ایران انڈیا بڑھتے تعلقات اور پاکستان کے گرد منڈلاتے خطرات

(Ghulam Nabi Madni, Madina)

سٹرٹیجک ڈیپتھ (تزویراتی گہرائی یا تزویراتی تبدلیاں)ایک ایسی عسکری اصطلاح ہے،جسے دنیا بھرمیں عسکری ادارے اپنی دفاعی حکمت کے لیے استعمال کرتے ہیں،تاکہ دشمن کے خطرات سے بچنے کے لیے سٹرٹیجک ڈیپتھ کو استعمال کرکے ممکنہ نقصان سے بچنے کی کوشش کی جائے۔سیاسی طور پر سٹرٹیجک ڈیپتھ سے مراد ایسی پالیسی لی جاتی ہےکہ جس کے ذریعےکوئی بھی ملک دشمن ممالک کے خطرات سے نمٹنے کے لیےبالترتیب اپنے قریبی ممالک پر فوکس کرکے ہمہ وقت ان کے ساتھ بہترین اورخوشگوار تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرے۔دنیا کے ہر ملک کی خاص سٹرٹیجک ڈیپتھ ہوتی ہے۔جس پر ہر ملک ہمیشہ نظر رکھتاہے اور ہر قیمت پر اپنی سٹرٹیجک ڈیپتھ کی حفاظت کی جدوجہد کرتاہے۔کسی بھی ملک کے دفاع کی مضبوطی کا اندازہ اس ملک کی سٹرٹیجک ڈیپتھ کی مضبوطی سے لگایا جاتاہے۔جب کبھی اس کی سٹرٹیجک ڈیپتھ کو خطرہ لاحق ہو تو وہ ملک چوکنا ہوکر اس خطرے کے خلاف کھڑا ہوجاتاہے کہ کہیں یہ خطرہ اس تک نہ پہنچ جائے۔

پاکستان کی سٹرٹیجک ڈیپتھ افغانستان کو سمجھا جاتاہے۔ سوویت یونین کی افغانستان میں دراندازی کے وقت پہلی بار 1980ءکی دہائی میں افغانستان کو پاکستان نے سٹرٹیجک ڈیپتھ ڈیکلئیر کرکے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے جدوجہد کی۔جس کے نتیجے میں سوویت یونین کو شکست ہوئی اور پاکستان سوویت یونین کے پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی کے خوفناک عزائم سے محفوظ رہا۔پاکستان کے دشمن آج تک پاکستان کو طعنہ دیتے ہیں کہ ا س نے کیوں افغانستان کو سٹرٹیجک ڈیپتھ قرار دے رکھا ہے۔خود افغانستان کی کٹھ پتلی حکومتیں بھی دشمن کی زبان بولتی آرہیہیں۔لیکن پاکستان پڑوس میں لگی آگ کے خطرات کوبھلا کیسے فراموش کرسکتاہے؟۔یہی وجہ ہے کہ امریکا کی افغانستان میں مداخلت کے بعد اگرچہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعاون کیا،مگر پاکستان نے یہ تعاون عموما افغانستان کو اپنی سٹرٹیجک ڈیپتھ سمجھ کر کیا۔ پاکستان کی اس پالیسی سے پاکستان کا کم اور دشمن کا زیادہ نقصان ہوا۔چنانچہ آج امریکا افغانستان سے نکلنے کے لیے پَر ماررہاہے،مگر اسے نکلنے کے لیے کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی۔

دوسری طرف پاکستان کے دشمنوں نے افغان جنگ میں ناکامی کے بعد نئے حربے آزمانا شروع کردیے ۔تاکہ پہلے پاکستان کی سٹرٹیجک ڈیپتھ پر قبضہ کرکے پاکستان کوکمزور کیا جائے اور پھرپاکستان کو شکست دے کر ختم کیا جائے۔چنانچہ یہی وہ اصل ہدف ہے جسے حاصل کرنے کے لیے امریکا اب انڈیا کو نہ صرف افغانستان بلکہ جنوبی ایشیاء میں پاورفل بنانے کی کوششیں کررہاہے۔امریکا کی آشیر باد سے انڈیا نے نہ صرف افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھالیا ہے،بلکہ افغانستان میں مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ممالک کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط کرنا شروع کردیے ہیں۔چنانچہ ایران کے ساتھ انڈیا کی بڑھتی ہوئی قربتیں اس کی واضح دلیل ہیں۔

ایران اور انڈیا کے باہمی تعلقات کا اگر جائزہ لیا جائے تو دونوں ملکوں کے تعلقات کی ابتدا1950 میں ہوئی۔1979ءمیں خمینی انقلاب کے بعد انڈیا نے بظاہر اس انقلاب کو سپوٹ نہیں کیا۔چنانچہ عراق ایران جنگ کے دوران انڈیا نے عراق کا ساتھ دیا۔جب کہ 1990 میں افغانستان میں ایران اور انڈیا دونوں نے متحد ہوکر افغان طالبان کے مخالف شمالی اتحاد کا ساتھ دیا۔نائن الیون کے بعد امریکا افغان جنگ میں انڈیا نے نیٹو اتحاد کا ساتھ دیا۔2002ء میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدے ہوئے اور ایران نے انڈیا سے بھاری مقدار میں اسلحہ خریدا۔2003ءمیں انڈیا اور ایران نے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم کرتےہوئے کہا کہ دونوں ملک افغانستان میں توجہ مرکوز رکھیں گے اور افغانستان میں انفراسٹراکچر کا کام کریں گے۔چنانچہ انڈیا نے 2001ءسے 2.2بلین ڈالر کی خطیر رقم افغانستان میں خرچ کی۔حتی کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کی نئی بلڈنگ بھی انڈیا نے بنائی،جب کہ ایران 2001ء سے اب تک 700ملین ڈالرز سے زائد کی رقم افغانستان میں خرچ کرچکاہے۔2003 سے بتدریج انڈیا اور ایران کے تعلقات بڑھتے رہے۔انڈیا نے مشکل وقت میں ایران کے ساتھ اتحاد قائم رکھااور جب امریکا کی طرف سے ایران کوجوہری توانائی کے سبب پابندیوں کا سامنا تھا تو انڈیا نے ایران سے گیس اور پٹرول خریدنے کا عمل جاری رکھا۔یاد رہے انڈیا ایران کے خام تیل کا75فیصد خریدتا۔جب کہ ایران کے پاس خلیج فارس میں موجود 13ٹریلین مکعب فٹ قدرتی گیس کو نکالنے کےلیے 3بلین سے 5 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔جس میں انڈیا انویسمنٹ کے لیے تیار ہے۔انڈیا ایران کی قدرتی گیس کو انڈیا منتقل کرنے کے لیے فی الوقت 1400کلومیٹر زیر سمندر پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنارہاہے۔جو چاہ بہار پورٹ سے ہوتی ہوئی براستہ عمان انڈیا پہنچی گی۔جس کے ذریعے روزانہ 31ملین کیوبک سے زائد گیس منتقل ہوسکے گی۔اس کے لیے انڈیا اور ایران کے درمیان 2016میں 4.5بلین ڈالر کا معاہد ہ بھی ہوچکاہے۔انڈیا کی اس خواہش کی تکمیل کےلیے چاہ بہار بندر پورٹ کے مکمل ہونے کا انتظارہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 2016-2017کے درمیان دونوں ملکوں کے درمیان 12.89 بلین ڈالرز کی باہمی تجارت ہوئی۔

2016میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی پہلی بار ایران کے دورے پر گئے ۔اس دورے کے دوران انہوں نے ایران کے ساتھ پہلی بار500بلین ڈالر کی خطیر رقم کے معاہدے کیے۔500بلین ڈالرز کی یہ رقم چاہ بہار پورٹ سمیت ایران میں ریل،روڈ ز اور دیگر انفراسٹراکچر میں خرچ کی جائی گی ۔بعدازاں 17فروری 2018کو ایرانی صدر تقریبا 10 سال بعد آفیشل دورے پر انڈیا پہنچے ۔اس دورے کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے 9 معاہدے کیے۔جس میں اہم معاہد ہ 18ماہ کےلیے چاہ بہار پورٹ کوانڈیا کے حوالے کرنا اور انڈیا کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے ویٹو پاور کی حمایت کرنا شامل ہے۔ایران اور انڈیا کے باہمی تعلقات کا مختصر جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایران اور انڈیا دونوں کے اہداف مشترکہ اور بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔چنانچہ دونوں ملک جنوبی ایشیاء میں بالادستی چاہتے ہیں۔دونوں ملک مل کر افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں ،جس پر کسی حدتک دونون کامیاب بھی ہوگئے۔دونوں بالخصوص انڈیاسنٹرل ایشیا اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی چاہتےہیں،جس کے لیے ایک طرف چاہ بہار پورٹ بنائی گئی تودوسری طرف عراق،شام اور لبنان میں ایران اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہے ۔اسی طرح دونوں ملک اقتصادی اور دفاعی طورپر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتےہیں۔چنانچہ اس کے لیے افغان باڈر اور بلوچستان میں وقتا فوقتا کشدیدگی میں دونوں ملکوں کی شمولیت کے شواہد کئی بار سامنے آچکے ہیں۔سب سے بڑی گواہی کلبھوشن ہے جو دونوں ملکوں کے آشیر باد سے پاکستان میں دہشت گردی کرواتارہا۔اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ"ایران انڈیا تعلقات" نامی کتاب کی مشہور بھارتی مصنفہ سجاتا ایشوریہ چیمہ کے مطابق ایران اور انڈیا کے درمیان 2003ء میں طے پانے والے معاہدے کے وقت نیو دہلی ڈیکلیئریشن میں یہ بات طے پائی تھی کہ انڈیا پاکستان جنگ کے وقت ایران انڈیا کو اپنے فوجی اڈے دے گا۔

سوال اب یہ ہے کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی ،خطے میں بڑھتی ہوئی انڈین ایرانی بالادستی اور سی پیک جیسے تاریخ ساز ترقیاتی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے کیا کرے ؟اس کے لیے بنیادی طور پرپاکستان کو اپنی پالیسیوں اور ترجیحات پر غور کرنا ہوگا۔دوست اور دشمن میں تفریق کرنا ہوگی۔وطن عزیز کے دشمنوں کے خلاف بلاتفریق ایکشن لینا ہوگا۔افغانستان سمیت پاکستان کے دیگر سٹرٹیجک ڈیپتھ کے حامل ملکوں اور پڑوسیوں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔بالخصوص افغانستان میں دشمنوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔افغان عوام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔خلیجی ممالک کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے تگ ودو کرنا ہوگی۔کیوں کہ عین ممکن ہے کہ انڈیا خلیجی ممالک کے ساتھ قرابتیں بڑھا کر انہیں رام کرلے ،جیسا کہ عمان کو وہ پہلے ہی رام کرچکاہے۔اس لیے پاکستان کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرنا ہوگی کہ چاہ بہار پورٹ دراصل گوادر پورٹ اور سی پیک کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ہے،ورنہ ایران کو کیا ضرورت تھی کہ وہ بندر عباس پورٹ کے ہوتے ہوئے محض گوادرسے75کلو میٹر کے فاصلے پر چاہ بہار پورٹ بنائے اور پھر اس کے ذریعے انڈیا پاکستان کو بائی پاس کرکے سنٹرل ایشیا،یورپ اور افریقا کی منڈیوں تک رسائی کے منصوبے بنائے۔اگر آج پاکستان نے اس معاملے میں لچک دکھائی تو کل پاکستان کو اس لچک کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔جیسا کہ افغانستان (سٹرٹیجک ڈیپتھ)کے معاملے میں پاکستان اب بھاری قیمت ادا کررہاہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Nabi Madni

Read More Articles by Ghulam Nabi Madni: 43 Articles with 21674 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2018 Views: 439

Comments

آپ کی رائے