روس برطانیہ کشیدگی

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

آج کل اخبارات میں ان دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں سر گرم ہیں اگر تاریخ کے اوراق الٹا کر دیکھا جائے تو ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات چار سو سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں کشیدگی کی وجہ66 سالہ روسی ایجنٹ جو بعد میں برطانیہ کے لئے جاسوسی کرتا رہا جس کا نام سرگئی اسکریپل تھا جو روس کی فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز تھا 4مارچ کو لندن کے قصبہ میں اپنی بیٹی یولیا اسکریپل کے ہمراہ ایک شاپنگ مال کے بنچ پر نیم بے ہوش حالت میں پایا گیا جس پر اعصابی زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کیاگیا تھا اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے ہسپتال میں ہی ان پر اعصابی زہردینے کا انکشاف ہوا سرگئی اسکریپل روسی جاسوس برطانوی شہریت بھی رکھتا تھا اور لندن کے ایک پرانے قصبہ میں اپنی بیٹی کے ہمراہ رہائش پذیر تھا برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اعصابی زہر روس میں تیار کیا گیا ہے اسی الزام میں برطانوی وزیر اعظم نے 23روس کو الٹی میٹم دیا کہ وہ اس زہر سے متعلق بتائے لیکن وقت گذرنے کے بعد روس نے کچھ نہیں بتایا تو تھریسامے نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم صادر کر دیا اس کے بدلے میں روس نے بھی برطانوی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا عندیہ دے دیا اس کے علاوہ روس میں برٹش کونسل کا اپریشن بھی معطل کیا جائے گا اور برطانوی سفارت خانہ بھی بند کر دیا جائے گا مزید روسی صدر کے ترجمان نے کہا کہ پوتن وہی آپشن لیں گے جو روس کے حق میں ہو گا اس کے بدلے میں تھریسامے نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمیں ایسے اقدام کی توقعات تھیں انھوں نیمزید کہا کہ آئیندہ کے لائحہ عمل بھی ہم اپنے اتحادیوں کے مشورہ سے طے کریں گے تھریسامے نے مزید کہا کہ ۴ مارچ کا واقعہ انٹر نیشنل قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گابرطانیہ کا خیال ہے کہ روس کے جاسوسوں کا برطانیہ میں نیٹ ورک موجود ہے اور اسی نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے یہ اقدامات کئے گئے ہیں-

برطانوی وزیر اعظم کو نہ صرف اپنی پارلیمنٹ کی حمایت ہے بلکہ امریکہ اور یورپ نے بھی اس کی حمایت کی ہے لیکن لگتا نہیں کہ وہ اس کاکھل کر اظہا کر یں برطانیہ کے مطابق اس قتل میں روس کے سفارت کار ملوث ہیں اسی لئے ان کے خلاف یہ اقدام اٹھایا گیا لیکن اس اقدام سے دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اب دیکھتے ہیں کہ یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا پھر کسی سمجھوتہ پر اتفاق کر لیا جاتا ہے اس کشیدگی کی وجہ سے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا برطانیہ کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے برطانیہ نے مزید کہا ہے کہ روس میں ہونے والافٹ بال ورلڈ کپ میں برطانیہ کا کوئی بھی شاہی خاندان کا فرد اور حکومتی عہدے دار شامل نہیں ہوں گے برطانیہ میں موجود مالدار روسی باشندوں پر بھی کڑی نگاہ رکھی جائے گی اس کے علاوہ جو بھی روسی شہری برطانیہ آئے گا اس کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اس اعصابی زہر سے متعلق معلومات کا تبادلہ نہیں کیا تا کہ پتا چل سکے کہ یہ اعصابی زہر روس میں تیار ہوا بھی ہے یا نہیں ؟لیکن یقیناً برطانیہ نے اس زہر کی مکمل جانچ لیبارٹری میں کی ہوگی اسی لئے انھوں نے اس اعصابی زہر کا تعلق روس سے جوڑا ہے اور یہ ثابت ہونے پر ہی روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا سوچا ہو گا اگرپیچھے مڑ کا بھی دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں اور ان میں یہ کشیدگی پہلی بار نہیں ہے روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس ایٹمی طاقت ہے اور برطانیہ اسے دھمکیاں نہ دے انہوں نے مزید کہا کہ جب تک برطانیہ اعصابی کیمیکل کی رپورٹ مہیا نہیں کرتا تب تککسی قسم کی وضاحت نہیں دی جا سکتی۔روسی سفیر نے کہا کہ یہ حملہ روس میں ہونیوالے انتخابات سے پہلے روس کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لئے کیا گیا ہے دونوں ممالک نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے جو ان دونوں ممالک کے تعلقات پر براہ راست اثر پذیر ہو گا اب دیکھنا یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں ان دونوں ممالک کے حق یا مخالفت میں کیا تجاویز زیر غور آتی ہیں اور کون کون سے ممالک ان کے حق اور مخالفت میں بات کرتے ہیں یا پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ حالات کو بہتری کی جانب لانے کی کوشش کی جائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1327736 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
20 Mar, 2018 Views: 448

Comments

آپ کی رائے