سائبان - تیسری قسط ...

(فائزہ شیخ, Karachi)

""تمہیں حریم پسند آئی سائب ؟؟ ماشاء اللّه بھائی صاحب کی ساری بیٹیاں ھی خوبصورت اور ذہین ہیں۔۔"" کیتلی ایک ہاتھ میں پکڑے وہ سائب کے دائیں طرف کھڑی سائب کے کپ میں چاۓ انڈیل رہی تھیں
پسند ۔۔۔؟؟ وہ کسی مصنوعی سوچ میں گم ہونے کی کوشش کرتے ہوئے بولا ۔۔
مما میں ہمیشہ سے حریم کو پسند کرتا ہوں ۔۔پھوپو کے یہاں فلک کی منگنی میں حریم کو غور سے دیکھا تھا ۔۔پھر چچی جان جس اخلاق کے ساتھ ہم لوگوں سے ملیں ۔۔مما افسوس اس بات کا ھے کہ ہم لوگوں نے اس اسٹینڈیرڈ کو بیچ میں جگہہ دے کر اپنوں سے دوری اختیار کئے رکھی ۔۔"
سائب سے اس تفصیلی جواب کی امید نہیں تھی مما کو ۔۔سائب کی بات کو سن کر انکی گردن بے اختیار اقرار میں ہلی تھی گویا وہ سائب سے متفق تھی ۔فضہ اور فروا بھی ناشتہ کرنے ٹیبل کی طرف آرہی تھی
مما اب انکے لئے پلیٹس میں سینڈوچ لگا رہی تھی
گڈ مارننگ مما ۔۔گڈ مارننگ برو ۔۔" فروا ہمیشہ سے لاابالی رہی تھی ۔۔
گڈ مارننگ بھائی ۔۔گڈ مارننگ مما ۔۔فضہ بھی کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھننے لگی تھی ۔۔
تو؟ ۔ ۔جوس کا گلاس ایک ہاتھ سے پکڑ کر دسرے ہاتھ سے سینڈوچ کا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے فروا نے کہا
کیا سوچا ؟
‎کس بارے میں ؟؟
‎مما نے انجان بنتے ہوئے پوچھا جس پر فضہ اور سائب کی
نگاہیں اپس میں بات کرنے لگی تھی ۔۔
مما اب اتنا بھی نہ انجان بنیں ۔۔ہمیں پتہ ہی حریم ہماری بھابی بننے جارہی ھے ۔۔بس یہ بتائیں کہ شاپنگ کب سے شروع کریں ؟؟ اسنے فضہ کی طرف دیکھتے ہوئے قہقہہ لگایا ۔۔۔
بس تمہیں شاپنگ کی فکر ہورہی ھے مطلب ۔۔۔چچی جان کی طرف سے فون تو آجاۓ ۔۔
مما ہماری مشال سے ابھی مسنجر پر بات ہوئی ھے ۔۔انکا رپلائ اچھا ھی آئگا ڈونٹ ووری ۔۔۔۔""
فضہ نے چاۓ کے گھونٹ بھرتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔جس پر سائب کے چہرے کی مسکراہٹ اور مما کے دل کا اطمینان بڑھ گیا تھا ۔۔
چلو اللّه کا شکر ھے ۔۔ایسا کرتے ہیں کہ اسی جمعہ کو منگنی کی انگوٹھی پناہ دیتے ہیں " مما اب سائب کی طرف دیکھ رہی تھی جو موبائل میں غالباً حریم کی ھی تصویر دیکھ رہا تھا یہ تصویر اسنے پھوپو کے یہیں منگنی میں لی تھی جسکا علم حریم کو نہیں تھا ۔۔
جیسے آپکی مرضی مما ۔۔میں نکلتا ہوں آفس کے لئے ۔۔خدا حافظ "" وہ ناشتہ ختم کر چکا تھا اٹھتے ہوئے اسنے مما کے گلے سے لگ کر کہا تھا فضہ اور فروا بھی کالج کے لئے نکل گئی تھی اور مما اب آگے کے بارے میں سوچ رہیں تھیں ۔۔

***************--------------------**************

تین دن گزر چکے ہیں مشال ۔ ۔ہم چار دن میں پیسوں کا انتظام کہاں سے کرینگے ۔؟؟ حریم اور مشال چھت پر کپڑے سکھاتے ہوئے بات کر رہی تھی ۔حنا صحن میں سلائی مشین لگا کر بیٹھی ہوئی تھی جبکے منال اندر کمرے میں پڑھ رہی تھی ۔۔انشال کچن سے چاۓ کا کپ بھر کر اپنی کتابیں سمیتے ہوئے اوپر چھت کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسنے حریم کی۔ پریشان آواز سنی ۔۔
چاۓ کا کپ ایک۔ طرف رکھتنے ہوئے نزدیک پڑی کرسی اور کتابیں رکھتی ہوئی وہ بولی تھی
آپی ۔۔میری فرینڈ ھے نا ملیحہ۔۔میں نے اسے ہماری پرابلم شئیر کی تھی پھر اسنے مجھے سجسٹ کیا ھے کہ ہم میں سے کسی کو اب جاب کرنی چاہیے ۔۔وہ مجھے دو لاکھ ادھار بھی دے سکتی ھے اگر میں ۔۔۔۔انکے فائیو سٹار ریسٹورنٹ میں جاب کرلو ایس آ سنگر ۔۔۔"" لفظ تھے یا بارود جو حریم کا دماغ یہ سن کر پھٹنے کو تھا ۔۔مشال بھی پھٹی آنکھوں سے انشاء کو دیکھ رہی تھی انکے تاثرات سے انشاءل کو انکے انکار کا اندازہ ہوگیا تھا اگر اپی نہیں مانتی تو مما مان جایں۔ سوال ھی پیدا نہیں ہوتا ۔۔
"ملیحہ تمہاری فیس بک فرینڈ ہنا ۔۔۔تم ۔۔۔۔بیوقوف ہو انشاء ۔اپنے گھر کی باتیں باہر والوں سے شئیر کرنے کی۔ ضرورت کیا ھے ہمیں؟ ؟ "
حریم نہایت آہستگی سے مگر برہم لہجے میں بات کر رہی تھی کیوں کہ چھت پر ہونے والی ہر آہٹ کی آواز صحن میں بیٹھی حنا واضح طور پر سن سکتی تھی۔۔۔
"آپی پلیز ۔۔۔کس سے کہیں ہم اور کون ھے ہمارا ۔۔؟؟ آج تک کبھی تایا جن نے خبر نہیں لی ہماری ۔۔خود تو فیکٹری ۔۔گھر زمین کے مالک بن گئے ۔۔کونسا بونڈ نکل آیا تھا جو وہ امیر ہوگئے اور ہم۔ غریب رہ گئے ۔۔۔
""انشاء ۔۔۔کیا ہوگیا ھے تمہیں ۔۔؟؟ غریب ۔۔۔۔تو کیا ہوا کونسی چیز کی کمی رکھی ھے مما اور بابا نے ہاں ؟؟ کس نے ڈالی ہیں تمہارے ذہن میں یہ باتیں ۔۔۔"" مشال چلّا اٹھی تھی جس پر حنا متوجہ ہوچکی تھی ۔۔وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی ۔۔
کمی ۔۔۔کمی ہیں ہمیں ۔۔آپ کو بھی ھے ۔۔آپی کو بھی ھے ۔۔بس ہم لوگ چپ۔ رهتے ہیں کہ مما کو برا نہ لگ جاۓ مگر سچائی یہی ھے کہ ہمیں اس وقت دو لاکھ کی کمی ھے اور پچھلے دو سال میں جب یہ دو لاکھ جمع نہیں ہو پاۓ آگے کونسا قاروں کا خزانہ نکلےگا ہمارا ۔۔
انشاء اب تم بدتمیزی کر رہی ہو۔ ۔ ۔""حریم نے اسکے شانے کو پکڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا تھا ۔۔
آپی ۔۔۔آپکی تو بات تقریباً طے ہوچکی ھے سائب بھائی کے ساتھ جو بہت امیر ہیں ۔۔کل منگنی ہوجایگی اور پرسوں شادی بھی ۔۔مگر ہمارا کیا ۔۔اپکا تو ٹانکہ پکّا ہو چکا نا اب آپ کیوں سوچیں گی ہمارا ۔۔"
وہ حریم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بلا جھجھک بولے گئی اسے خود بھی شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا بول رہی ھے ۔۔بغاوت تھی انشاء کی آنکھوں میں ۔۔
ایک زناٹے دار تھپر حنا ھی طرف سے انشاء کے گال پر لگا تھا مشال کی آنکھیں ڈبڈباگئی تھی ۔۔حریم بھی انشاء کی باتیں سن کر سکتے کی سی کیفیت میں تھی ۔ حنا کا ہاتھ ابھی تک کانپ رہا تھا ۔۔یہ پہلی بار تھا جب اسے اپنی کسی بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی ضرورت پیش آئی تھی ۔۔
‎بے شرم ۔۔۔کیا سوچ کر تم نے یہ الزام۔ لگایا ھے حریم پر۔۔۔یہ کہنا چاہتی ہو کہ اسنے سائب کو دولت کے لئے پسند کیا ھے۔ ۔؟؟ تمہاری تائی جان خود آئی ہیں رشتہ لیکر ۔۔حریم کو اسکا کیا علم ۔۔۔کیسے کہ دیا تم نے کہ اسے ہماری اور اس گھر کی فکر نہیں ہاں ؟؟
‎حنا کی آنکھوں سے زار و قطار بہتے ہر آنسو میں وحید کا چہرہ بہ رہا تھا ۔۔حریم مشال انشال کے چہروں میں وحید کو تلاشتی اسکی نظریں جب خالی۔ ہاتھ لوٹی تو وہ اس بوسیدہ کمرے کی۔ دیوار کے ساتھ لگی نیچے کی۔ طرف ڈھے گئی ۔۔۔۔
‎مما ۔۔۔ آج پہلی بار آپکا مجھ پر ہاتھ اٹھا ھے جانتی ہیں۔ کیوں ؟؟ کیوں کہ آج آپ بےبس ہوگئی ہیں حالات کے ہاتھوں""
"
۔ ۔ ۔ ‎مشال اسکا پکڑ کر التجائیہ انداز میں بہتے آنسوؤں سے گویا ہوئی تھی "" ‎‎چپ کر جاؤ انشاء کیا ہوگیا ھے تمہیں "

‎یار آخر کب تک ہم۔ اس دربہ نما گھر میں رہینگے ۔۔کب تک "
‎ ہم اپنی خواہش اپنے ارمان صرف اسلئے چھپاتے رہینگے کیوں کہ ہم ایک عزت دار غریب وحید کی بیٹیاں ہیں ۔۔کیوں کہ ہماری تربیت حنا وحید نے کی ھے جسنے خود تو محنت اور کسمپرسی کی زندگی کاٹی ۔۔ اور ہمیں بھی وہی سیکھا دیا ۔"""
‎حریم اور حنا کمرے کی دیوار سے لگی رہی ۔۔انشاء کا لفظ لفظ سچ تھا ۔۔حنا نے کبھی وحید سے پیسے کا تقاضا نہیں کیا حنا اپنے شوق اور خواہش مارتی رہی یکے بعد دیگرے بیٹیوں کی پیدائش نے اسکے پہننے اوڑھنے کے انداز کو۔ واضح بدل دیا تھا ۔۔
‎گھر اور بچوں کی۔ ذمہ داریوں میں وحید کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اسنے محسوس ھی نہیں۔ کیا کہ گھر کہ باہر بھی ایک۔ دنیا ھے جس سے اسکی بیٹیوں کا واسطہ پر سکتا ھے۔ ۔اپنی بیٹیوں کو اخلاق ۔۔ اعتماد ۔۔ذہانت خوش اسلوبی تو سیکھا چکی تھی وہ مگر اسنے کبھی یہ نہ سوچا کہ یہ بیٹیاں اسکول اور پھر کالج تک کہ سفر میں کتنی بڑی ہوئی
‎ ۔ وہ سمجھتی رہی کہ یہ وہی گڑیاؤں سے حریم مشال اور انشال ہیں جو وحید اور حنا کے ارد گرد منڈلاتی رہا کرتی تھی ۔۔جو بسکٹ ٹافی چاکلیٹ
‎کی فرمائیش سے زیادہ کچھ مانگتی ھی نہیں تھی
‎ اسے احساس ہورہا تھا کہ ان۔ بیٹیوں نے خواہشیں کی ہیں مگر عزت کا درس دےکر ۔۔غربت کو جواز بنا کر ان خواہشات
کو اظھار کے لفظ دینا ھی بھول۔ گئی تھی بیٹیاں ۔۔آج انشال کا یہ روپ اسے بہت کچھ سمجھا گیا ۔۔تو کیا ہوا اگر وہ غریب باپ کے یہاں پیدا ہوگئی ۔۔ترقی اور آسودہ زندگی کے خواب دیکھنا کوئی گناہ تو نہ تھا ۔۔کیا تھا اگر اسنے بھی بیٹیوں کو گھر گھرہستی ۔۔ہنر۔۔تعلیم اور تربیت کے ساتھ یہ اعتماد بھی دیا ہوتا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوکر بھی اپنے خواب پورے کر سکتی ہیں ۔۔صرف سلائی سینٹر میں حریم اور مشال حنا کا ہاتھ بٹا کر کیا کر لیتی۔۔کیا کر پائیں ؟؟ کچھ بھی نہیں ۔۔۔اسکی ذہین ماہر بیٹیاں آج دو لاکھ روپے کی کمی کی وجہہ سے گھر سے بےگھر ہونے کی تھی ۔۔اسکا مقصد کو اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ نظروں کے سامنے رکھنا تھا ۔زمانے کی تپتی نگاہوں سے بچانا تھا ۔۔معاشرے میں۔ دنداناتے بھیڑیوں سے بچانا تھا ۔مگر وہ جب تک باہر نہ نکالتی انکو کیسے پتہ چلتا ان بیٹیوں کو کہ
آسان نہیں ھے زمانے میں عورت کا بے سائبان ہونا ۔۔۔بغیر چھت کے گھر میں داخل ہونے کے لئے کوئی دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا ۔ بلکے لوگ اسے عوام جاگیر سمجھ کر جب چاہیں جہاں سے چاہیں کود پرتے ہیں ۔۔
۔سمجھداری کی باتیں کرنے والی مشال آسمان پر ارتے پرندوں کو دیکھ کر نجانے کس سے التجا کر رہی تھی ۔۔۔کوئی آئے اور مدد کرے ۔۔۔
انشال تو اپنے دل کی بھراس نکال کر نیچے جا چکی تھی ۔۔منال بھی اس شور کو سن کر کچھ سہمی کچھ گھبرائی تخت پر بیٹھی آنسو روکنے کی ناکام کوشش میں اپنے پیارے بابا کو یاد کر رہی تھی ۔۔۔
"" بابا ۔۔۔دیکھ رہے ہیں نا آپ۔ ۔۔جب آپ نے ہمیں زمانے کی تلخیوں سے لڑنا سکھایا ھی نہیں تھا تو کیوں ہمیں اکیلا چھوڑ کر گئے ہیں ؟؟ بابا آپ واپس آجائیں نا ۔۔ابھی مما کو آپکی ضرورت ھے ہمیں۔ ضرورت ھے بابا۔ ۔۔۔دیکھیں نہ انشال نے کیا کیا بول دیا آج مما کے سامنے ۔۔۔بابا کیا انشال غلط ھے ؟؟ کیا ہمیں اپنی چھت کی خود حفاظت کرنی ہیں یا پھر آپ بنا کر گئے ہیں کسی کو ہمارا سائبان ؟؟؟ بتائیے نا بابا ۔۔۔"""
اسے معلوم ھی نہ پڑا کب اسکی سسکیاں آواز پکڑ کر آہ میں بدلی تھی ۔۔انشال اسکے قریب آکر بیٹھ گئی ۔۔۔
منال ""
کیا تمہیں لگتا ہیں میں غلط کہ رہی ہوں ؟؟ کیا تمہں شوق نہیں ھے کہ تمہارے پاس اچھا سا فون ہو ۔۔جیسے تمہاری فرینڈز کے پاس ھے ۔۔اچھے اچھے ڈیزائنر کپڑے ہو جنکا ہماری کزنز شوآف کرتی ہیں ہمارے آگے ۔۔۔اللّه نے ہمیں وسائل کم دئے ہیں مگر ہمیں صلاحیت تو دی ھے کہ ہم اپنا کل بدل سکیں ۔۔اگر میں اپنی صلاحیت اپنے ٹیلنٹ کو آزما کر اپنے گھر کو بچانا چاہتی ہوں تو کیا غلط ھے۔ ۔؟؟؟
منال کی روئی آنکھوں میں انے والے چمک انشال کے سوالوں کا جواب تھی۔ ۔مشال بھی شاید یہی سوچ رہی تھی کہ ایک بہترین لکھاری ہوکر بھی وہ کبھی اپنے دکھ اور احساس کو لفظ نہ دے پائی ۔۔
کسی عزم کو دل لئے وہ تیزی سے سیڑھی اتری تھی ۔۔۔
اب چھت کو بچانا بھی تھا اور بنانا بھی ۔۔
((((Continue))))

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فائزہ شیخ

Read More Articles by فائزہ شیخ: 9 Articles with 4308 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2018 Views: 341

Comments

آپ کی رائے