مظلوم کی آہ

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

وہ پچھلے پانچ دن سے مسلسل امید کی شمع جلا ئے میرے پاس آرہا تھا ۔ غم اداسی دکھ کرب اوربے چارگی اُس کے چہرے کا حصہ بن چکی تھی وہ چلتی پھرتی زندہ لاش تھی 'بے بسی کا چلتا پھرتا اشتہار تھا آنکھوں میں امید کے دیپ جلا ئے وہ دردر کی ٹھو کریں کھا تا پھر رہا تھا شدیدپریشانی میں تیس سال کی عمر میں وہ پچاس سال کا لگتا تھا کٹی پتنگ کی طرح ہوا کے دوش پر وہ اِدھر اُدھر گھو م رہا تھا پنجاب کے وہ دور دراز علا قے سے محنت مزدوری کر نے وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لا ہور آیا تھا نسل در نسل غربت کی چکی میں پسنے کی وجہ سے اُس کے پاس پیسے نہیں تھے اِس لیے دونوں میاں بیوی نے اپنا اور تین بچوں کاپیٹ پالنے کے لیے کسی امیر گھر میں نو کر ی کر لی تھی بیوی سارا دن امیر آدمی کے گھر میں نوکری کرتی اور اِس کے شوہر نے قسطوں پر رکشہ لے لیا تھا گھر والے دونوں سے خو ب کا م کر اتے دونوں سے جانوروں کا سلوک روا رکھا جا تا دونوں کو گھرمیں مو جود سرونٹ کوارٹر میں رکھا گیاتھا تا کہ دن رات کام کرا کے اِن دونوں کی ہڈیوں کا خون چوسا جا سکے دونوں میاں بیوی دن رات زندگی کی بقا کے لیے جانوروں کی طرح کام کر تے رات کو یہ بندہ رکشہ چلا تا جو اِس نے قسطوں پر لیا ہوا تھا کیونکہ اِن کے پاس دوسرا کوئی آسرا نہیں تھا اِس لیے سر جھکا ئے کام کئے جا رہے تھے 'بچوں کو سرکاری سکول میں داخل کیا ہوا تھا اب اِن کا سہانہ خواب اِن کے بچے تھے جو پڑھ لکھ کر اِن کا سہا را بن سکیں اپنے حال میں مست دونوں میاں بیوی زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک اِن معصوموں کی زندگی میں بھو نچال آگیا بے یار ومددگار اپنوں کی مانند زندگی گزارنے والے تیز آندھی اور طوفان کی زد میں آگئے ایک دن مالک کی بیگم کا زیور اور پیسے چوری ہو گئے الزام سیدھا سیدھا اِس کی بیگم پر لگا دیاگیا جواز یہ بتا یا گیا کہ کیونکہ غریب بیگم کے کمرے میںکا م کر تی تھی پہلے تو دونوں میاں بیوی کو گھر کی بیسمنٹ میں قید کر دیاگیا کئی دن دونوں کو معصوم بچوں کے سامنے ما را جاتا رہا ۔ غریب عورت بار بار قسمیں کھاتی رہی آہ و فریاد تر لے منتیں کہ چور میں نہیں ہو ں آپ جومرضی قسم قرآن لے لیں میں نے چوری نہیں کی لیکن ما لک طا قتور فرعون تھے جنہیں اپنی دولت طاقت اور اثر رسوخ پر بہت گھمنڈ تھا وہ بضد تھے کہ چوری تمہاری بیوی نے کی ہے اور تم نے جا کر زیو ر بیچا ہے جب کئی دن انہیں نجی جیل میں رکھنے کے با وجود تسلی نہ ہو ئی تو چند رشتہ داروں کے ڈرانے پر بیوی پر الزام لگا کر اُسے تھا نے میں پکڑوا دیا کہ یہ ملزم ہے اِس نے چوری کی ہے اِس سے چوری کے زیورات اور پیسے واپس کرا ئے جا ئیں مالک معاشرے کا طاقت ور انسان تھا اپنے اثرو رسوخ کے بل بو تے پر گرفتار کرا دیا اور تھانے دار پر خوب پریشر اور سفارش بھی کی کہ ملزم یہی عورت ہے اِس سے پیسے اورزیورات برآمد کرا ئے جا ئیں جب بیوی تھا نے میں قیدی بنی تو خا وند بیچارے نے پہلے تو مالک کے پائوں پکڑے کہ ہم غریبوں پر رحم کیا جائے ہم مجرم نہیں ہیں تو مالک نے ٹھو کریں ما رتے ہو ئے کہا اپنی بیوی سے کہو سچ بولے ورنہ تم کو بھی بند کرا دوں گا پھر تم دونوں کے پیٹوں سے چوری کا سامان برآ مد کرا لوں گا ۔ اب اِس بیچارے نے دائیں با ئیں ہا تھ مارنے شروع کر دئیے تھا نے دار کے پا ئوں پکڑے تھا نے دار جانتا تھا کہ یہ بے قصور ہیں لیکن وہ مسلسل ظلم کئے جا رہا تھا یہ بیچارہ اِس منقسم مزاج معا شرے میں پس رہاتھا جس کے بار ے میں قیام پاکستان سے پہلے ہا ئیکو رٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ لو گ بستر مر گ پر بھی غلط بیان دینے سے با ز نہیں آتے کیونکہ مر تے وقت بھی یہ اپنے دشمنوں کا نا م لکھوا دیتے ہیں چاہے انہوں نے قتل کیا ہو یا نہ کیا ہو دوسرا ہما رے معا شرے کا یہ المیہ ہے کہ اگر کسی کے پاس دولت یا اقتدار آجائے تو اُس کا اندر کا فرعون جاگ جاتا ہے پھر یہ اپنے محکوم یا دوسروں کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں طرح طرح کے منصوبے بنا کر مخالفین سے انتقام لیتے ہیں اُن کی زندگی دنیا میں ہی جہنم بنا دیتے ہیں مخالفین پر جھو ٹے مقدمے بنانا اِن کے با ئیں ہا تھ کا کھیل ہو تا ہے مخالفین کی جا ئیداد پر قبضہ کر نا جھو ٹے الزام لگا کر نو کری سے نکلوا نا غنڈوں سے مروانا بچوں کو اغوا کی دھمکیاں دینا خو اتین پر الزامات اور تنگ کر نا غصہ زیا دہ ہو تو کرا ئے کے قاتلوں سے مخا لفین کو قتل کرا نا بھی شامل ہے لڑکیوں کا اغوا جنسی تشدد پھر لا ش غائب کر دینا اِیسے انتقامی کاموں سے اِن کے انتقام کی آگ ٹھنڈی ہو تی ہے اِن فرعونوں کے ظلم کا شکا ر ہو نے والے در بدر ٹھو کریں کھاتے پھرتے ہیں کو ئی اُن کا والی وارث نہیں ہوتا پھر یہ بے بس لو گ سیاسی وڈیروں کے ڈیروں پر جانوروں غلاموں کی طرح سر جھکا ئے بیٹھے ہو تے ہیں یہ وڈیرے اپنے ڈیروں کا رش بڑھا نے کے لیے روزانہ اِن کو بلا کر شام تک بٹھا چھو ڑتے ہیں مظلوم لو گ رولنگ سٹون کی طرح ایک در سے دوسرے درٹھو کریں کھاتے پھرتے ہیں کبھی میڈیا کی کالی بھیڑوں کے ہا تھوں لٹتے ہیں اورکبھی عدالت میں اِن مظلوموں کا پہلا ٹا کرا ایس ایچ او صاحب سے ہو تا ہے جس کی آنکھوں اور جسم پر چڑھی چربی اُسے فرعونی کر سی پر بٹھا ئے ہو تی ہے اگر ظالم یا طا قت ورہو تو یہ مظلوم کو اوربھی دھمکیاں دے کر واپس بھیجتا ہے اگر ظلم کر نیوالا صاحب اقتدار فوجی جر نیل بیو رو کریٹ سیاستدان اعلی عہدے دار ہو تو مظلوم کی سزا میں اور بھی اضا فہ ہو جاتاہے جو مظلوم داد رسی کے لیے اِس ایس ایچ او صاحب کے پاس آتاہے اپنا آپ بیچ کر اُس کی جیب گرم کر تا ہے لیکن وہ پھر بھی غریب کی آہ پر کان نہیں دھرتا اگر مظلوم بیچارہ لوگوں کی منتیں تر لے کر کے ایس ایچ او کو سفارش کر ا لے تو صاحب بہا در اِس پر نا راض ہو کر کہتے ہیں تمہا ری یہ جرات تم مجھے سفارش کر اتے ہو تم جا نتے ہو کس کے خلا ف آئے ہو زندگی چاہتے ہو تو آرام سے بیٹھ جا ئو کبھی بھو ل کر بھی تھا نے دوبارہ نہ آنا حرام خو ری طا قت ور کی چاپلو سی تھا نے داروں کی ہڈیوں تک سرا یت کر گئی ہے ہماری عدالتوں کے جج صاحبان کے جا ری بیانات اخبا رات میڈیا پر آنے کی بجا ئے سسٹم کو انصاف پر قائم کر دیں تو بہتر ہو گا ورنہ روز قیا مت تما م ذمہ دار کیڑے مکو ڑوں کی طرح انسانوں کے قدموں میں چھو ڑ دئیے جا ئیں گے اب ہم پھر مظلوم رکشہ ڈرائیور کی طرف آتے ہیں جو سارا دن تین بچوں کو ساتھ لئے مدد مدد پکا رتا پھر تا تھک ہا ر کر بابوں بزرگوں کے پاس جانا شروع کر دیا روزانہ آتا امید لے کرچلا جاتا آج پھر آیا ہوا تھا آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگی تھی کہ کو ئی بھی میری سننے والا نہیں ہے مجھے یقین تھا کہ یہ بیچارا بے قصور ہے لیکن ہما رے عوام کش نظام میں پس رہا تھا اُس کا غم دیکھ کر میری آنکھیں بھی چھلک پڑیں میں نے اپنے پو لیس آفیسر دوست کو فون کیا اِس کی بے گناہی کا یقین دلا یا اُس کے پاس بھیج دیا ۔ دوست نے کیس کو سنجیدگی سے لیا ساری بات سنی مو با ئل کا لوں کا ریکا رڈ نکلوایا تو پتہ چلا کہ اُسی رات مالک کی بیٹی کسی سے مسلسل رابطے میں تھی شک کی بنیا د پر جس نمبر پر ہ رابطے میں تھی اُس کا پتہ کر کے لڑکے کو پکڑوایا تو چند منٹوں میں ہی اُس بوا ئے فرینڈ نے اقرار جرم کر لیا کہ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی ما لک کی بیٹی نے مجھے گھر بلا کر خو د یہ پیسے اور زیورات دئیے تھے ظالم فرعون مالک کو بلا کر بتا یا گیا ساتھ ہی میڈیاکا خو ف بھی دلا یا تو اُس نے اپنی درخواست واپس لی اِسطرح غریب رکشہ ڈرائیور کی بیوی پولیس کے شکنجے سے نکلنے میں کامیاب ہوئی لیکن ہما را معا شرہ تما م اخلا قی مذہبی قدروں سے آزاد ہو چکا ہے طا قت وراپنی مرضی خوا ہش کے لیے جسے چاہے پکڑوا دیتا ہے لیکن دھرتی کے یہ تمام طاقت وربا اثر ظالم فرعون یہ بھول جاتے ہیں کہ جب کبھی کسی نے طا قت کے نشے میں فرعون یا خدا بننے کی کو شش کی تو کائنات کا اکلوتا وارث خدا ئے لا زوال حر کت میں آکر اُس ظالم کو پتاشے کی طرح دریا ئے نیل کی تند و تیز مو جوںمیں گھو ل دیتا ہے اورنشان عبرت بنا دیتا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 583 Articles with 301761 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2018 Views: 697

Comments

آپ کی رائے