسانی ضمیر کا کوی وجود نہیں رہتا جہاں انسانی ہمدردی کی کوی قدر نہیں ہوتی جہاں انسانی جزبات کا مزاق بنا دیا جاتا ہے- جہاں انسان کی قدر اس کے روے سے نہیں بلکہ اسکے روپ دیکھ کر کی جاتی ہے-جہان سچی بات کہنے والا زلیل ہو جاتا ہے- جہان جہوٹ زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے- جہاں رشتوں کی قدر سکھی نہیں جاتی جہان رشتے بے نام سی زندگی گزارتے ہیں- جہان یمانداری یک گالی سمجھا جاتا ہے۔جہاں بے یمانوں کا سر فخر سے اونچھا ہو جاتا ہے- جہاں غریبی زندگی لعنت ملامت میں گزر جاتی ہے- امیر لوگوں کے دل غرور سے مردہ ہو جاتے ہیں- جہاں بے رحم کو بارشہ اور رحمدل کو حیوان اور جاھل سمجھا جاتا ہے-

اس مطلبی زندگی میں انسان جائے تو کہاں جائے- کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ زندگی میں زندہ رہنے کی ساری امیدیں کھو چکی ہیں- پھر ہک بات یاد آتی ہے کہ جو بھی ہو کچھ بھی ہو امید کا دامن ہاتھ سے نا چوٹے کیونکہ کھتے ہیں یہ زندگی امید سے ہی قاءم ہے- نا امیدی کا مطلب بے رحم دنیا سے ہار جانا- نہ جانے کیوں لوگ دکھوں کا سامنہ نہاية کر کہ اپنی جان گوا دیتے ہیں- لو مان لیا کہ دکھلو مان لیا کہ دکھ حد سے زیادہ ہیں لیکن اگر ہم اپنی زندگی میں ہر چھوٹی نعمت کا شکر ادا کریں تو شہد دکھ ہمارا پہچھا چھوڈ دے- کھبی کھبی شکییں رہتی ہین کہ کیوں ہمیں زندگی پھلے سمجھ نہیں ی شید یہ دکھ ہم کو جیلنا نہاية پڈھتا- اسلے کہتے ہیں کہ وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ کچھ نہیں ملتا-

زندگی کے وقت اور حالات انسان کو زدگی کے مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت دیتے ہیں- شید اس فانی دنیا کو لوگ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے یا کر نہیں پاتے جو آج کل زہنی تفکرات کا شکار رہتے ہیں- ہمارے ماں باپ کی زمہ داریوں میں سے اہک زمہ داردی یہ بھی ہوتی ہے کہ بچوں کو حالات کا سامنہ کرنے کی تیاری دیں- ہماری زندگی اس وقت زندگی ہے جب اس میں انسانیت اور زندہ دلی باقی ہے- بنا احساسات کے جانور بھی زندہ رہتے ہیں- اس لیے کہتے ہیں نہ کہ زندہ رہنے کیلیے سو سال جینا ضروری نہیں بلکہ یک دن یسا کام کرو جس کیلیے دنیا تمہں سو سال تک یاد رکھے-اس کے لۓ ہمیں کئ مسالیں ملیں گیں جنھوں نے با مقصد زندگی گزاری ہے جیسا کہ نیلسن منڈیلا۔زندگی میں ہمہیں چہیے کہ انسانیت کو فروغ دیں- اور اچھا انسان بن کر ہم اپنےاس نا ہل دنیا کو خوبصورت بنہیں دور کی تلاش کے بدلے اپنے آپ کو روشنی مہیں لانے کی کوشش کریں دو دن کی ہے اسے نفرت اور حسد سے نہیں بلکہ محبت سے بھر دیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: S A Kareem shah

Read More Articles by S A Kareem shah: 3 Articles with 2878 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2018 Views: 1763

Comments

آپ کی رائے