گُفتار کا تو غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا

(Aqib Shafiq Pirzada, )

نوے کی دھائی میں جب میں نے ہوش سنبھالا تو ہم نیلم ویلی کے انتہائی خوبصورت گاؤں کٹن میں رہتے تھے۔۔۔ ہم سب دادا جان کے ساتھ ایک گھر میں رہتے تھے۔ دادی اماں ریڈٰیو بہت شوق سے سنا کرتی تھیں۔۔۔۔ دادی اماں اور دادا جان دونوں انتہائی مذھبی انسان تھے۔۔۔ انہوں نے اپنے کنبے کو اسلامی تعلیمات کے مطالعے کا شعور دیا۔۔۔ دادا جان چونکہ اسلامیات کے پروفیسر تھے یہی وجہ تھی کہ ہمارے گھر میں کتب کئی یونیورسٹیز کی لائیبریری کے برابر تھیں۔۔۔۔۔

میں دادی جان کا لاڈلہ تھا۔۔ مجھے یاد ہے دادی اماں ہر گھنٹے بعد ریڈیو لگا کر باقاعدہ اہتمام سے برامدے میں بیٹھ کر گھر کے سامنے بہتے دریا کو دیکھا کرتیں۔۔۔۔ ریڈیو کشمیری زبان میں گفتگو کر رہا ہوتا۔۔۔۔۔ ہم بہن بھائیوں کو کشمیری زبان نہیں آتی تھی۔۔۔ شائد دادا جان کو بھی نہیں آتی تھی۔۔۔۔۔۔ دادی اماں ریڈیو سن کر مسکراتی رہتیں اور انکی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی۔۔۔ یہ آنسو محض ایک دن کی بات نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔ ہر روز ایسے ہی آنسو خدا جانے کون سے ضبط کے بند توڑ کر دامن تر کرتے رہتے۔۔۔۔

آنسو کبھی میں صاف کر دیتا اور کبھی وہ خود خشک ہو جاتے۔ میں کبھی نہیں جان پایا کہ دادی اماں کے اندر اٹھنے والے ھول کیا تھے؟ کس شے نے انہیں رُلائے رکھا۔۔۔ اُن کے دل پر کیا بیتتی تھی کہ انسوؤں کی لڑیاں زارو قطار جاری رہتیں۔۔ انکے آنسو بہتے سمے انکو آنے والی ہچکیوں کے بیچے کون سی کرختگیاں تھیں۔۔۔۔۔ میں کبھی نہ جان پایا اور احساس ہوا کہ جان سکوں۔۔
کیونکہ دادی اماں بہت اچھی تھیں۔۔۔ وہ مجھے ہر روز سیب کاٹ کر دیا کرتیں۔۔۔۔ پھلوں کا انبار ہوتا تھا انکے کمرے میں۔۔۔ جب بھی ادھر جاتے تو جھولی بھر کر پھل دیتی۔۔۔۔ مجھے دادی اماں مکمل جنت لگتیں ۔۔ امی ابو اکثر ڈانٹ دیتے لیکن کیا مجال کبھی دادی اماں کے منہ سے ایک لفظ ٖغصے بھرا نکلا ہو۔۔۔۔
ہاں کبھی کبھار ابو کی اچھی بھلی دھلائی ہوتی تھی جب وہ ہم میں سے کسی بھی بہن بھائی کو کچھ کہتے۔۔

ہم جیسے جنت میں رہتے تھے۔۔۔ سو، ہمیں کیا پڑی تھی دادی اماں کے آنسوؤں کے پس پردہ حقائق جاننے کی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔؎ ؎ ؎

بر صغیر پاک و ہند کے شمال میں ہمالیہ پہاڑی سلسلے میں وہ بڑی پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ گاؤں کے عقب میں آسمان کو چھوتا پہاڑ سال بھر دیودار کے درختوں سے لہکتا نظر آتا۔۔۔۔ سردیوں میں کبھی کبھار شرما کر سفید شال اوڑھ لیتا تھا۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے سفید نقاب سے چہرہ دکھانا شروع کر دیتا۔۔۔۔
گاؤں کے سامنے شفاف پانی لیئے ندی بل کھاتی گزرتی تھی۔ پانی کی شفافیت اور ندی کے یکے بعد دیگرے بل۔۔۔ اور ندی کے اطراف میں گھنے جنگل ہمیشہ سے مسحور کن منظر پیش کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرینگر سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع اس گاؤں کے لوگ سامان ضرورت کبھی سری نگر سے لاتے تو کبھی مظفر آباد سے۔۔

ایک روز حسب معمول کچھ لوگ مظفرآباد آئے ہوئے تھے اور کچھ گاؤں میں ہی تھے کہ ریڈیو پر تقسیم ہند و پاک کا اعلان ہوا۔۔ آج تک ایک ہی شمار کیئے جانے والے گاؤں کے بٹوارے کر دیئے گئے۔۔۔۔ گاؤں کے پہلو سے بارڈر کھینچ دیا گیا۔۔۔۔ اِدھر والے اُدھر جانے سے مانع اور اُدھر والے اِدھر آںے سے مانع قرار پائے۔۔۔ ہزاروں مائیں اپنے بچوں سے دور ہو گئیں۔۔۔۔۔ سیکڑوں شوہر اپنی شریکہ حیات سے اور کئی دیگر لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں سے دور کر دیئے گئے۔۔۔

یہ لکھنا آسان ہے ۔۔۔ سہنا بہت دشوار ہے۔۔۔۔ لکھنے یا پڑھنے والے کو کیا علم کہ ان ماؤں پر بیتے رنج و الم کے احساسات کیا تھے جن کے بچے سرحد کے دوسرے پار تھے۔۔۔۔

اسی اذیت ناک تقسیم میں ہماری دادی اماں اور انکا ایک بھائی آزاد کشمیر میں رہ گئے، انکا باقی خاندان مقبوضہ کشمیر میں مقید ہو کر رہ گیا۔

نیلم گاؤں کے پاس مقبوضہ آزاد کشمیر کی تفریق کرنے والا دریائے نیلم وسیع پاٹ میں بالکل پرسکون بہتا ہے۔۔۔ یہ جگہ عموماً مقام وصال جانا جاتا تھا۔۔۔ کیونکہ سرحد کے آر پار سے بچھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے یہاں آتے تھے۔۔۔ آواز تو پار جانے سے رہی۔۔۔۔ خطوط کا پتھر کے ساتھ باندھ کر تبادلہ کیا جاتا تھا۔۔۔۔
میری یادداشت میں دادی اماں ایک مرتبہ کیرن گئیں ۔۔۔۔۔ مجھے بالکل یاد ہے جب وہ تیاری کر رہی تھیں تو۔۔۔۔۔۔ میں نے پہلی مرتبہ دادی اماں کو اتنی بےچینی میں دیکھا۔۔۔۔ پہلی مرتبہ دیکھا کہ دادی اماں کبھی اپنی گھٹڑی میں کچھ سامان ڈال رہی ہیں ۔۔ اور پھر وہ نکال کر کچھ اور سامان ڈال رہی تھیں۔۔۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ دادی اماں نے چار مرتبہ اپنے کپڑے بدلے۔۔ عید کیلیئے سلوایا ہوا سرخ رنگ کا جوڑا دادی اماں کے لکڑی والی پیٹی میں ہی رہتا تھا۔۔۔۔ وہ صرف عید پر پہنا جاتا تھا۔۔ کیونکہ اس پر شیشے کی بہت پیچیدہ کاریگری ہوئی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ وہ قمیض چوغےکی طرح کی تھی۔۔۔ دادی جان نے اسے بھی پہن کر اتارا۔۔ کہ اس سے بھی بھلا لباس پہنوں۔۔۔۔ دو مرتبہ سارے اچھے جوڑے پہننے کے بعد وہی سرخ جوڑا فائنل ہوا۔۔ لیکن دادی اماں اس عمر میں کبھی نیچے بھاگ کر جاتیں کبھی اوپر۔۔۔ اس لمحے مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے دادی جان کیوں اتنی بچگانہ سے کام کر رہی تھیں۔۔۔ جب میری نگاہ دادی جان کی آنکھوں پر پڑی تو وہاں آنسوؤں کی نہ تھمنے والی ندی رواں تھی۔۔ انکے چہرے پر قدرے بے چینی سے لبریز مسکراہٹ تھی۔۔۔ جو لمحے بھر رہتی پھر بےبسی سے رونے لگتیں۔۔۔۔

میں نے دادی جان کو تیار ہوتا ہی دیکھا تھا۔۔ وہ دادا جان کے ہمراہ کیرن گئیں تھیں۔۔۔۔ مجھے انکا ہمسفر ہونے کا شرف حاصل نہ ہو پایا۔۔۔۔

جب واپس آئیں تو دادی جان کی حالت بالکل ویسے تھی جیسے ماتم زدہ گھر کی ہوتی ہے۔۔۔

کیا عجیب صورتحال ہے۔ سگے بہن بھائی بیسیوں برس بعد آمنے سامنے آئے۔۔۔۔ جہاں بصری وصال بھی تسلی بخش نہ ہو پائے۔۔ یہ کیا عجیب امتحان تھا۔۔ کچھ سمجھ نہ آنے پائی کہ یہ کیسا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔۔۔

دادی جان نے بتایا کہ انکی سب سے چھوٹی بہن اور ساتھ انکی بھتیجی جو سرینگر ریڈیو میں آر جے ہے وہ کیرن ملاقات کیلئے دریا پار آئی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ دادی جان نے کچھ نہیں بتایا۔۔۔

مجھے بالکل بھی نہیں علم کہ دادی جان کی کیا کیفیت ہوگی جب انہوں نے اس بھتیجی کو دیکھا جسے وہ آئے روز ریڈیو پر سنتی رہتی تھیں۔۔۔ لیکن ایک بار بھی بتا نہ پائیں کہ یہ انکے سامعین میں شامل ہیں۔۔۔ شائد دادی جان نے بتانا چاہا ہوگا کہ میں نے تمہارا ایک بھی پروگرام مس نہیں کیا۔۔۔۔ ایک ایک لفظ سننے کا مکمل حق ادا کیا۔۔۔ بس کوئی ذریعہ نہ تھا کہ بتا پاؤں کہ میں تمہیں سرحد کے اِس پار سنتی ہوں۔۔۔۔

شائد اُس پار وہ بھی یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں ریڈیو پر آپ سے جی بھر کے گفتگو کرونگی۔۔۔ بس۔۔ مجھے سنیئے گا۔۔۔۔

یہ تو تو میری سطحی سی قیاس آرائیاں ہیں ۔۔ ان کے دل سے نکلنے والا کلام اور انکی کیا کیا ان کہی باتیں تھیں جو وہ دل میں لیئے ملاقات کیلیئے آئیں اور دریا کے وسیع پاٹ نے جب پر پانی پھیر دیا وہ کیا تھیں۔۔۔۔۔ اس بارے وہ ہی بہتر جانیں۔۔۔

دادی جان نےقریب سات روز کیلیئے اپنے کمرے میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔۔ اس دوران انکی حالت بالکل نوحہ خواں جیسی تھی۔۔۔ لیکن میری دادی جان کی ان کیفیات کا مجھے کیاعلم کیونکہ مجھے تو وہ مسلسل وہی پیار دے رہی تھیں جو بچپن سے ملتا آیا تھا۔۔۔۔ انہوں نے ہمیں کبھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ بچپن میں پیار نہ ملنا کسے کہتے ہیں۔۔۔؟

دادی جان سنہ 2011 میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اور دادا جان بھی 2014 میں رحلت فرما گئے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں عظیم ہستیوں کو جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

رواں برس مقبوضہ کشمیر سے دادی جان کی سب سے چھوٹٰ ہمشیرہ اپنے بیٹی یعنی میری دادو جان اور پھپھو اپنے اِس پار والے خاندان سے ملنے پاکستان آئیں۔۔۔۔ وہ فروی کی اوائل میں یہاں پہنچیں اور قریب ایک ماہ یہاں رکیں۔۔۔ تمام رشتہ داروں سے ملاقاتیں کی ۔ ۔ ۔ دادو کافی علیل تھیں۔۔ پھپھو کے بقول انہوں نے نوے کی دھائی سے ضد کی ہوئی تھی کہ میں نے بہن سے ملنے سرحد پار جانا ہے۔۔۔ مجھے لے کر جاؤ۔۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات اور انکے محدود وسائل ہمیشہ سے آڑے آئے۔۔۔۔

آخر کار انہوں نے آںے میں کامیابی حاصل کی۔۔۔

ایک روز میں نے عشائیے پر پھپھو جان سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بارے استفسار کیا۔۔ پھپھو نے بالکل اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ وہاں کوئی ظلم ہوتا ہے۔۔۔ ان کے بقول جب کشمیری ریلیاں نکلالتے ہیں تو فوج منع کرتی ہے۔۔۔ جب یہ نہ مانیں تو وہ 144 لگا دیتے ہیں۔۔۔ اور پھر اُدھر سے گولیاں اِدھر سے پتھر برستے ہیں اور نتیجے میں کئی روحیں پرواز کر جاتی ہیں۔۔

میں مختلف زاویوں سے یکے بعد دیگرے سوالات داغے لیکن کیا مجال کہ پھپھو جان نے ہلکی سی بھی لچک دکھا کر یہ کہا ہو کہ وہاں بھارتی ہم پر ظلم کرتے ہیں۔۔۔

میں رات ابو کے پاس گیا اور ان سے اس بارے پوچھا۔۔۔۔ ابو جان مسکراتے ہوئے فرمانے لگے کہ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ہماری بہن مکمل شعور رکھتی ہے۔۔۔ سطحی بیانات اور جذباتی تکلم نہیں کرتی۔۔ انکا جذبہ حب الوطنی ہمارے لیئے فخر کی بات ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک محب وطن خاتون ہیں۔۔۔۔
تیرہ مارچ 2018 انکے ویزے کا آخری دن تھا ابو جان انہیں واہگہ بارڈر پر چھوڑنے آئے۔۔ صبح نو بجے کے قریب انہیں الوداع کیا اور عجیب و غریب سے کیفیت کے ساتھ واپس گھر لوٹے۔۔۔

ابو جب گھر پہنچے تو اس طرف رابطہ ہوا۔۔ پتا چلا کہ نو بجے الوداع کیئے گئے ہمارے مہمانوں کو بھارتی حکام نے تین بجے تک روکے رکھا۔۔۔ دادو جان کی طبیعت کا مجھے علم تھا ۔۔۔ وہ شدید علیل تھیں۔۔۔ انہیں ادھر بیٹھنے تک لیئے نہیں کہا گیا۔۔۔۔ انکے سامان کی تلاشی لی گئی۔۔۔۔ ہماری جانب سے عطا کردہ تحائف اور کپڑوں کو بکھیر دیا۔۔۔ اور عجیب و لایعنی سوالات کیئے گئے یہ کپڑے کہاں سے لائے کس سے لائے کیوں لائے؟
بعد ازیں ان کے پاس پچاس ہزار نقد تھا۔۔۔ وہ بھی چھین لیا۔۔ اور وہاں سے انہیں باہر دھکیل دیا گیا۔۔۔ بہت بحث مباحثے کے بعد انہیں فقط چھ ہزار روپے دیئے گئے۔۔ ان کے ساتھ روا رکھے جانے والا رویہ شدید قابل مذمت تھا۔۔۔۔۔ جس کی خبر ہمیں ملتے ہی سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔۔

میں ابھی واہگہ کے اِس طرف والے حکام سے واقعے کے ذکر کا سوچ رہا تھا کہ مجھے کچھ روز قبل عشائیے میں کیئے جانے والی پھپھو کی گفتگو یاد آئی۔۔۔ اور میں بےساختگی گھٹنوں کے بل گر گیا۔۔۔۔
مجھے پھپھو بتا گئیں کہ ’’اعلیٰ ظرفی‘‘ اور ’’حب الوطنی‘‘ کس بلا کا نام ہے؟

وما علینا الا البلاغ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqib Shafiq Pirzada

Read More Articles by Aqib Shafiq Pirzada: 7 Articles with 2760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2018 Views: 360

Comments

آپ کی رائے