"فبائی الاء ربکما تکذبان "(تیسری قسط )

(Mona Shehzad, Calgary)

رات کا پہر بہت فضیلت رکھتا ہے. اللہ سبحان تعالٰی فرماتے ہیں
"ہے کوئی مانگنے والا. ..."
ہمارے بزرگوں کو ہمیشہ تہجد کی نماز پڑھتے دیکھا ہے. ابھی اس ہفتے میں بروز بدھ میری ساس انتقال فرما گئیں. پورا خاندان ایک رنج و الم کی کیفیت کا شکار ہے. جو شخص کسی معمولی بیماری کا بھی شکار نہ ہوا تھا اس کے اچانک چلے جانے کے غم کا اندازہ آپ سب لگا سکتے ہیں. فجر کی نماز کے وضو کے دوران ان کی وفات ہوئی. زندگی میں پہلی بار مجھے اس بات کا انکشاف ہوا کہ مسلمان گھر میں بحیثیت مسلمان کے پیدا ہونا اور مسلمان کی حیثیت سے اس دنیا سے رخصت ہونا یہ بھی اللہ سبحان تعالٰی کی بہت سی نعمتوں میں سے ایک سب سے بڑی نعمت ہے. ہم انسان اللہ کی نعمتوں کا کبھی نہ شمار کرتے ہیں اور نہ کبھی ان کا شکر ادا کرتے ہیں.

ہمارا زندگی کا سفر آذان کی آواز سے ایک مسلم گهرانے میں شروع ہوا اور نماز جنازہ سے ختم ہوتا ہے. یہ بھی تو ممکن تھا کہ ہم کسی ہندو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے گهرانے میں پیدا ہوتے اور پھر اسلام کی تلاش کرکے اس میں داخل ہوتے، مگر میرے رب نے ہمیں یہ اضافی نعمت دے دی کہ ہم ایک مسلمان گهرانے میں رہتے ہوئے مہد سے لہد تک کا سفر گزارتے ہیں. ایک حدیث میری نظر سے گزری ہے (مسند احمد) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ رحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی صحابہ کرام چپ چاپ سنتے رہے آپ نے فرمایا تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو جب کبھی آیت ( فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 13 ؀) 55- الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے (لا بشئی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد ) یعنی اے ہمارے پروردگار ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے لئے ہی تمام تعریفیں سزاوار ہیں .

بحیثیت انسان اگر ہم اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا اگر شروع کردیں تو میری ناقص رائے میں یہ فانی زندگی ختم ہوجائے گی مگر نعمتوں کی گنتی ختم نہیں ہوگی. ہماری طبیعتوں میں ایسی بے تابی آگئی ہے کہ ہم جو نعمت سے ابھی وقتی طور پر محروم ہیں اس کے لیے مرے جارہے ہیں اور جو نعمتوں کا انبار ہے اس کے لیے شکر گزار نہیں ہیں. اگر ہم اللہ کی اسی نعمت کے شکر میں مصروف ہوجائیں کہ اس نے ہمیں بحیثیت مسلمان پیدا کیا اور بحیثیت مسلمان ہی ہماری موت متوقع ہے تو شاید عمر بیت جائے مگر شکر کا حق ادا نہ ہوپائے گا. زندگی کو اگر دلفریب اور آسان بنانا ہے تو لوگوں میں نقص نکالنے کے بجائے اپنے رب کی نعمتوں کو گننا اور ان کا شکر کرنے کی عادت بنالیجئے، یقین کرئے زندگی خوبصورت اور بابرکت ہوجائے گی.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175571 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
07 Apr, 2018 Views: 662

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ