آہا - اسکول میں داخلوں کا موسم آگیا ( پہلا حصہ )

(Munir Bin Bashir, Karachi)

آہا -- دیکھو تو سہی داخلوں کا موسم آگیا -- جی ہاں -- اسکول میں داخلوں کا موسم

ایسا ہی ایک موسم تھا - کافی عرصہ پہلے کی بات ہے - ہم اپنے پوتے کو اسکول داخل کرانے نکلے تھے
ایک جگہ اسکول کے گیٹ پر ایک کاغذ لگا نظر آیا - ہم جلدی کے چکر میں عینک گھر بھول آئے تھے --پھر بھی پڑھنے کی کوشش کی -سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا لکھا ہے - غالباً لکھا تھا کچھ بند ہے -
ہم اپنے جی میں خوش ہوئے ----
واہ رے بھائی ! تو تو خوامخواہ ہی اپنے زمانے کا شاکی ہے - اس زمانے میں بھی ایسے اسکول موجود ہیں کہ ان کا فیس میں ہر دو تین ماہ میں اضافہ کر نا بند ہے ---
طرح طرح کے اخراجات کے نام پر اور فنڈ کے نام پر والدین سے پیسے مانگنا بند ہے ---
سفارش کروا کے بچوں کو پاس کر والینا بند ہے -
مختلف بچوں کے درمیان کسی قسم کا امتیاز کر نا بھی بند ہے -
جی شاد ہوا - سوچا کہ اسکول کے منتظم سے ملنا چاہئے کہ اس کی صورت میں ایک حاتم وارد ہوا ہے جو اس زمانے میں بھی لوگوں کے مفاد کو اولیت دیتا ہے -
اسی اُدھیڑ بُن میں ہم کھڑے تھے کہ ایک پولیس والا آیا -ہمارا اوپر سے نیچے اور پھر نیچے سے اوپر جائزہ لیا - اس کے بعد بولا مسکین صورت بنائے کیوں کھڑے ہو - صورت ہی ایسی ہے یا دہشت گردی کر نے کے لئے ایسی بنالی ہے - ضرور ہی کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہوگا جو اسکولوں کو بم سے تباہ کر رہے ہیں - موٹر سائیکل کے کاغذات بھی ہیں یا ایسے ہی نکل کھڑے ہوئے ہو - یہ نمبر پلیٹ کا نمبر تو نظر ہی نہیں آرہا - ------ اور ہاں یہ ہاتھ میں کیا ہے اس نے ہاتھ میں تھمے ہوئے بوسیدہ پرانے باوا آدم کے زمانے کے موبائیل فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا -
ہم نے کہا حضور موبائل فون ہے -
نہیں نہیں --یہ موبائل نہیں ہے - یہ ٹائم بم ہے - دیکھو اس کے اسکرین پر گھڑی کی تصویر بھی بنی ہوئی ہے - اس کا یہ سیفٹی پن کھینچ کے رکھا ہوا ہے -" اس نے پرانے موبائل کے اینٹینا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا - --- بس -- بس ثبوت مل گیا -- میاں اور ایسے کتنے موبائیل گھر میں چھپا کر رکھے ہوئے ہیں ؟
ہم سوچ میں پڑ گئے کہ اپنی نیک چلنی کا کونسا سرٹیفیکیٹ مہیا کریں لیکن اس نیک چلن پولیس والے نے خود ہی ہمارا مسئلہ حل کردیا ---بابا جیب میں جو خزانہ ہے اس میں سے کچھ نذرانہ دو اور گھر جاکر شکرانہ پڑھو کہ جان چھوٹ گئی -
صاحبو اس نذرانے کے بعد تو محبت کے ترانے ہی چل پڑے - پولیس والے نے سمجھایا کہ اسکول بند ہے باقی کچھ بند نہیں - اسکول کے مالک کے کسی دور پار کے رشتے دار کا انتقال ہو گیا ہے اور ہاں تم اپنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ صحیح کرالو - ہم وہاں سے فوراً ہرن ہوئے کہ پولیس ولوں سے دور رہنا ہی بہتر ہے -
صاحبو ' ہم اپنا غم غلط کر نے کے لئے اپنے اپنے واقف بھائی ہشت پہلو کی طرف جا نکلے کہ وہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ سارے جہاں کا درد ان کے جگر میں ہے اور خواجہ میر درد یا جگر مراد آبادی کے دل میں کوئی درد مرد نپہں - پتا چلا کہ وہ بھی اسکولوں کی تعلیم کے موضوع پر کسی سے بات کر رہے تھے - بلکہ ہمیں ایسے محسوس ہوا کہ ہمہں دیکھ کر موبائل کان سے لگا لیا تھا کہ پتا چلے کہ صاحب مصروف آدمی ہیں - ہمیں دیکھ کرموبائیل پر کہا کہ صاحب بات ختم - ایک چینل والے کو ٹائم دیا تھا وہ لوگ پہنچ گئے ہیں -
ہم نے اپنی غلط فہمی کے بارے میں بتایا کہ کیسے ہم غلط فہمی کے سبب "بند ہے " سے کیا مطلب لے رہےتھے - بات چیت شروع ہوئی - انہوں نے ایک اخبار کا ایک تراشہ سامنے رکھ دیا اور ہم سب کچھ بھول بھال گئے -
واہ یہ ہوئی نہ بات -- " ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا "دیہاتوں کے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائی کے ساتھ دودھ بھی ملے گا -وہ بھی خالص دودھ -- بچے پڑھیں گے "رب کا شکر ادا کر بھائی - جس نے ہماری گائے بھینس بنائی اور بچوں کو ملی دودھ ملائی "
والدین کے منہ میں گھی شکر -- دور ہوئے مصیبت کے چکر
لیکن ہائے افسوس چشم فلک --- بلکہ چشم جناب ہشت پہلو کو ہماری یہ خواہش پسند نہ آئی -رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا اور بولے صرف سرخی ہی نہیں پڑھو بلکہ اندر خبر بھی پڑھو کہ دیہاتوں میں اسکولوں کے اندر گائے بھینسیں پالی جارہی ہیں - تعلیم ناپید ہے - اساتذہ بچوں کو پڑھانے کی بجائے کہیں اور ڈبل نوکری کر رہے ہیں - کچھ اسکول ایسے ہیں جنہیں گاؤں کے وڈیرے نے اپنی اوطاق بنا لیا ہے - اور وہاں مہمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے - اساتذہ اول تو آتے نہیں اور اگر آ بھی جاتے ہیں تو اسٹاف روم میں بیٹھ کر اپنی تنخواہوں کے مسئلے -پروموشن کی پالیسی اور تنخواہوں میں سالانہ اضافے کی بابت باتیں کر کے چلے جاتے ہیں - ایک اور صاحب کا تبصرہ چھپا تھا کہ دراصل گاؤں کے وڈیرے چودھری سردار اسکولوں وغیرہ کے زیادہ حق میں نہیں ہیں کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے تعلیم حاصل کر کے اچھی نوکری یا شعور حاصل نہ کرلیں اور معاشی طور پر مضبوط ہو کر ان کے چنگل سے نہ نکل جائیں - دوسری جانب انہیں میڈیا کا خوف بھی ہے کہ تعلیم کے بارے مین ان کے منفی رویے کی اطلاعات کہیں آگے نہ پہنچ جائیں چنانچہ ان لوگوں نے ایک نیا حربہ اختیار کیا ہے کہ تعلیم کا معیار اس نہج پر پہنچا دیا جائے کہ بچے تعلیم حاصل کر نے کے بعد بھی نوکری حاصل کر نے کے قابل نہ رہیں یا اچھی نوکری سے محروم رہیں چنانچہ نقل کلچر عام کر نے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کے مذموم مقاصد پورے ہو سکیں
یہ سب کچھ پڑھ کر تو ہم بے دم ہی رہ گئے اور کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہے

(جاری ہے )
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 498 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134743 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

Language: