قلات ،پاکستان کا ایک خوبصورت حصہ

(Dr Sajid Khakwani, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

(27مارچ ،ریاست قلات کا یوم الحاق پاکستان کے موقع پر خصوصی تحریر)

لفظ’’پاکستان‘‘کاایک غالب حصہ صوبہ بلوچستان سے مستعارہے۔پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں کے مختلف حروف کو جوڑ کراس نوزائدہ ریاست’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘کانام رکھاگیا۔چنانچہ اس لفظ کاآخری حصہ بلوچستان سے ماخوذہے۔چنانچہ جس طرح بلوچستان کے حروف سے ’’پاکستان‘‘بناہے اسی طرح بلوچستان کے علاقوں کے بغیربھی پاکستان نامکمل ہے۔’’قلات‘‘بلوچستان کاایک اہم ترین حصہ ہے پاکستان کی سب سے بڑی کمشنری بھی ہے۔بلوچستان پاکستان کا جنوب مغربی خطہ ارضی ہے،اس صوبہ کے مغرب میں ایران اور افغانستان کی سرحدیں ہیں اورجنوب میں بحیرہ عرب کاوسیع و عریض ساحل ہے۔بلوچستان کی اہمیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ علاقے کے لحاظ سے سب سے بڑاصوبہ لیکن آبادی کے اعتبارسے سب سے چھوٹا ہے اوروسائیل کے اعتبارسے پاکستان کا امیرترین علاقہ ہے۔پورے ملک کو سوئی گیس کے نام پر میسرآنے والا ایندھن سرزمین بلوچستان کاانمول تحفہ ہے جو وطن عزیز کے باسیوں کے لیے سہولت رساں ہے۔اس کے علاوہ کاپراور سونے کی کانوں سمیت قدرت نے بے بہاخزانے اس سرزمین بلوچستان کی تہوں میں دفن کررکھے ہیں۔بلوچستان کی سرزمین قائداعظم کی آخری ایام کی بھی امین ہے۔برطانوی راج میں بلوچستان میں چار خودمختارریاستیں قائم تھیں،ان میں قلات سب سے بڑی ریاست تھی۔قیام پاکستان کے پہلے سے بعد تک قائداعظم ؒمسلسل بلوچستان کے دورے کرتے رہے اور خوانین سے ملاقاتیں اور ان ریاستوں کے دربارعام سے خطاب بھی کرتے رہے۔اس مسلسل تگ و دوکے نتیجے میں 18مارچ 1948کوبلوچستان کی تین ریاستوں،خاران،لسبیلہ اور مکران نے الحاق پاکستان کااعلان کردیا۔27مارچ کو خان آف قلات بذات خود کراچی میں تشریف لائے ،قائداعظم ؒسے ملاقات کی اور آخری ریاست،ریاست قلات کابھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ الحاق کااعلان کردیا۔

قلات کاعلاقہ انتظامی طورپر پاکستان کا بہت بڑا یاشاید سب سے بڑا علاقہ ہے۔قلات کو ڈویژن یاکمشنری کامقام حاصل ہے۔اس ڈویژن کوسات انتظامی اضلاع میں تقسیم کیاگیاہے،ضلع قلات،ضلع مستنگ،ضلع خضدار،ضلع اواران،ضلع خاران،ضلع وارشک اور ضلع لسبیلا۔قلات کاعلاقہ رقبے کے اعتبار سے بھی بہت وسعت کاحامل ہے،91,909مربع کلومیٹرکے اس محیط میں فارسی،بروہی اور بلوچی زبانیں بولی جاتی ہیں اور تادم تحریر اردوکوبھی ساکنان قلات کے ہاں پزیرائی حاصل ہے۔یہاں کا اوسط سالانہ درجہ حرارت محض 14ڈگری سینٹی گریڈ ہے،گویابہت ہی مناسب اور مائل بہ ٹھنڈک اور صحت افزاموسم کا حامل ہے۔قلات میں 166ملی میٹر سالانہ بارشوں کی اوسط ہے جوکہ ایک لحاظ سے کافی کم ہے چنانچہ پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے بارشوں کے پانی کو جمع کرنے کاقدیمی نظام یہاں موجود ہے جسے اب سرکاری سرپرستی میں مزید بہتر کیاجارہاہے۔آبادی کے لحاظ سے یہ مکمل طورپر ایک مسلمان علاقہ ہے کم و بیش دو فیصدلوگ غیرمسلم ہیں ،یہی وجہ ہے کہ یہاں کی مقامی روایات میں اسلامی تہذیب و تمدن کے رنگ نمایاں ہیں۔بھاٹیہ ذات کے کچھ ہندوخاندان بھی یہاں مقیم ہیں جن کی عبادت گاہ قلات کالی مندر کے نام سے موسوم ہے۔

قلات کی تاریخ بہت قدیم ہے۔قبل از تاریخ اس علاقے کو ’’قلات سیوا‘‘کہتے تھے،اس وقت یہ جگہ قدیم ہندو مذہب کے ماننے والوں کے زیرنگیں تھی۔بعد میں اس جگہ کو ’’قلات نچاری‘‘کہاجانے لگا۔اس کی وجہ بروہی بان نچاری قبائل تھے جواس علاقے کے اولین باسی شمار ہوتے ہیں۔یہ قبائل مشرق سے قلات میں وارد ہوئے اور انہوں نے اپنی رہائش کے لیے یہاں قلعے بھی تعمیرکیے۔بلوچ قبائل کی آمد ان کے بعد مغرب سے ہوئی ۔بروہی قبائل نے پندرہویں صدی میں یہاں ایک بہت طاقتورریاست بنالی تھی لیکن دہلی کے مغل حکمرانوں کے سامنے اس ریاست کی کچھ نہ بن سکی اور یوں قلات کاعلاقہ مغل سلطنت کاباجگزار بن گیا۔دہلی سے طویل فاصلے کے باعث مرکزی حکومت کی گرفت بہت کمزور رہی۔چنانچہ مغل اعصاب کی کمزوری کے ساتھ ہی سترہویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ پھر آزہوگیااوربروہی سرداروں کی سیادت ایک بارپھر یہاں پر قائم ہوگئی۔1876ء میں تاج برطانیہ کے غروب نہ ہونے والے سورج نے قلات پر بھی ایک معاہدے کے ذریعے اپنی حکومت قائم کرلی۔گوراسامراج رخصت ہواتو قلات کاعلاقہ دوقومی نظریے کی ٹھنڈی چھاؤں میں آسودہ حال ہوا۔

قلات کی تاریخ میں میرنصیرخان نوری ایک شاندارحکمران گزرے ہیں۔یہ سچے اور صحیح معنی میں مسلمان حکمران تھے۔شاہ ولی اﷲؒ کے زمانے میں مرہٹوں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھاتھا۔قوائے دہلی کمزورہوئے تو مرہٹوں نے اسلام دشمنی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔مرہٹوں کے زیرقبضہ علاقوں میں مسلمان بہت زیادہ کسمپرسی کی زندگی گزاررہے تھے۔مرہٹے جیسے جیسے طاقت پکڑتے جارہے تھے تو کل مسلمانان ہندوستان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے تھے۔مغل درباراب اخلاقی اورعسکری طور پر کسی بڑی قوت سے مقابلے کے قابل نہ رہاتھا۔ان حالات میں شاہ ولی اﷲؒنے برصغیرہندوستان کے مسلمانوں کو بچانے کے لیے عالم اسلام سے اپیل کی۔اس اپیل کے جواب میں احمدشاہ ابدالی افغانستان کے سنگلاخ وبلند و بالا پہاڑوں کے درمیان سے قہر بن کر مرہٹوں پر نازل ہوا۔تاریخ اسلام کے اس نامور سپوت کی افواج میں قلات کے میرنصیرخان نوری بھی اپنی بلوچ سپاہ کے ساتھ موجود تھے۔چنانچہ اس وقت کے فریضہ جہادمیں قلات نے بھی اپنا مقدوربھرحصہ ڈالا قلات کایہ مسلمان حکمران احمد شاہ ابدالی کے ساتھ مل کرپانی پت کے میدان میں دشمنان اسلام کا صفایاکرتارہااوریوں ایک فتنہ سراٹھاتے ہی دفن ہوگیا۔اس لڑائی میں میرنصیرخان نوری کے جھنڈے تلے مزاری،بگٹی،لغاری اورمری قبائل کے مجاہدین بھی شامل تھے۔فتح کے بعد احمدشاہ ابدالی نے بہت سے گرفتارمرہٹے انعام کے طورپر میرقلات کو تحفت پیش کیے ۔ان مرہٹوں کو ڈیرہ بگٹی میں آبادکیاگیاجن کی اولادآج ہندوبگٹی کے نام سے جانے جاتی ہے۔قلات کے حکمرانوں کااسلام کے ساتھ یہی جذبہ ہے جوانہیں پاکستان کے قریب لے آیا اور قلات کے میراحمدیارخان پچھترکی دہائی میں بلوچستان کے گورنر بھی رہے۔اس علاقے میں اسلامی روایات کو بہت اہم مقام حاصل ہے اور تبلیغ کے لیے نکلنے والوں کی شرح بھی یہاں بہت زیادہ ہے اور مدارس میں دینی طلبہ کی ایک نسل ہے جس کی تعدادکسی دورمیں بھی کم نہیں ہوئی۔

قلات کی ریاست میں اب بہت سے انتظامی اضلاع بن چکے۔ان میں ضلع قلات کو اب بھی مرکزی مقام حاصل ہے،ضلعی صدر مقام کی حیثیت سے سے شہر کانام بھی قلات ہی ہے۔اس ضلع کارقبہ 6621مربع کلومیٹرہے اور آبادی کم و بیش چارلاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔حکومت مغربی پاکستان نے 3فروری 1954کو ایک حکم نامے کے ذریعے اس جگہ کو ضلع کادرجہ دیا۔اس وقت خضداراورمستونگ اس ضلع کی تحصیلیں قرارپائی تھیں۔بولان،جھل مگسی اور نصیرآباد بھی اسی ضلعے کے اہم علاقے تھے۔نصیرآبادکو بعد میں ’’ڈیرہ مرادجمالی‘‘کہاجانے لگا۔دیوڑ،مینگل اور زہری قبائل کی یہاں کثرت ہے۔98%سے زائد آبادی مسلمان ہے جبکہ زکری مذہب کے کچھ لوگ بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔قلات زیادہ تر پہاڑی علاقوں اور وادیوں پر مشتمل ہے۔خشک اورگرم آب و ہواکے باعث یہاں صرف ایک ہی دریا،دریائے موروبہتاہے۔آبادی کاانحصارزیادہ تر کھیتی باڑی اور غلہ بانی پر ہے۔

پوری دنیامیں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں،ان میں سے بعض تحریکیں مسلح جدوجہد کی شکل اختیارکرکے تحریک کی بجائے جنگ آزادی کاروپ دھارچکی ہیں۔اس کے برعکس پاکستان دنیاکاواحد ملک ہے جس کے ساتھ الحاق کی تحریکیں چلتی ہیں ۔کشمیریوں کی جدوجہد اس کی واضع مثال ہے جو ایک عرصے سے ’’کشمیربنے گاپاکستان‘‘کے نعرے پر قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔بھارت کے اندر بھی چلنے والی آزادی کی تحریکیں پاکستان کی طرزہندوستان سے آزادی چاہتی ہیں یادبے دبے الفاظ میں پاکستان سے دوستی،تعلق یاانتظامی اشتراک کی بنیادپر الحاق کے اشارے کنائے کااظہارکرتی ہیں۔بلوچستان کے عوام عام طورپراورقلات کے باسی خاص طورپر خوش قسمت ہیں کہ انہیں قائداعظم کی خاص شفقت اور محبت کی بدولت پاکستان میں شمولت کی نعمت میسرآگئی۔اب وہ ایک ایسی سرزمین کے شہری ہیں جسے اﷲ تعالی کے نام پر قائم کیاگیاہے،جس ریاست کا مقصد قیام لاالہ الاﷲ ہے اور جسے اس وقت زمین کے سینے پر مسجد کامقام حاصل ہے۔قلات کے عوام اس ملک خداداکے ساتھ اپنی جذباتی وابستگیاں قائم کر کے اپنے اسلام کی یادتازہ کرسکتے ہیں اور اپنے دیندار حکمرانوں کے نقش قدم پر چل کر اس ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پوری آزادی کے ساتھ اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔27مارچ ہر سال آتاہے،اس دن کویوم الحاق پاکستان کی یاد میں یوم تشکرکے طورپر منایاجائے اور اہل قلات اس دن کے حوالے سے اپنی نسلوں کو باورکرائیں کہ پاکستان کے قیام سے الحاق تک ان کی تاریخی کاوشیں اس کا حصہ ہیں اورپاکستان صرف ہندوستانی مسلمانوں کانہیں بلکہ کل امت مسلمہ کی امانت ہے جس کی حفاظت کے فیصلے آسمانوں سے صادرہوتے ہیں،الحمدﷲ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Sajid Khakwani

Read More Articles by Dr Sajid Khakwani: 464 Articles with 295835 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2018 Views: 706

Comments

آپ کی رائے