سلام شہدائے پولیس!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 قوانین کا نفاذ ہویا امن و امان کا قیام ، دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا جرائم پیشہ عناصر سے مقابلہ ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان اپنی ذمہ داریوں سے احسن طور پر عہدہ براء ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے آئے ہیں۔ رواں سال 23 مارچ کا دن پولیس شہداء کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ’’ یوم شہدائے پولیس ‘‘ کے طور پر منایا جارہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ان کی یاد میں تقاریب کا انعقادکرناہے جس میں اس عزم کا اظہار کیا جائے گا کہ یہ صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہدا ء ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھولے نہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے ، ہمیں ان کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔ نیشنل پولیس بیورو پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی ، ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث عناصر سے لڑتے ہوئے دو ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں نے شہادت کے رتبے پر فائز ہوکر بہادری کی ایک نئی داستان رقم اور محکمہ پولیس کی توقیر میں اضافہ کیا ہے۔ راہ حق میں شہید ہونے والوں کا مقام و مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ خودنبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم یہ دعا کرتے کہ میں اﷲ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ ہونے کے بعد پھر قتل کیا جاؤں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو اﷲ کے راستے میں قتل کیا جائے اس کو مردہ نہ کہووہ زندہ ہیں اورلیکن تم شعور نہیں رکھتے‘‘۔ بلاشبہ پولیس کے شہداء قوم کے محسن اور ہیرو ہیں، اور ان کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ہم امن و امان سے سر فخر سے اٹھا کر چل رہے ہیں۔

بلاشبہ جس طرح پاک فوج کے جوان سرحدوں کی حفاظت اور ملک دشمن عناصرسے جنگ کے دوران جام شہادت نوش کرکے تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں وہیں وطن عزیز کے اندر عوام کے جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے لئے قائم اداروں میں سر فہرست محکمہ پولیس کا ادارہ ہے جوکہ ملک بھر میں دہشت گردی ،چوری، ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف برسرپیکار ہے ،پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کررہے ہیں تو پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ملک کے اندر موجود ،دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصر وف عمل ہیں۔ لیکن بات جب پولیس فورس کی ہوتو عوام کے ذہن میں فوراً منفی تاثر ابھرتا ہے، کسی سے بھی پولیس کے بارے میں بات کریں فوراً اس کی زبان پر پولیس والوں کے کرپٹ ہونے کے الفاظ رواں ہو جاتے ہیں۔ عوام ہو یا میڈیا غرضیکہ ہر کوئی پولیس پر تنقید کرتا نظر آتا ہے اور اس طرح پولیس کے خلاف شکایات کا لامتناہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔ ان شکایات کے برعکس اگر پولیس کے اوقات کار کی طوالت اور کٹھن ذمہ داریوں کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور کو اس بات کا اداراک ہے کہ پولیس جتنا سخت اور طویل ڈیوٹی کا کام کوئی اور محکمہ نہیں کرتا۔ اور شہریوں کے ساتھ جب کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، تو مشکل کی اس گھڑی میں وہ پولیس کو ہی اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں،کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پولیس ان کی مدد کو ضرورپہنچے گی۔پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر ہرطرح کے حالات میں مدد کو پہنچتے ہیں۔ موسم کی شدت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خاص طورپر موسم گرما میں پچاس ڈگری درجہ حرارت میں بھی باوردی کانسٹیبل بلٹ پروف جیکٹ اور بھاری بھرکم گن اٹھائے فرائض کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں، توکیا معاشرے کے کسی فرد نے کبھی ان اہلکاروں کے چہرے پر فرض کی ادائیگی کے پیچھے ان کی آنکھوں میں چھپی اس حسرت کو پڑھنے کی کوشش کی ہے کہ عید جیسے تہوار پر ان کے بچے کتنی شدت سے ان کا انتظار کر رہے ہوں گے؟کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ تفریحی مقامات پر جب بچے اپنے والدین کے ہمراہ سیرو تفریح میں مشغول ہوتے ہیں تو کچھ فاصلے ان کی سیکیورٹی کے فرائض ادا کرنے والا کانسٹیبل گھر جا کر اپنے بچوں کو کس طرح بہلاتا ہو گا؟
 
تمام تر معاشرتی بے حسی ، نفرت ، تنقید،تمسخر اورشدید ترین نقطہ چینی کے باوجود پولیس فرائض کی ادائیگی میں دن رات مصروف عمل ہے۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں پاکستان پولیس کا نظام انحطاط کا شکار رہا ہے اور اسکی بنیادی وجہ پولیس میں سیاسی مداخلت تھی۔ برسراقتدار افراد اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے جس سے پولیس عوام کو انصاف اور ریلیف فراہم کر نے میں اپنے اصل منصب سے دور ہوتی گئی ۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پولیس سسٹم میں خاصی بہتری آئی ہے ، محکمہ پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہواہے۔ اور اعلیٰ پولیس افسران نے اپنی ساری توجہ عوام کے پولیس پر اعتماد کو بحال کرنے پر مرکوز کررکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں سنگین وارداتوں کا گراف نیچے آیا ہے۔ جبکہ کسی بھی ملک میں بڑی جنگوں اور معاملات میں نہ تو پولیس کو ملوث کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے نپٹنے کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایک ایسی جنگ میں ملوث ہو گئے جو ہماری تھی ہی نہیں ۔غلط فیصلوں اور غلط لالچ سے یہ پرائی جنگ ہمارے آنگن کی جنگ بن گئی اور اس میں سول آبادی بھی زد پر آگئی اس گھمبیر صورتحال میں لیے پولیس کو بھی اس میں شامل ہونا، پڑا کیونکہ اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمے داری تو ان کو نبھانا پڑتی ہے۔ ان حالات میں جب وطن عزیز میں دہشت گردی سے کوئی محفوظ نہ تھا پولیس نے مسلح افواج اور دیگر فورسز کے ساتھ مل کر امن و امان کے قیام میں مثالی کردار ادا کیا ، اس حوالے سے سب سے زیادہ قربانیاں قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے دی ہیں جنہوں نے شہادت کا جھومر ماتھے پر سجا کر ملک و ملت اور عوام کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے، اس حوالے سے پاک فوج کی قربانیوں کی داستان تو انتہائی طویل ہے۔ یوم شہدائے پولیس درحقیقت پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے اور اشتراک عمل کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہے جس سے بھر پور استفادہ وقت کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ آئندہ نسلوں کو پولیس کے شہداء کے کارناموں سے با خبر رکھنے کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈز کے تحت چھپنے والی درسی کتابوں میں اس حوالے سے اسباق شامل کرنے پر بھی غور کرے، جس طرح افواج پاکستان کے شہدا کے تذکرے سے ان کی یادیں روشن کی جا رہی ہیں اسی طرح پولیس کے شہداء کی یاد بھی نئی نسل کے سامنے اجاگر کرکے یہ بات ان کے ذہنوں میں بٹھائی جائے کہ پولیس اہلکار بھی ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سر شار اورجرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہر لمحہ برسر پیکار رہتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 782 Articles with 336908 views »
Journalist and Columnist.. View More
22 Mar, 2018 Views: 411

Comments

آپ کی رائے