ڈالر بے لگام حکمران عوام کی کمر کو اُونٹ اورہاتھی کی کمر نہ سمجھیں .. ..

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)
زمین کی دھول چاٹتا پاکستانی روپیہ اور آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ڈالر، ڈالر آسمان پراور عوام مہنگا ئی کے ٹرالراور کنٹینر کے نیچے دبادیاہے...!!

آج سمجھ نہیں آرہاہے کہ کیا لکھوں ؟ ایک طرف زمین کی دُھول چاٹتا پاکستانی روپیہ ہے جس کی بے قدری کرکے امریکی ڈالر بے لگام ہوگیاہے تووہیں مُلک میں مہنگا ئی کاخطرناک طوفان بھی اپنی آمد کا واضح اشارہ دینے لگا ہے تو دوسری طرف مُلک میں جاری کرکٹ کے میچز بھی عروج کو پہنچ رہے ہیں آج ویسے مجھے لکھنا تو ڈالر کی بے لگامی کے بعد مُلک میں آنے والے مہنگائی کے طوفان پر ہے مگرچلیں پہلے کچھ بات ہو جا ئے مُلک میں جاری پی ایس ایل کرکٹ کے میچز سے متعلق تو میرا خام اور قوی خیال یہ ہے کہ پاکستا نی قوم کے لئے کرکٹ کا کھیل ایک نشہ اورایک بخار بن گیا سب ہی اِس میں مبتلا ہیں یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے کھیل نے پوری پاکستا نی قوم کو سست اور کاہل بنا دیا ہے کھیل کے میدان میں اُترنے والے کھلاڑی تو چاک وچوبند اورپھرت نظر آتے ہیں کیو ں کہ اگر یہ بھی ایسے نہ ہوں تو پھر کھیلا گا کون ؟مگردرحقیقت کرکٹ کے شائقین اور ناظرین کھلاڑیو ں کا کھیل دیکھتے دیکھتے ہی سست اور کاہل ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج سست روی اور کاہلی کا مظاہر ہ پاکستان بھر میں پروان چڑھ رہاہے جس کے اثر سے حکمرانوں سے لے کر صحرا میں بنی ایک جھونپڑی میں رہنے والا غریب پاکستانی بھی نہیں بچ سکاہے ذرا، ایک لمحے کو غور وفکر کریں اور سوچیں کہ آج اگر کرکٹ کا گیم اتنا ہی اچھا اور چاک وچوبند کھیل ہوتا تو امریکا ، روس اور سعودی عرب سمیت چین جیسے دنیا دیگر کا میاب ترین ممالک کی بھی کرکٹ ٹیمیں ضرور ہوتیں، حالانکہ یہ ممالک ہمارے دوست ہیں یہ بھی ہماری طرح اپنے یہاں کرکٹ کی ٹیم بناتے، مگر کیا وجہ ہے؟ کہ ہمارے اِن دوست ممالک میں کرکٹ کا کھیل نہیں ہے بہر حال، یہ میرا اپنا ایک نکتہ نظر تھا جو میں نے بیان کردیاہے قارئین حضرات اَب آپ بھی میرے نکتے پر غور کریں اور مزیدسوچیں آپ کا بھی توکچھ کام ہے آپ بھی اِس جانب سوچیں اور مجھے بھی بتا ئیں۔

بہر کیف ،جمہوریت کے پجاریوں نے عوام کی کمر کو اُونٹ اور ہا تھی کی کمر سمجھ لی ہے یہ جس پر مہنگا ئی کا بوجھ ڈالنے سے باز ہی نہیں آرہے ہیں آج ڈالر کو مہنگا بھی حکمرانوں نے خود کیاہے اور مہنگا ئی کو بے لگام کرکے رکھ دیاہے یہ آخر کب تک ایسا کریں گے ؟کبھی نہ کبھی تو عوام کی برداشت کی حد بھی جواب دے ہی جا ئے گی مگر کب تک یہ تو عوام ہی جا نیں؟ مگر اتناہے کہ عوام کی کمر کو حکمران طبقہ مہنگا ئی کا بوجھ برداشت کرنے والی مضبوط کمر سمجھ لیا ہے اِس حال میں عوام موت سے نہیں مگر اپنی زندگیوں سے زیادہ خوفزدہ رہنے لگے ہیں لگتا ہے کہ اگر رواں حکومت نے ڈالر کی قیمت کو اِس کی ماضی کی اوقات میں نہ رکھا تو عوام تو بیچارے مہنگا ئی کے ہاتھوں زندہ درگور ہی ہوجا ئیں گے ویسے تو دنیا میں کئی اقسام کے چور پا ئے جا تے ہیں ہمارے یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے مگر سرزمین پاکستان میں خاص طور پر دو اقسام کے چور وافر مقدار میں جابجا پائے جاتے ہیں ایک جمہوری چور جو جمہوراور جمہوریت کا ماس نقاب چہرے پر چڑھا کر اداروں میں قدغن لگاتے ہیں اور اپنی مرضی کا اپنا کام چلاتے ہیں اور چوروں کی دوسری قسم بدعقل اور بے حس وہ عوام ہیں جو اپنے حس کا استعمال کرنے سے بھی قاصر ہیں یہ عوام کی اپنی حس کی چور ہے اگرہمارے عوام میں اپنے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی دھوکہ بازیوں اور چالبازیوں سے متعلق ذراسی بھی حس جاگ جائے تو پھر دے دھنادھن ہو۔

آج مُلکی تاریخ میں پہلی بار زیر گردش نوٹ 43کھرب سے بھی تجاوز کرگئے ہیں بینکوں سے ریکارڈمالیت کے قرضے بھی حکومت کے اخراجات پورے نہ کرسکے ہفتے کے دوران اوسطاََ یومیہ14ارب44کروڑ روپے کے نئے نوٹوں کی چھپائی کی گئی جبکہ 20مارچ 2018 کو صرف ایک سے دوگھنٹوں کے دوران مُلکی تاریخ میں ڈالر کا انٹر بینک ریٹ آسمان کی بلندیوں سے بھی بلند ترین سطح 115.007روپے تک پہنچ گیا جوایک روز قبل 110روپے 57پیسے تھایوں یکایک مُلک میں ڈالر کی قیمت کا بے لگام ہونا حکومت کی طرف سے دانستہ حکمتِ عملی سے تعبیر کیا جا رہاہے یقینا اِس سے مُلک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا تو وہیں درآمدت کی ادائیگیوں بیرونی قرضوں میں800سے900ارب روپے اضاضہ ہوجا ئے گا اوربے لگام ڈالر کی بڑھتی قیمت پر اسٹیٹ بینک کا کہناہے کہ اسٹیٹ بینک نے بڑھتے ہو ئے ڈالر کے انٹربینک ریٹ میں مداخلت نہیں کی ہاں البتہ اسٹیٹ بینک کا ڈالر کی بے لگامی پر اتنا ضرورکہنا ہے کہ بیرونی توازن ادائیگی کی صورتحال بھاری درآمدی بل کی وجہ سے دباؤ میں ہے ۔ڈالر کو پَر لگ گئے یا لگادیئے گئے ہیں؟آخر ماجرا کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں آج جو ہر پریشان حال پاکستا نی کے لب پر محورقص ہیں مگر اِسے تسلی بخش جواب کہیں سے نہیں مل رہاہے واضح ہوگیاہے آج مہنگا ئی کے بوجھ کو اپنے کاندھوں اور کمر پر اُٹھا کر ایڑیاں رگڑتی بلکتی سسکتی پاکستانی قوم کا کو ئی پرسان حال نہیں ہے مُلک میں ڈالر کی بے لگامی اور مہنگا ئی کے آنے والے طوفان کے لئے راہ بھی ن لیگ والوں نے ہموار کی ہے یہ سب نگراں حکومت کے لئے ہے ۔

اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ رواں حکومت نے اپنی مصنوعی استقامت قائم کرنے اور اپنے مُلکی معاشی و اقتصادی ڈھانچے کو منصوعی طورپر بہتر بنانے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے ڈکٹیشن لے کر ڈالر کی قیمت آسمان سے بھی اُونچی کردی ہے جبکہ دراصل گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران کشکول اورجھولیا ں پھیلا پھیلاکرڈالر وں میں قرضے اور امدادیں وصول کرنے والی ن لیگ کی حکومت نے اپنے وقت نزع ڈالر کو آسمان پر پہنچا کر عوام کو مہنگائی کے ٹرالراور کنٹینر تلے دبا دیاہے عوام آنے والے خوف ناک مہنگا ئی کے طوفان میں بے یارومددگار انتہا کھڑے ہیں میرے دیس کے اقتدار کے پنڈتوں کے سینے میں دل ہی نہیں ہے تو یہ کسی غریب کی کسمپرسی اور مفلسی کا درد اپنے دل میں کیا محسوس کریں گے غریب تو اپنی روٹی کے لئے صبح دوپہر شام اور رات تک کام کرتا ہے دوڑتا بھاگتا ہے نیند کو اپنے فاقے کی بنیاد سمجھ کر آنکھوں میں نہیں بساتا ہے کہ اگر اِس نے نیند کو اپنی آنکھوں میں سمالیا تو اِسے روٹی نصیب نہیں ہوگی جبکہ ہمارے حکمران عالمی اداروں سے ڈالر کی صورت میں قرضے اور امداد لینے کے لئے بھاگتے پھرتے ہیں اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ڈالر ز کو مُلک میں بے لگام کرنے کا سامان کرلیتے ہیں ایسے میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کوتو اگلے متوقعہ الیکشن میں اپنی بھا ری مینڈیٹ سے کا میا بی کی پڑی ہے اِن اقتدار کے بھوکے وحشیوں اور رندوں اور رندوں کو کچھ دیر کو یہ بھی تو سوچناچاہیے کہ کیا عوام پہلے ہی کچھ کم مہنگا ئی کا بوجھ اپنی کمر پر لادے ہوئے تھے کہ اَب ڈالر کی قیمت کو پَر لگ جا نے سے مہنگا ئی بھی بے لگام ہو جا ئے گی اِس کا بھی اضافی لوڈ عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا بھوک اور مہنگا ئی نے تو پہلے ہی عوام کو بدتمیز بنا دیاہے اَب لگتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے عوام کی برداشت کی حد یں بھی دم تور جا ئیں گیں اورعوام برسوں سے ایک ہی جگہہ پڑی فاقوں اور بھوک وافلاس کی فائلیں اپنے کا ندھوں پر اُٹھائے اور اپنے ہاتھوں میں پتھر اور ڈنڈے اُٹھائے سڑکوں پر حکومت مخالف تحاریک چلانے کے لئے نکل کھڑے ہوں توپھر اِنہیں بھاگنے اور سر چھپانے کی بھی مہلت نہ دیں۔ (ختم شُد)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 607682 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Mar, 2018 Views: 522

Comments

آپ کی رائے