یورک ایسڈ سے نجات مگر ۔۔۔۔

(سید ذیشان علی شاہ, Karachi)

ایک عام بیماری سادہ الفاظ میں جسم میں گرمی کی زیادتی اور تری کی کمی سے پیدہ شدہ مرض ہے. ایسے مریض پانی عموما کم پیتے ہیں۔

گردے کی ذمہ داری
گردوں کا کام خون میں موجود غیرضروری مواد اور فاسد مواد کو تری کی مدد سے پانی کے ساتھ ملا کر مثانہ اور آلات بول کے ذریعہ سے خارج کرنا اور خون کو جراثیم اور فاسد مواد سے پاک رکھنا۔

جب گردوں کے نظام میں جگر کی تیزی کی وجہ سے گرمی زیادہ ہو جاتی ہے تو ان کا نظام خراب ہوجاتا ہے۔
پانی اور تری کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو گردےاپنا کام مکمل نہیں کرپاتے تو جراثیم اور فاسد مواد خون میں ہی رہ جاتا ہے.
یہ فاسد اور زہریلا مواد جسم کے جوڑوں کو متاثر کرنے لگتا ہے.
ان ہی فاسد اجزاء میں سے ایک جزء یورک ایسڈ ہے۔
یورک ایسڈ(Uric Acid) ایک قسم کا نامیاتی ترشہ ہے.

انسانی جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی کی وجہ یورک ایسڈ کا کم خارج ہونا ہے یورک ایسڈ کو خارج کرنے کی ذمہ داری گردوں پر ہے.

گردے اپنے نظام کی خرابی کی وجہ سے یورک ایسڈ اور دوسرے فاسد مواد کو خارج نہیں کرتے۔

گردوں کے نظام کی خرابی سے پیشاب پانی کی طرح سفید ہوجاتا ہے. اس لئے کہ گردوں نے خون سے فاسد مواد کو علیحدہ کر کے مثانہ کی طرف بھیجا ہی نہیں یا پیشاب کم ہوجاتا ہے یا پیشاب بند ہوجاتا ہے یاپیشاب جل کر زرد سیاہی مائل ہوجاتا ہے یا پیشاب قطرہ قطرہ ہو کر آتا ہے۔

صحت مند پیشاب درمیانہ پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ دن میں کم از کم ایک بار اور زیادہ سے زیادہ دو بار آتا ہے. پیشاب کرنے کے بعد قطرہ بالکل نہیں آتا. پیشاب میں جلن نہیں ہوتا۔ پیشاب کھل کر ایک ہی بار میں آتا ہے. بعد میں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ابھی کچھ پیشاب باقی ہے.

پیشاب جتنی بھی دفعہ کیا جائے اس کا رنگ سفید کبھی بھی نہیں آتا. آپ جتنا چاہئے پانی پی لیں، موسم سردی کا ہو یا گرم کا ہو پیشاب کا رنگ درمیانہ پیلا ہی ہونا چاہئے۔

جب یورک ایسڈ جسم میں اپنی نارمل مقدار سے بڑھ جائے تو یہ جوڑوں میں درد خاص طور پر چھوٹے جوڑوں میں تہہ نشین ہو کر جوڑوں میں سوجن ورم اور درد پیدا کرتا ہے۔

عام طور پر نارمل تعداد اور مقدار میں ملی جلی یا مخلوط غذا(Mixed Diet) کھانے والے صحت مند بالغوں میں ایک دن میں یورک ایسڈ 10ملی گرام فی کلو گرام کی شرح سے پیدا ہوتا ہے یا بنتا ہے ۔ یہ یورک ایسڈ گردے کی یورک ایسڈ پر مشتمل پتھریوں ، پیشاب اور یورک ایسڈ کے ذروں کا ایک عام جزو بھی ہوتا ہے ۔ یورک ایسڈ کا انسانی جسم سے اخراج بہت ضروری ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ ہضم نہیں ہوتا یا جزو بدن نہیں بنتا ہے ۔ پروٹین ، نائٹروجنی غذائیں کھانے ، ورزش کے بعد،خلیے پر زہریلے اثرات مرتب کرنے والی ادویات یا خلوسمی ادویات(Cytotoxic Drugs) کا استعمال، نقرس(Gout) سفید خلیات کی زیادتی/ ابیضاض الدم (Leukemia) اور حاد وجع المفاصل ( Rheumatism) میں اس کا اخراج زیادہ ہوتا ہے۔ اور گردوں کی سوزش(Nephritis)، سبز بھس (Chlorosis)، سیسہ کے زہریلے اثرات، بریلیم (Beryllium) کے زہریلے اثرات اور پروٹین فری خوراک کھانے کے دوران اس کے اخراج میں کمی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
یورک ایسڈ بڑھ جانے سے پیدا ہونے والی بیماری کو نقرس یا وجع المفاصل نقرسی (Gout or Podegra) یا چھوٹے جوڑوں کا درد یا گلٹیاں کا درد کہتے ہیں۔

اس مرض کی تاریخ بہت لمبی ہے ، بقراط (Hippcrite)نے بھی اس مرض کا حوالہ دیا ہے. ایک انگریز طبیب جس کا نام الفریڈ بیرنگ گیروڈ تھا اس نے 1773ء میں یورک ایسڈ کو نقرس میں مبتلا مریض کے خون سے پہلی دفعہ الگ کیا جس سے اس کے نقرس کے سبب بننے کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی ہوئ
مزید یہ بھی واضح ہوا کہ نقرس میں مبتلا مریضوں کے خون میں اس کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے ۔
ابتدائی نقرس کے تقریباً %90 تک مریض مرد اور ان کی عمریں 30سال سے زائد ہوتی ہیں۔ عورتوں میں نقرس کی ابتداء عموماً سن یاس (Menopause) پر ہوتی ہے ۔ لیکن اس سے پہلے بھی ہو سکتی ہے ۔ سن یاس سے پہلے عورتوں میں یوریٹ(Urate) جو کہ یورک ایسڈ کا ایک سالٹ ہے کا ارتکاز کم ہوتا ہے۔

ایسے مریض کے لیے
غلہ جات جس میں گندم ، مکی ، چاول اور ان سے بننے والی مصنوعات، کارن فلیک، پھیکی یا سفید ڈبل روٹی ، خمیری روٹی، اراروٹ، ساگودانہ ، جو کا دلیہ ، کیک ، شہد ، ذرشک، دودھ اور دودھ کی مصنوعات، انڈے کی سفیدی ، چینی ، شکر، مٹھائیاں ، جیلا ٹین ، مصنوعی مکھن مارجرین ، سبزیاں خاص طور پر شلجم ، کدو، حلوہ کدو، ٹینڈے ، مولی ، گاجر، بھنڈی ، کھیرا، ترئی، مولی ، پیاز ، دھنیا. آلو اس کے علاوہ پھلوں میں لیچی ، لوکاٹ، سٹرابری، امرود، انجیر، مالٹا، کینو، ناشپاتی ، کیلا ، خربوزہ ، تربوز وغیرہ.
گوشت اجزاء کے بغیر بنا ہوا سوپ بھی پی سکتے ہیں۔
ان کے سوا ہر وہ غذا جو گرم خشک اور خشک گرم نہ ہوں.
یورک ایسڈ کی زیادتی میں مبتلا مریض درج ذیل غذاؤں سے پرہیز کریں ۔
سارے گوشت یعنی گائے ، بھینس، بچھڑا، مرغی ، مچھلی وغیرہ.
اس کے علاوہ گرم اور جلد ہضم نہ ہونی والی سبزیاں،جیسے بینگن ، اروی ، شکر قندی ، ٹماٹر ، اچار، دیگر ترش اشیاء انڈے کی زردی ، کلیجی ، گردے ، کپورے، دماغ گھی اور دیگر چکنائیاں ، تلی ہوئی اشیاء ، الکوحل، مسور ، ماش ، مٹر ، مشروم، پالک، ساگ، کافی اور چائے سے بھی پرہیز کریں.

یورک ایسڈ کی زیادتی کے مریض پانی زیادہ پئیں اور روزانہ کم از کم دو سے تین لیٹر پانی ضرور پئیں کیونکہ یورک ایسڈ پانی میں حل ہو جاتا ہے اس لئے زیادہ پانی پینے سے اس کے اخراج میں مدد ملے گی ۔ لیکن کھانے کے فوراً بعد زیادہ مقدار میں پانی نہ پئیں۔ زیادہ پانی کے استعمال سے یورک ایسڈ گردے ، مثانے اور بافتوں میں تہہ نشین نہیں ہو پائے گا اور خارج ہوتا رہے گا۔ ورزش اور صبح کے وقت نہانا یورک ایسڈ کا کامیاب ترین علاج ہے۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سید ذیشان علی شاہ

Read More Articles by سید ذیشان علی شاہ: 25 Articles with 23296 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2018 Views: 2836

Comments

آپ کی رائے