کراچی کے یومیہ 20ہزار ٹن کچرے کا ذمہ دار کون؟؟؟

(Muhammad Usama, )

جناب پچھلے کچھ سالوں سے ہر دو چار سال کے بعد کسی نہ کسی کو خیال اٹھتا ہے کہ کراچی کو کچرے سے صاف کرنا ہے اور اس کے لئے مہم کا آغازکر دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی کئی سہانے خواب دکھا دیئے جاتے ہیں کراچی کی معصوم عوام کو کہ کچرے سے بجلی پیدا کی جائے گی وغیرہ وغیرہ،آخر میں یہی کہ یہ سب دعوے باتوں کی حد تک رہ جاتے ہیں۔ لیکن آج تک معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔ حقیقت تو ہی ہے کہ آج تک کسی حکمران نے کراچی کے کچرے کو صحیح معنوں میں اہمیت دی ہی نہیں۔کراچی شہر میں امن و امان کے بعد اگر کوئی دوسرا بڑا مسئلہ ہے تو وہ ہے کچرا۔ کچرے کو ٹھکانے لگانا کا پورا ایک نظام ہے جو کراچی میں پوری طرح فعال نہیں ہے۔اس لیے شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔

کچرا اٹھانے کا کام کسی نہ کسی حد تک ہورہا ہے۔ جمع شدہ کچرے کو کہیں جلایا جارہاہے توکہیں سمندر میں بہایا جارہا ہے، بعض محلوں میں کچرا کنڈیاں نہیں ہیں بلکہ کچرا جگہ جگہ پڑا ہے اوران پر جمع مکھیاں، مچھر شہریوں کے لیے مختلف بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ صورتحال کہتی ہے کہ بغیر رقم کے یہ سسٹم چل نہیں سکتا اور حالات کہتے ہیں کہ یہ نظام اگر چل بھی گیا تو اس میں کچرا ٹھکانے لگانے کی صلاحیت نہیں۔ کچرا ٹھکا نیلگانے کے لیے کچھ نیا کرنا ہوگااور نئے کام کو کرنے کے لیے صوبے اور شہر کی حکومتوں میں جھگڑاہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کچھ عرصہ قبل شہر کی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ روشنیوں کے شہر سے تین دن میں کچرے کا صفایا کیا جائے، کہتے ہیں کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی میں روزانہ 20 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ جس میں سے صرف 2 ہزار ٹن ایسا کچرا ہے جو شہر سے باہر مجوزہ جگہ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور باقی 18 ہزار ٹن جو یومیہ بنیادوں پر پیدا ہوتا ہے وہ کراچی کے اندر ہی رہتا ہے۔18ہزار ٹن کچرے میں سے 8 ہزار ٹن کچرا کراچی کے اندر ہی جو ندی نالے گجر نالہ، لیاری نالہ اور ملیر ندی وغیرہ یا اس طرح کے کئی چھوٹے و بڑے ندی نالے ہیں اس میں پھینک دیا جاتا ہے جو کہ مزید بیماریوں اور تعفن کا باعث بنتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کراچی کا موازنہ دیگر بڑے شہروں سے نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ یہ شہر انسانوں کا سمندر ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے اسی حساب سے وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق تاحال اکٹھا ہی کیا جا رہا ہے اور اٹھائے گا کون اور کب اس کا اہلیان کراچی شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔کراچی میں صفائی ستھرائی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اس کی یوں تو بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ جو بظاہر دکھائی دیتی ہے وہ سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے درمیان اختیارات ، فندز کے اْجراء اور دیگر معاملات پر ہونے والے سرد جنگ ہے۔ اس سرد جنگ نے کراچی کے شہریوں کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز ہونے سے ایک طرف تو شہری خوش ہیں کہ کراچی کی تقدیر بدلنے کے عمل کا آغاز ہوا ہے مگر دوسری طرف وہ پریشان بھی ہیں کیونکہ نہ تو کچرے کے ڈھیر اٹھائے جا رہے ہیں نہ گندے پانی کی نکاسی کا نظام بہتر بنایا جا رہا ہے۔ میئر کراچی اپنے اختیارات کے لیے صدائے احتجاج بلند کرتے رہ گئے اور حکومت سندھ اپنی دھن میں مگن رہی۔

شہر میں کچرا اٹھانے کے ذمہ دار ادارے غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں۔ جو صرف میڈیا کے جھنجوڑنے پر ہی کچھ دیر اٹھتے ہیں اور پھر لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ کچرا اٹھانے کے لئے کئی سال قبل سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، لیکن آج تک اسے فعال نہیں بنایا جاسکا۔ جس کے باعث کراچی کچرا کنڈی میں تبدیل ہو چکا ہے اور شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ دو کروڑ کی آبادی والا شہر کراچی جو پاکستان کی معیشت کا حب بھی ہے یہاں کچرے کی صورت حال دیکھ کر صرف فاتحہ ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہر صاف ہوتا ہے یا نہیں۔ ویسے شہریوں کو تو کوئی امید نہیں، ان کا کہنا ہے کہ کوئی معجزہ ہی ہوگا جو شہر سے کچرا اٹھا لیا جائے۔ کراچی شہر کی سڑکوں پر دن بدن بڑھتا کوڑا کرکٹ اور کچرے کا ڈھیر اور اس سے اٹھتی بدبو اور تعفن شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ دو کروڑ کی آبادی اور ملک کو 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے شہر کراچی کے عوام کی ذمہ داری نہ ہی مرکزی حکومت لیتی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔آخر کراچی کا وارث ہے کون؟؟؟
(محمد اُسامہ شاہد، شعبہ ابلاغ عامہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Usama

Read More Articles by Muhammad Usama: 14 Articles with 7695 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 592

Comments

آپ کی رائے