ایل ڈی اے : خود ہی راہبر ، خود ہی راہزن

(Muhammad Noor-Ul-Huda, )

اپنا گھر ہر کسی کا خواب ہوتا ہے ، انسان بہت محنت سے مکان بناتا ہے ۔ گھر بنانے کیلئے عرصہ دراز تک سیونگ کرتا ہے اور پھر ساری جمع پونجی اپنے خواب کی تکمیل پر صرف کردیتا ہے ۔ طویل عرصہ تک رہنے کے بعد ایک فرد کو اک نوٹس آتا ہے کہ اس کے پلاٹ کی اونرشپ ایل ڈی اے کی طرف سے کینسل کر دی گئی ہے ۔ اس پر اعتراض لگا ہے کہ کلئیرنس کے جو کاغذات اس کو ایل ڈی اے کی طرف سے جاری کئے گئے تھے ، وہ تمام ایل ڈی اے نے مسترد کر دئیے ہیں ۔ ایل ڈی اے کا ’’خیال‘‘ ہے کہ وہ گھر اس نے کسی پراپرٹی ڈیلر سے دو نمبر طریقے سے حاصل کیا ہے ، یا پھر پراپرٹی مافیا نے اسے جعلی کاغذات اور بوگس فائل کے ساتھ بیچا ہے ۔ لہذا اس کا گھر یا تو مسمار ہوگا ، یا پھر وہ دوبارہ سے ’’ کلئیرنس‘‘ کروانے کیلئے ایک مخصوص رقم جمع کروائے اور اپنے گھر کے مالکانہ حقوق پھر سے حاصل کرے ۔ یہ نوٹس پڑھ کر شخص کو گہرا صدمہ پہنچتا ہے اور وہ ایل ڈی اے دفتر حاضری دینے کی بجائے اگلے جہاں پہنچ جاتا ہے ۔

یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ، حقیقت ہے ۔ایسے کئی نوٹس لاہور کے ایک پوش علاقہ مصطفی ٹاؤن کے رہائشیوں کو ملے اور کسی دو ، چار کو نہیں بلکہ 1326 سے زائد مکینوں کو مل چکے ہیں ۔

مصطفی ٹاؤن لاہور کی وحدت روڈ کے آخری سرے پر واقع آبادی ہے ۔ یہاں کُل 2626 گھر ہیں ۔ یہ ایل ڈی اے کی سکیم ہے جس کا آغاز 1976ء میں ہوا تھا ۔ اس میں کل 6 بلاک ہیں اور ایل ڈی اے نے یہاں کے کم و بیش 2000 سے زائد مکانات کو اعتراض لگایا اور کینسل کیا ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر گھر ایسے ہیں جنہیں بنے 15 سے 20 سال ہو چلے ہیں ۔ اتنے عرصہ بعد ان پر اعتراض لگانا اور پلاٹ کینسل ہونے بارے بتانا یقیناً ایل ڈی اے کی نااہلی یا پھر ’’مال کھلاؤ ، پیٹ بھرو مہم‘‘ کہا جا سکتا ہے ۔

علامہ اقبال ٹاؤن کے بالمقابل 42 سال قبل ایل ڈی اے نے سینکڑوں ایکڑ رقبے پر ہاؤسنگ سکیم بنا کر مصطفی ٹاؤن آباد کیا ۔ یہ تمام رقبہ پنجاب یونیورسٹی سے خریدا گیا تھا ۔ یہاں باقاعدہ ایل ڈی اے کی سرپرستی میں زمینیں اور مکانات خریدے ، بیچے گئے ، الاٹمنٹ ہوئیں ، ایک عرصہ تک ٹرانسفر بھی ہوتے رہے ، فائلیں کلئیر قررار دی جاتی رہیں ، ایل ڈی اے کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع ہوتے رہے ، این او سی جاری ہوتے رہے ، گھر بیچنے اور خریدنے والوں کی ایل ڈی اے کے دفاتر میں تصاویر بھی اتریں ، نقشے پاس ہوتے رہے ، کمپلیشن سرٹیفیکیٹ جاری ہوتے رہے ،تمام امور کی مد میں فیس وصول کی جاتی رہی ،باقاعدہ منظوری کے بعد لوگوں نے گھر بنائے ۔ لیکن 42 سال پہلے تک یہ سب کچھ قانونی تھا اور آج ساڑھے تین دہائیوں بعد یکدم سے غیر قانونی ہو گیا ۔ ہزاروں الاٹمنٹیں منسوخ ہو گئیں ، اور ایک تنسیخ شدہ (ایکسپائرڈ) بونافائیڈ کمیشن سے رابطہ کرنے کو کہا گیا جس کا پیسے بٹورنا غالباً جائز اور قانونی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ متاثرین کی طرف سے نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کی جارہی ہیں اور مکانات کو قانونی قرار دینے کیلئے لاکھوں روپے طلب کئے جارہے ہیں ۔
ایل ڈی کا متاثرین کو کہنا ہے کہ بونافائیڈ کمیشن میں درخواست دیں ، اگر ٹرانسفر ’’حقیقی‘‘ ہوئی تو پلاٹ بحال کر دئیے جائیں گے ، یا پھر اس وقت کے ڈی سی ریٹ کے مطابق قیمت جمع کرانے کی ہدایت کی جائے گی ۔ ایل ڈی اے کہتا ہے کہ ان پلاٹوں کی ایگزمشن کی گئی زمین مصطفی ٹاؤن کے پلاٹوں کیلئے حاصل نہیں کی گئی تھی اس لئے یہ پلاٹ غیر قانونی قرار دیئے گئے ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فائلیں جعلی اور بوگس تھیں ۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیا چالیس سال سے ایل ڈی اے سو رہا تھا ۔ کیا کلئیرنس کے کاغذات جاری کرنے والے افراد نے دھنیا پی رکھا تھا ؟ …… اگر یہ پلاٹ غیر قانونی تھے تو ایل ڈی اے نے تب لاکھوں روپے واجبات کی مد میں کیوں وصول کئے اور ان پلاٹوں کو کلئیر کیسے قرار دیا گیا ۔ کوئی دس بیس پلاٹوں کی بات ہوتی تو ایل ڈی اے کی منطق مانی جا سکتی تھی ، مگر پورے پورے بلاک پر دو نمبری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایل ڈی اے افسران اس وقت ڈیلروں کے ساتھ ملے ہوئے تھے ، اور اب اپنی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال کر ایک اور کرپشن کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
 
میں نے پاکستانی اداروں میں واپڈا کے بعد اگر کسی کو عوام کے ساتھ بدترین سلوک کرنے والا پایا ہے تو وہ ایل ڈی اے ہے ۔ ایل ڈی اے خود ہی راہبر بھی ہے اور خود ہی راہزن بھی …… آج ایل ڈی اے کی جانب سے فی مرلہ ریٹ جاری کرکے مکانوں کو پھر سے قانونی قرار دینے کیلئے لاکھوں روپے طلب کئے جارہے ہیں ۔ یعنی اپنی نالائقی کے عوض دوسروں کو عذاب میں ڈالا جارہا ہے ۔ آج مصطفی ٹاؤن کے ہزاروں خاندان کرب میں مبتلاہیں ۔ وہ رات کو سونے سے پہلے چھت کی جانب دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ اپنی ہی چھت انہیں پرائی پرائی سی لگنے لگی ہے ، نوالہ حلق سے نہیں اترتا ۔ چہروں پر زردی سی آگئی ہے ۔

یہاں کے رہائشی سراپا احتجاج ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے جب گھر / پلاٹ لیا ، تو ایل ڈی اے افسران کے دستخط شدہ تمام کاغذات بطور ثبوت ان کے پاس موجود ہیں ۔ ایل ڈی اے نے تمام امور کی فیس بھی وصول کی ۔ باقاعدہ منظوری کے بعد تب کہیں جا کر انہوں نے گھر بنائے ۔ وہ لوگ شروع دن سے پراپرٹی ٹیکس بھی دے رہے ہیں ۔ لیکن اب ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ متاثرین کا موقف ہے کہ افسران یہ معاملہ آپس میں ہی حل کریں لوگوں پر ملبہ مت ڈالیں ۔ تمام قصور ایل ڈی اے کا ہے ، ان افسران کو پکڑا جائے جنہوں نے بغیر چھان بین کے پلاٹ بیچے ، یہ نااہلی ان کی ہے ، مصطفی ٹاؤن کے رہائشیوں کی نہیں ۔ انہوں نے تو اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی مکان بنانے پر لگائی ، ان کے کُل سرمائے کو ایسے نہیں چھینا جا سکتا کیونکہ یہ ان کی زندگیوں کا بھی مسئلہ ہے ۔ متاثرین نے استفسار کیا ہے کہ وہ سفید پوش لوگ ہیں ، محنت مزدوری کرتے ہیں ، انہیں کہا جارہا ہے کہ بارگینگ کر لو ، اگر ایل ڈی اے میں گھپلا ہوا ہے تو اس میں خریدنے والوں کا کیا قصور ہے ، جو ان سے چھت چھینی جا رہی ہے؟ ۔

بلاشبہ یہ سب پیسہ کھانے کی گیم ہے ۔ ایل ڈی اے بے بنیاد طور پر اپنے ہی کاغذات کو کینسل کررہا ہے ۔ اسی لئے ون ونڈو آپریشن پر بھی متاثرین کو مثبت جواب نہیں دیا جارہا ۔ بلکہ الٹا یہ کہا جاتا ہے کہ درخواست جمع کروائیں ،فیس دیں ، پھر اعتراض کا جواب دیا جائے گا ۔

اس تمام عمل میں مقامی سیاستدان یعنی ایم این اے ، ایم پی اے ، چئیرمین ، کونسلر ، کوئی بھی رہائشیوں کے ساتھ نہیں ہے ۔ مصطفی ٹاؤن متاثرین نے مشترکہ طور پر ایک ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کے ممبران داؤد عالم بٹ ، ظفر سعید ، طاہر رضا اور مظہر جیلانی نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ اس موقع خواجہ احمد حسان نے کمیٹی اراکین کے موقف کی حمایت بھی کی اور ایل ڈی اے کے اقدام کو زیادتی قرار دیتے ہوئے مسئلے کے حل کیلئے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ میری دعا ہے کہ یہ ان کا ’’سیاسی وعدہ‘‘ نہ ہو ، کیونکہ یہ لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے ۔ متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان ، ڈی جی نیب اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی چھتوں کو چھیننے سے بچایا جائے اور ایل ڈی اے کی اس کرپشن کا سوموٹو نوٹس لے کر متاثرین کی داد رسی کریں ۔ نیز ایل ڈی اے کی جانب سے پلاٹوں کے مالکانہ حقوق کینسل کرنے کا حکمنامہ معطل قرار دیا جائے اور ایل ڈی اے افسران کو مصطفی ٹاؤن کے تمام متاثرین کو حتمی این او سی جاری کرنے کی ہدایت کی جائے …… بلاشبہ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ گذشتہ 42 سالوں میں ایل ڈی اے میں آنے والے تمام ڈی جیز اور متعلقہ افسران کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں ، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Noor-Ul-Huda

Read More Articles by Muhammad Noor-Ul-Huda: 47 Articles with 18648 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 433

Comments

آپ کی رائے