معصوم لڑکی کے ہاتھوں بھارت کی شکست

(Ali Imran Shaheen, )

آج وہ غصے میں آپے سے اس قدر باہر ہو ئے تھے کہ ننگی تلوار اٹھا کر مقابل کو ( نعوذ باﷲ)قتل کرنے کے ارادہ سے نکلے تھے۔راستے میں ان کا غصہ دیکھ کر کسی نے وجہ پوچھی تو بولے،میں آج اس شخصیت کی طرف جا رہا ہوں جنہوں نے ہمارے لوگوں کوآباؤ اجداد کی راہ سے ہٹا کر ایک نئے راستے پر لگانا شروع کر رکھاہے ۔آج میں یہ کہانی ختم کر کے ہی واپس آؤں گا۔اس پرراستے میں ملنے والا شخص بولا، پہلے اپنے گھر کی خبر لو ،،تمہاری بہن اور بہنوئی تو اسی شخصیت کی راہ پر چل چکے اور اسلام قبول کر چکے ہیں۔یہ سب سننے کے بعد ان کے غصے کا عالم کیا ہو گا؟شاید تصور محال ہو۔وہ اس نئی کیفیت اور نئے عالم میں پہلا ارادہ ترک کر کے بہن کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچے تو انھیں اندر سے کچھ پڑھے جانے کی آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی انہیں اندازہ ہو ا کہ ان کی بہن اور بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔قرآن چونکہ انہوں نے پہلے بھی سن رکھا تھا ،سو انہیں سمجھنے میں دیر نہ لگی۔بہن نے بھائی کو گھر میں یوں داخل ہوتے او ر ہاتھ میں ننگی تلوار کے ساتھ انتہائی غصے کے عالم میں دیکھا تو قرآنی اوراق چھپا دیے۔ اس پر انہوں نے بات شروع کرنے کے لئے پوچھا ،کیا پڑھ رہے تھے؟تو انھوں نے بتانے سے انکار کر دیا۔ اس پر بھائی کو مزید غصہ آیا اور انھوں نے بہن اور بہنوئی کواس بے دردی سے پیٹنا شروع کر دیا کہ ان کا جسم لہو لہان ہو گیا۔ مار مار کر تھک جانے کے بعد بھائی نے بہن سے پھر سوال کیا توجواب پر یقین ہو گیا کہ بہن اسلام لا چکی ہے تو انھوں نے اسلام سے پھِرنے کے لیے زور ڈالا۔ جواب میں بہن نے پوری جرات و بیباکی سے کہہ دیا، تم مجھے بے شک مار ڈالو، جو چاہے کر لو، میں اب اسلام سے پھر نہیں سکتی۔

شاہ نامہ اسلام کے لکھاری حفیظ جالندھری کی شعری نظر سے اس واقعہ کو دیکھیں تو منظر یوں دکھائی دیتا ہے۔
بہن بولی عمر! ہم کو اگر تو مار بھی ڈالے
شکنجوں میں کسے یا بوٹیاں کتوں سے نوچوالے
مگر ہم اپنے دین حق سے ہر گز پھر نہیں سکتے
بلندی معرفت کی مل گئی ہے گر نہیں سکتے

پھر تاریخ نے عجب منظر دیکھا کہ وہی جان لینے کے ارادے لئے چلنے اور بہن بہنوئی کو لہولہان کرنے والے عمر چند لمحوں بعد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے ۔مکہ کی پہاڑیاں صحابہ کرامؓ کے تکبیر کے نعروں سے گونج رہی تھیں۔دعائے رسول ؐ ، مراد رسول ؐ پوری ہو چکی تھی ،نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا’’ اے اﷲ! عمر بن الخطاب اور عمرو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اسکے ذریعے سے اسلام کو قوت پہنچا۔‘‘

اﷲ نے دعا قبول فرمائی اور یوں بہن و بہنوئی کی استقامت سے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ مسلمان ہو گئے تھے۔
آج یہ واقعہ تب یاد آیا جب بھارت سے آنے والی خبر سنی کہ ریاست کیرالہ کی رہنے والی ہندولڑکی اکھیلا اشوکن نے ہر مشکل کا سامنا اور ہر رکاوٹ عبور کر کے اسلام کو گلے لگا لیا ہے۔اس لڑکی کا نیا نام ہادیہ شافعین ہے جس نے اسلام کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے اپنا نام تبدیل کر کے بھی دکھا دیا ۔

جی ہاں! اسی بھارت میں جہاں آج 25سے 30کروڑ مسلمان بستے ہیں لیکن عالم یہ ہے کہ وہ ہندؤوں کے سامنے دم مارنے ،اونچا سانس لینے کی جرات و جسارت نہیں کر سکتے۔جہاں ان پر اس قدر بھیانک اور انسانیت سوز ظلم ڈھایا جاتا ہے کہ حیوان سنیں تو پاگل ہو جائیں۔جہاں آج تک کسی ایک مسلمان کے قاتل کو سزائے موت ہو سکی نہ کسی دیگر مسلم مخالف انسانیت سوز جرم کی قانون کے مطابق سزا مل سکی۔ جہاں ہندو دن رات دندناتے، اعلان کرتے پھرتے ہیں ’’ہندوستان میں رہنا ہو گا ،رام رام کہنا ہو گا‘‘اگر یہ قبول نہیں تو ’’پاکستان جاؤ یا قبرستان جاؤ‘‘اور پھر اس سب کی عملی مشق دن رات دہرائی جاتی ہے۔جہاں کہیں ہندؤوں کاکوئی تہوار ہو یا انہیں ویسے کوئی شغل مذاق سوجھے تو ان کا نشانہ مسلمان اورخاص طور پر ان کی خواتین ہوتی ہیں۔ہندؤوں کی مذہبی جکڑ بندیوں سے ستائی کوئی لڑکی یا خاتون اسلام قبول کر لے تو اسے ’’لو جہاد‘‘ کا نام دے کر جہاں جہاد کو بدنام کیاجاتا ہے وہیں مسلمانوں کی نئی شامت آ جاتی ہے۔

ہومیو پیتھی کی طالبہ اور 26سالہ ہادیہ کیرالہ کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئی تھی۔ اس نے دسمبر 2016ء میں اپنے طور پر اسلام کا مطالعہ کیا، قرآن کو پڑھا، سمجھا اور پھر اسلام قبول کرکے اپنا نام ہادیہ رکھا اورشافعین جہاں نامی مسلمان نوجوان سے شادی کی تو سارے بھارت میں یوں کہرام مچا تھا جیسے بھارت اور ہندو مت مٹا چاہتا تھا۔ قبول اسلام کے بعد اس نے اگلی بڑی جرات کر کے کسی مسلمان کے ساتھ شادی کے لئے اخبار میں اشتہاردے دیاتھا ۔اشتہار چھپتے ہی کیرالہ کے ہی رہنے اور خلیج میں ملازمت کرنے والے مسلم نوجوان شافعین جہاں سے جو چھٹیوں پر اپنے علاقے آیا تھا، اس کی شادی ہو گئی۔سارا واقعہ سامنے آتے ہی ہندؤوں نے پہلے’’ لو جہاد‘‘ اور پھر شافعین کے دہشت گرد ہونے کا واویلا شروع کردیا۔شافعین چونکہ خلیج میں برسوں سے ملازمت کرتے رہا اور اس کے اہل خانہ بھی وہیں قیام پذیر ہیں، سو ناکامی پر معاملے کو داعش سے جوڑنے کی کوشش شروع کر دی گئی۔ہادیہ کو دوبارہ ہندو بنانے کے لئے جہاں سارے ہندو میدان میں آگئے وہیں اسکے والدین کی جانب سے فوری طور پر معاملہ سیدھا کیرالہ ہائی کورٹ پہنچا دیا گیا جہاں قانون کے رکھوالوں نے فوری طور پر اس شادی کو غیر قانونی قرار دے کر نکاح کو منسوخ کر کے ہادیہ کو اس کے والدین کی تحویل بلکہ بدترین قید میں دے دیا ۔ ان حالات میں وہاں اس پر کیا گزری ہو گی؟اس کا شاید اندازہ بھی نہ کیا جا سکے۔شادی کے بعد کورٹ کچہری کے چکروں میں پڑنے کی وجہ سے شافعین کو انڈیا ہی میں رہنا پڑاتواس کی خلیج کی ملازمت بھی ختم ہو گئی لیکن اس نے بھی ہادیہ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔شافعین نے مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر کیا۔ اسے ایک طرف ہادیہ کے والدین کا خوف تھا تو دوسرا انتہا پسند ہندؤوں کا جو ہر وقت مسلمانوں کے خون کے پیاسے رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری این آئی اے کو دے دی اور ساتھ ہی ہدایت جاری کی کہ وہ پتا لگائے کہ یہ کہیں’’ لو جہاد ‘‘کا کیس تو نہیں۔ 11ماہ تک ہادیہ والدین کے قبضے اور قید میں گزار کر جب کیرالہ سے دہلی پہنچی اور اسے سپریم کورٹ پیش کیا گیا تو ہادیہ کی ایمانی غیرت دیکھنے کے لائق تھی۔ ایک کمزور و ناتواں لڑکی جسے غالباً پہلی بار دہلی آنے کا موقع ملا اور وہ بھی اس کیفیت میں کہ اس کے آگے پیچھے پولیس دستے اور بندوق برداروں کے لاؤ لشکر تھے۔ یہاں اسے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کی عدالت میں پیش کیا گیا لیکن سلام ہے کہ ہادیہ کے ایمان میں ذرا لغزش نہ آئی اور اس نے بھری عدالت میں علی الاعلان اپنے موقف بیان کیا اور بلا خوف و تردد بتایا کہ اسے اسلام قبول کرنے کے لیے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا۔ اس نے مطالعہ کرنے کے بعد اسلام قبول کیا ہے اور وہ اب اسی مذہب پر قائم رہے گی اورصرف اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا پسند کرے گی۔میڈیا کے سامنے یہ سب بیان کرتے اس کی خوشی دیدنی تھی۔

یہ سب میڈیا میں رپورٹ ہوا تو انتہا پسند ہندؤں کے ہاں جیسے صف ماتم بچھ گئی۔ان ہندؤوں کے ایک طاقتور گروہ ہندوجاگرن منچ کے لیڈرراجو چوہان نے تلملا کر یہ گیدڑ بھبکی لگائی کہ وہ اگلے 6ماہ میں اس واقعہ کے بدلے 2100مسلم لڑکیوں کو ہندو بنا دیں گے۔ہم گھر گھر جاکر ہندؤوں سے یہ کہیں گے وہ مسلمانوں کو لڑکیوں کواپنی بہو بنائیں کیونکہ یہ دھرم کی بہت بڑی سیوا ہے۔

ویسے تو ہمارا مفت مشورہ ہے ، ان احمقوں کو اپنے گریبان میں جھانکناچاہیے کہ11ماہ کی انتھک کوشش کے باوجود اگر وہ معصوم لڑکی کو ایمان سے نہیں پھیر سکے تو اپنا خیالی ہدف کیسے حاصل کر پائیں گے اور جو دھرم ایک لڑکی کو شکست نہ دے سکا ،وہ پورے اسلام کو کب شکست دے پایا اور کیسے اب دے پائے گا؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Imran Shaheen

Read More Articles by Ali Imran Shaheen: 189 Articles with 81586 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2018 Views: 497

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ