زر خرید غلام اور نورانی قندیل

(Rabi Ul Alam, )

ایک شخص نے غلام خریدا تو غلام نے مالک سے کہا: اے میرے آقا! میں آپ کا غلا م ہوں پرمیں آپ سے تین شرطیں چاہتا ہوں۔ مالک نے کہا : وہ کیا؟ تو غلام نے جواب دیا۔ میری شرطیں یہ ہیں:۔ ۱ ) جب نماز کا وقت ہوجائے تو آپ مجھے نماز ادا کرنے سے نہ روکیں۔ ۲) آپ مجھ سے دن میں جو چاہیں خدمت لیں لیکن رات میں مجھے اپنی خدمت میں مشغول نہ رکھیں۔ ۳) مجھے رہنے کے لئے ایسا کمرہ دیں جس میں میرے علاوہ کوئی اور نہ آئے۔

مالک نے کہا: تمہاری تینوں شرطیں مجھے منظور ہیں۔ ان کمروں میں سے جو چاہو اپنے رہنے کے لئے پسند کرلو۔ غلام نے سب کمروں کا جائزہ لیا اور ان میں جو سب سے خراب کمرہ تھا اسی کو پسند کرلیا۔ آقا نے پوچھا: تم نے یہ خراب کمرہ پسند کیوں کیا جب کہ اس سے بہتر کمرے موجود ہیں؟ غلام نے کہا: آقا! آپ کو معلوم نہیں کہ خراب گھر اللہ تعالیٰ کی یاد سے بہتر ہوجاتا ہے۔چنانچہ وہ غلام دن میں آقا کی خدمت کرنے لگا اور رات میں اس کمرے میں رہنے لگا۔

ایک رات اس کے آقا نے شراب و کباب اور لہو و لعب کی مجلس منعقد کی۔ جب آدھی رات ہوئی اور اس کے دوست و احباب چلے گئے تو وہ اپنے گھر کا جائزہ لینے لگا جب وہ گھومتا ہوا غلام کے کمرے کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ کمرہ روشن ہے اس میں نور کی ایک قندیل لٹکی ہوئی ہے اور غلام سر سجدہ میں رکھ کر اپنے پروردگار سے اس طرح مناجات کر رہا ہے:
’’ اے میرے پروردگار! تو نے دن میں مالک کی خدمت میرے ذمہ واجب کردی ہے۔ اگر مجھ پر یہ ذمہ داری نہ ہوتی تو میں شب و روز تیری عبادت میں مشغول رہتا۔ اے میرے رب! میرا عذر قبول فرمالے‘‘۔

مالک رات بھر اسکی طرف دیکھتا رہا جب صبح ہوئی تو قندیل بجھ گئی اور کمرے کی چھت پہلے کی طرح ہموار ہو گئی۔ وہ واپس لوٹا اور اپنی بیوی کو سارا ماجرا سنایا۔ جب دوسری رات آئی تو وہ مالک اپنی بیوی کو لے کر غلام کے دروازہ پر پہنچا۔ اندر دیکھا تو غلام سجدہ میں تھا اور نورانی قندیل روشن تھی ۔ وہ دونوں (میاں بیوی) غلام کے دروازہ پر کھڑے رہے اور پوری رات اسے دیکھ دیکھ کر روتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے غلام سے کہا: ہم نے تجھے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آزاد کردیا ہے تاکہ تو فراغت سے اس کی عبادت کر سکے پھر اسے رات کا واقعہ بتایا۔ غلام نے جب یہ سارا ماجرا سنا تو دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر عرض کیا:
یَا صَاحِبَ السِّرِّ اِنَّ السَّرَّ قَدْظَھَرَ
وَلَا اُرِیْدُ حَیٰوتِیْ بَعْدَ مَااشْتَہَرَ
اے صاحب راز! راز ظاہر ہوگیا، اب اس راز کے ظاہر ہونے کے بعد میں زندگی نہیں چاہتا لہٰذا میری روح قبض کرلے۔
اتنے میں وہ گرا اور اس کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی۔ رحمۃاللہ علیہ (مکاشفۃ القلوب)

معلوم ہوا کہ جب بندہ اخلاص اور للٰہیت کے ساتھ ریاکاری سے پاک اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کرتا ہے اپنی دنیاوی مصروفیات سے وقت نکال کر اس کی ذات سے لو لگاتا ہے راتوں کو اٹھ کر اس کے حضور سر بسجود ہوتا ہے تو چاہے وہ دنیا کے کسی بھی منصب پر فائض ہو اللہ تعالیٰ کی رحمت یونہی ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے جسے دیکھ کر لوگ عش عش کر اٹھتے ہیں اور ان کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ بن جاتی ہے پھر جس جگہ یہ اللہ کی رضا کے طالب جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس اجڑے چمن کو بھی ان کے دم سے آباد کر دیتا ہے ۔ جب بندہ مومن خلوص کے ساتھ عبادت کرتا ہے اور نمازوں کی پابندی کرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اسے کیسے انعامات و اکرامات سے نوازتا ہے حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کریں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: نماز میں دس خوبیاں ہیں۔
۱) نماز ، نمازی کے چہرے کی رونق ہے۔ ۲)نماز قلبِ مومن کی روشنی ہے۔ ۳)نماز بدن کی صحت و عافیت کی ضامن ہے۔ ۴)نماز قبر کی مونس و ہمدم ہے۔ ۵)نماز نزولِرحمتِ حق کا باعث ہے۔ ۶)نماز آسمانی خیرات و برکات کی کنجی ہے۔ ۷) نماز سے میزانِ عمل بھاری ہوگا۔ ۸)نماز جہنم کی ڈھال ہے۔ ۹)جس نے نماز قائم رکھی اس نے اپنا دین قائم رکھا۔ ۱۰)جس نے نماز چھوڑ دی اس نے اپنا دین ڈھا دیا۔ (تنبیہ الغافلین)

اللہ جل شانہ ہمیں بھی عبادتوں کا ذوق و شوق عطا فرمائے اور نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیقِ رفیق بخشے (اٰمین)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 16441 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2018 Views: 429

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ