بے نمازی مسافر اور بھاگتا ہوا شیطان

(Rabi Ul Alam, )

ایک آدمی جنگل میں سفر کر رہا تھا۔ ایک دن شیطان بھی اس کے ساتھ ہوگیا اور سفر کرنے لگا۔ وہ آدمی سفر کرتا رہا اور نمازیں چھوڑتا رہا یہاں تک کہ اس نے فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء میں سے ایک بھی نماز ادا نہ کی۔ جب سونے کا وقت ہوا تو سونے کی تیاری کرنے لگا تو شیطان اس کے پاس سے بھاگنے لگا۔

اس مسافر نے بھاگتے ہوئے شخص سے پوچھا:بھائی خیریت تو ہے۔۔!دن بھر تم نے میرے ساتھ سفر کیا اور اس وقت جب کہ تمہیں آرام کرنا چاہئے تم مجھے چھوڑ کر کیوں بھاگ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں شیطان ہوں۔۔۔۔ میں نے زندگی میں ایک بار اللہ ﷻ کی نافرمانی کی تو راندۂ درگاہ اور ملعون ہوگیا۔ اے ابنِ آدم!تم نے تو ایک دن میں پانچ بار اللہ ﷻ کی نافرمانی کی۔ نمازوں کو ترک کردیا اور اسے کوئی اہمیت نہ دی۔مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ تیری نافرمانیوں کہ سبب تجھ پر کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آجائے اور تیرے ساتھ رہنے کے سبب کہیں میں بھی عذاب میں مبتلا نہ کردیا جاؤں ۔۔۔! اسی لئے میں تمہارے پاس سے بھاگ رہا ہوں۔ (ملخص از درۃ الناصحین)

قارئین کرام ! اس واقعہ میں ہمارے لئے سبق ہے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی تارکِ نماز تو نہیں اور نمازوں کو ترک کرکے کہیں ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب تو نہیں بن رہے۔ ہمیں نمازوں کی فکر کرنی چاہئے۔اللہ ﷻہم تمام مسلمانوں کو نمازوں کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نمازوں کی فکر عطا فرمائے۔ (اٰمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 16177 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2018 Views: 575

Comments

آپ کی رائے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ایڈمن صاحب ذرا غور تو فرمائیں کہ یہ کیا ہے؟ ایسی من گھڑت بات ہماری ویب کی زینت بنائ جا رہی ہے جس کا نہ تو سر ہے نہ پیر۔ شیطان تو بندے کو بہکا کے خوش ہوتا ہے۔ نماز نہ پڑھنا تو اللہ کی نافرمانی اور شیطان کی فرمانبرداری ہے۔ شیطان کو تو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ کہ اس نے تو قران میں عہد کیا ہوا ہے کہ وہ بندے کو ہر صورت میں بھٹکاۓ گا۔
آپ سے درخواست ہے کہ آرٹیکلز کا کوئ تو معیار رکھیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Apr, 09 2018
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ