شیخ رشید احمد کی سیاست اور نااہلی کی تلوار

(Rashid Sudais, )

جناب شیخ رشید احمد کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں البتہ پھر بھی ان کی سیاسی زندگی پر ضرور نظر ڈالی جائے گی موصوف ابھی تک غیرشادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں اس کی وجہ وہ خود ہی صحیح بتا سکتے ہیں جناب کی اپنی ایک سیاسی جماعت ہے موصوف متعددوزارتوں ریلوئے ،اطلاعات ونشریات،صنعت وحرفت اورثقافت کا قلمدان سنبھال چکے ہیں تینوں وزارتوں کی ماضی سے حال تک کی کارکردگی سے اہلیان وطن بخوبی واقف ہیں موصوف نے اپنی سیاست کا آغاز 1984میں کیا اورپہلی مرتبہ بلدیاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے شعلہ بیانی اورزبان دانی میں خوب مہارت رکھنے والے شیخ رشید نے 1985میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑا اور رکن منتخب ہوئے محمد خان جونیجو کے عہد میں آزاد پارلیمانی گروپ کے سب سے فعال رکن تھے جس کے سربراہ فخر امام تھے 1988ء کے عام انتخابات میں اپنی شعلہ بیانی اور پر زور عوامی خطابات کے بل پرپیپلز پارٹی کے امیدوار جنرل ٹکا خان کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1990ء سے 1993ء اور پھر 1997ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی محمد نواز شریف کے پہلے دور میں شیخ رشید صاحب کو پہلے مشیر اطلاعات و نشریات پھر وزیر صنعت و حرفت مع اضافی چارج سیاحت و ثقافت مقرر ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسمبلی اور اسمبلی سے باہر ان کی بلند بانگ تنقید کو روکنے کے لیے ان کی لال حویلی میں ایک عدد کلاشنکوف رکھنے کے جرم میں جیل بھیج دیا چند ماہ کی قانونی کارروائی کے بعد رہائی پائی 1997ء کے الیکشن میں کامیاب ہو کر میاں نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر شامل رہے 2002ء میں پرویز مشرف کی چھتری تلے ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے بعد میں مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کیا پہلے وزیر اطلاعات اور پھر وزیر ریلوے بنے پرویز مشرف کے مداحوں میں ان کا شمار ہوتا تھا سنہ 2008ء کے انتخابات میں جناب مخدوم جاوید ہاشمی کے ہاتھوں شرمناک شکست کھائی جس کے بعدمسلم لیگ ق سے علیحدہ ہو کر عوامی مسلم لیگ نام کی ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی 2010ء میں سیاست میں ایک دفعہ پھر سرگرم ہوئے اور ایک بار پھر سے پنڈی کے حلقے سے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا مگر 24 فروری کو ہونے والے ان انتخابات میں ایک بار پھر ان مسلم لیگ ن کے شکیل اعوان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ان کی وجہ شہرت ان کا عوامی انداز، سکینڈلز، لال حویلی اور سیاسی پیشگوئیاں ہیں2008ء میں انتخابی شکست کے بعد شیخ صاحب نے کثرت سے حکومتی بدعنوانی کی نشان دہی کرنا شروع کی اور مشہوریا کا درجہ حاصل کر لیا 2013ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کی حمایت سے اپنی جماعت عوامی مسلم لیگ سے لڑا اور قلم دوات کے نشان پر حلقہ این اے55 نششت پر کامیابی حاصل کی مندرجہ بالا سطور سے تقریبا یہ انداز ہ ہوگیا ہے کے موصوف مستقل مزاج نہیں ہیں اپنے سیاسی کیرئیر کے آغاز سے آج تک اپنے مفاد کو اولین ترجیح دینے والے شیخ رشید صاحب اپنی پارٹیاں بدلتے رہے ہیں نوئے کی دہائی میں سابق وزیراعظیم کے چہیتے اورآنکھوں کی ٹھنڈک سمجھے جانے والے شیخ رشید احمد 2002میں میاں محمد نواز شریف کا تختہ الٹنے والے سابق صدر پرویز مشرف کے ہم آواز اورہم نوا بن گئے وزارتوں اوراقتدار کے خوب مزے لوٹنے کے لیے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کرلی 2008کے الیکشن میں شکست اور اقتدار سے محرومی نے موصوف کو نام نہاد باغی بنا دیا اقتدار کی حرث اورذاتی عناد پسندی نے موصوف کو مقتدر حلقوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر مجبور کیا تب سے اب تک کرپشن کرپشن کی صدا لگانے والے شیخ رشید احمد صاحب نے کسی شریف آدمی کو نہیں بخشا متعدد مرتبہ جوش خطابت میں عوام کو بغاوت کرنے پر اکسایا پارلیمنٹ پر لعن طعن اور سیاسی حریفوں کی پگڑی اچھا لنا موصوف کا معمول کا کام ہے موصوف کی شعلہ مقالی اورحریفوں پر تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے الیکڑانک میڈیا کی زینت بنے رہتے ہیں اوٹ پٹانگ پیشین گوئیاں کرتے رہتے ہیں جو اکثر وبیشتر غلط ثابت ہوتی ہیں ان دنوں موصوف پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اگر اعلیٰ عدلیہ نے پانامہ فیصلہ بالخصوص اقامہ اور جہانگر ترین ترین فیصلے کو نظیر بنایا تو موصوف نااہل ہوسکتے ہیں البتہ یہ ناچیز کا گمان ہے البتہ فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے دوران سماعت معزز جج صاحبان اوروکلاء کے درمیان دلچسپ مقالمہ ہوا جناب شکیل اعوان کے وکیل نے موقف اختیار کیاہے کہ موصوف شیخ رشید احمد نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپائے ہیں انہوں نے گھر کی قیمت ایک کروڑ دو لاکھ ظاہر کی ہے جبکہ گھر کی بکنگ 4کروڑ 80لاکھ سے شروع کی گئی تھی وکیل نے مزید کورٹ کو بتایا کہ فتح جنگ کے موضع رامہ میں زمین زیادہ اور کاغذات کم ظاہر کیے گئے ریکارڈ کے مطابق شیخ صاحب کی زمین ایک ہزار 81کنال ہے جبکہ موصوف نے 968کنال اور13مرلہ ظاہر کی ہے دوران سماعت قاضی صاحبان نے بڑے دلچسپ ریمارکس دیے جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پانامہ لیکس کیس کے فیصلے میں وضع کردہ اصولوں کا اطلاق سب پر نہیں ہوگا؟ پاناما لیکس کیس میں کہاں یہ اصول طے ہواکہ غلطی جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی نااہلیت ہو گی جبکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ امریکی صدر کہتے ہیں فلاں ریٹرن ظاہر نہیں کروں گا اور یہاں غلطی بھی نااہلیت ہے پاکستان میں تو الیکشن لڑنا بہت مشکل ہو گیا ہے محترم جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم انتظار ہی کررہے تھے کہ آپ سے اس ججمنٹ کا حوالہ دیں پاناما کیس لندن فلیٹس کا تھافیصلہ اقامے پر آیاجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شکیل اعوان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کہتے ہیں اگر ان سے غلطی ہوئی تو اسی فیصلے کے تناظر میں نااہل کردیا جائے پاناما میں کیس لندن فلیٹس کا تھافیصلہ اقامے پر آیاشکیل اعوان کے وکیل نے کہا کہ پاناما کیس میں شیخ رشید درخواست گزار تھے اس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ایک انگلی کسی پر اٹھاتے ہے تو چار انگلیاں اپنی طرف اٹھتی ہیں معزز جج نے کہا کہ اگر سخت لائبیلٹی کا اصول ثابت ہوا تو شیخ رشید آوٹ ہو جائیں گے اگر بالفرض شیخ رشید آوٹ ہوگئے تو نجومی کا وہی ہوگا جو سابق نااہلوں کی سیاست کا ہورہا ہے البتہ اہلیان سیاست کو ایک پیغام ضرور موصول ہوگا کہ کسی بھی کسی قسم کی چوری اورخیانت مستقبل کو تاریک کرسکتی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Sudais

Read More Articles by Rashid Sudais: 56 Articles with 35763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 469

Comments

آپ کی رائے