وہ کیوں گئ ؟

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

وہ اُس کے سامنے آکر بیٹھ گئ وہ کون تھی اُسے نہیں پتہ تھا وہ تو چاۓ پی رہا تھا اُسے دور سے حسین مناظر اچھے لگتے تھے لیکن پاس آنے پر منظر بدل جاتا اب وہ ایک منظر کی جگہ کوئ واقعہ بنّا شروع ہو جاتا اور اُس پر ذمہ داری سی عائد ہونے لگتی وہ کہنے لگا
جی فرمائیے !!
مسکراہٹ کے ساتھ جواب آیا
میں تھوڑی دیر یہاں بیٹھ جاؤں
جی بالکل اور آپ پہلے ہی بیٹھ چُکی ہیں

بولی
میرا دل گھبرا رہا تھا میری دوست کسی کے ساتھ نکاح کرنے گئ ہوی ہے
بس آپ کے پاس بیٹھ کر گھبراہٹ میں کمی ہو گئ
حامد نے کہا کوی فکر کی بات نہیں آپ اطمنان سے بیٹھیں
جس ریسٹورنٹ میں وہ اکیلا بیٹھ کر چاۓ پیتا تھا اور وہاں آنے جانے والے جو اُس سے مانوس ہو چُکے تھے وہ بھی حیرت سے تک رہے تھے کہ یہ آج اس کے ساتھ کون ہے
یہ تجسس بھی عجیب چیز ہے یہ نہ ہو تو ہر بات عام سی بات ہو جاۓ اور ساری دلچسپی اور جستجو ہی ختم ہو کر رہ جاۓ
مجھے بھی تجسس کا قائم رہنا اچھا لگتا ہے اور میں اکثر اپنے بارے میں سب کچھ بتانا پسند نہیں کرتا مگر جو جان چکا ہو اُسے بتاتا تھکتا نہیں ہوں اور کہیں خاموشی کو ترجیح دیتا ہوں اور خاموشی کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اور آنکھیں وہ کچھ کہ جاتی ہیں جو زبان بھی نہ کہہ پاۓ
چاۓ کا دھواں اُٹھ رہا تھا اور تجسس کی فضا میں مل رہا تھا اور کسی کا چہرہ کِھل رہا تھا اور دل سے دل مِل رہا تھا کہ وہ بول پڑی مجھے ایک جگہ نوکری کے لئے انٹرویو دینا ہے آپ ساتھ چلیں
وہ انکار نہ کر سکا کیونکہ وہ دل ہی دل میں اُس کی ایک دن کی ذمہ داری قبول کر چکا تھا جو اُس کے اندر کے وجود نے اُس پر عائد کی تھی
وہ اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گیا اور جگہ ڈھونڈنے میں کافی وقت لگ گیا پھر حامد نے لڑکی کو واپس اُسی ریسٹورنٹ میں چھوڑ دیا جہاں اُن کی ملاقات ہوی تھی اور دونوں نے اپنی اپنی راہ لی
دوسرے دن وہ پھر اُس کے سامنے بیٹھی تھی اور کچھ دن یہ سلسلہ چلتا رہا
ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا وہ سامنے بیٹھی تھی کہنے لگی میں ہاتھ دھو کر آتی ہوں وہ اُٹھ کر گئ تو اچانک ایک اور لڑکی آئ اور سلام کر کے پوچھا یہ کون ہے تو اُس نے جواب دیا میں نہیں جانتا بس سرسری سی ملاقات ہے
یہ پوچھ کر وہ چلی گئ اتنے میں وہ ہاتھ دھو کر آی تو اُس کی نظر جاتی ہوی لڑکی پر پڑی تو وہ حامد سے ملے بغیر ہی چلی گئ
اور دوبارہ نہ نظر آی
وہ گئ تھی پانی سے ہاتھ دھونے اور اُن دونوں کو ملاقات سے ہی ہاتھ دھونے پڑ گۓ
یوں یہ سلسلہ ملاقات کا منقطع ہوا اور منطقی انجام سے پہلے ہی غیر منطقی انجام کو پہنچ گیا جس کی منطق تقدیر کو تو ضرور پتہ ہو گی یا شائد اُس لڑکی کو پتہ ہو لیکن حامد کو نہ پتہ چل سکا کہ یہ کیا ہوا اور وہ کیوں گئ ؟ نہ ابتدا کی خبر نہ انتہا معلوم

نہ جنوں رہا نہ پری رہی
جو رہی سو بے خبری رہی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 233 Articles with 91155 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2018 Views: 455

Comments

آپ کی رائے