کون جیتا اور کون ہارا؟؟

(Shoukat Ullah, Banu)

سینیٹ انتخابات پائے تکمیل کو پہنچ گئے اور اَب تو پیپلز پارٹی کی شیریں رحمان 34 ووٹ حاصل کرکے پہلی خاتون قائد حزب اختلاف بھی بن چکی ہے۔ جس کی تقرری کا نوٹیفیکشن سینیٹ سیکریٹریٹ نے جمعرات کے روز جاری کر دیا ہے۔ چند ماہ قبل یوں محسوس ہو رہا تھا کہ سینیٹ انتخابات کا انعقاد کھٹائی میں پڑ سکتا ہے کیوں کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اداروں کے خلاف ماحول کو تند و تیز جملہ بازیوں سے روزانہ گرم کئے رکھا۔ اور پھر آصف علی زرداری نے اپنی شاطرانہ چالوں سے صوبہ بلوچستان میں ایسا کھیل کھیلا کہ وہاں وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرکے سیاسی اَپ سیٹ کیا۔ جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کی بات تھی تو اَن کے پاس اتنے ممبران نہیں تھے کہ وہ سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اُن کے پاس تو اتنے ممبران بھی نہیں نکلے کہ قائد حزب اختلاف کا الیکشن جیت سکیں۔اس سارے سیاسی منظر نامہ میں سینیٹ کے انتخابات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار بدلتے حالات کے رُخ پر اپنے تبصرے اور تجزیے بھی بدلتے رہے۔ بالآخر جمہوریت مخالف جماعتوں اور طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور جمہوریت ڈی ریل ہونے سے بچ گئی۔

سینیٹ انتخابات کے بعد سے تبصروں کا سیلاب اُمڈ پڑا ہے۔ کوئی اس کو پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی گردانتاہے تو کوئی پاکستان تحریک انصاف کی چال کو سراہا رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس ساری صورت حال میں ہار کر بھی جیت کا بیانیہ پیش کر رہی ہے۔ جب کہ سیاسی تجزیہ نگار اس کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بد ترین شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔راقم الحروف کے نزدیک سینیٹ انتخابات کے بر وقت انعقاد سے حکمران جماعت کو کامیابی ملی جس میں انہوں نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔اور کل 33 نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت بن کر سرفہرست رہی۔ سینیٹ انتخابات کا اگلا مرحلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا تھا۔ اُمید یہی کی جارہی تھی کہ حکمران جماعت اپنے اتحادیوں جمعیت علماء اسلام (ف) ، اے این پی اور آزاد اُمیداوروں کے ساتھ بآسانی اپنا چیئرمین لے آئے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد اُمیدوار راجہ ظفرالحق کو آزاد میدوار صادق سنجرانی کے ہاتھوں شکست ہوئی۔راجہ ظفرالحق کو صادق سنجرانی کے 57 ووٹوں کے مقابلے میں 46 ووٹ ملے۔ بظاہر پی ایم ایل (ن) کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن دراصل یہ پی پی پی اور پی ٹی آئی کی ناکامی کا آغاز ہے کیوں کہ آج اگرچہ سنجرانی پی پی پی کے ساتھ ہیں جس کا ثبوت انہوں نے منتخب ہونے کے فوراً بعد بلاول ہاؤس میں حاضری دے کر کیا لیکن کل وہ کسی اور جماعت کے ساتھ بھی کھڑا ہوسکتے ہیں۔کیوں کہ پاکستانی سیاست اس طرح کی انہونیوں سے بھری پڑی ہے۔ جس کا اندازہ 2018 ء کے جنرل الیکشن سے قبل ہوجائے گا۔آپ کو بڑے اُصول پسند سیاست دان اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے نظر آئیں گے ، یعنی ایک جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کریں گے۔ تو یہ بات سنجرانی سے بھی بعید نہیں ہے کہ وہ ایک اتحاد سے نکل کر دوسرے میں شامل ہوں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پی پی پی سینیٹ میں اپنا قائد ِ حزب اختلاف کیوں لے کر آئے اور پی ٹی آئی نے اعظم سواتی کو مقابلے کے لئے کیوں کھڑا کیا؟اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی پی پی نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جانب سے رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی پیش کش کو ٹھکرا کر چیئرمین شپ کے عہدے سے ہاتھ دھویا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے آصف علی زرداری کے بلوچستان کارڈ کے جھانسے میں آگئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دے کر ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ تھما دیا۔ یوں دونوں حزب اختلاف جماعتیں جیت کر بھی ہار گئی ہیں۔ اس طرح نواز شریف کا ہار کر جیت کا بیانیہ درست لگتا ہے۔ یہاں چھوٹی جماعتوں کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی کیوں کہ اُن کے ووٹ بے حد قیمتی ہوتے ہیں ۔ ان کی مثال کھانوں میں نمک کی اہمیت کے مانند ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ نہایت خیال سے استعمال کرتے ہیں لیکن اس بار اُن کو بھی کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ حرف آخر یہی کہنا چاہوں گا کہ اس بار سینیٹ انتخابات کھچڑی کی مانند تھے پس فیصلہ آپ خود کریں کہ کون جیتا اور کون ہارا؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128699 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 536

Comments

آپ کی رائے