جن پہ تکیہ تھا

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

جس " جن پہ تکیہ تھا وہ آج کل افسردہ رہتا ہے یا یوں کہیں بے روزگار سا ہو گیا ہے کیونکہ اب اس الف لیلوی جن کو کوی نہیں بلاتا کیونکہ اب ہر ایک کے ہاتھ میں اس کا اپنا جن مختلف پیکیج کے ساتھ دستیاب ہوتا ہے چراغ رگڑنے کے بجاے موبائل کا ٹچ سسٹم رگڑنےسے آ موجود ہوتا ہے اور آپ کو ٹیکسی چاہیے تفریح چاہیے کسی دور دراز پر بیٹھے شخص کو اپنے سامنے دیکھنا ہو سب ہی کچھ دستیب ہے اس چھوٹے سے جنی jinny میں

اور اُس بوتل کے جن کا کیا پتہ واپس اندر جانے سے انکار کر دے اور آپ کی خواہش پوری کرنے کے بجاے آپ ہی کے اوپر سوار ہو جاے اور کہے کہ کریم کر دو جو اس بیچارے کے بس میں کہاں جب کہ جو جن ہاتھ میں موجود ہے جب چاہے ایک بٹن دبا کر اس کا ٹینٹوا دبا کر معینہ اور غیر معینہ مدت کے لیے بند کرسکتے ہیں جیسے ایک ڈکٹیٹر نے میڈیا کا گلا دبا دیا تھا ایک آرڈر سے

آپ کو خریداری کرنی ہے تو فوری کیش کی بھی ضرورت
نہیں پن کوڈ پلاسٹک کرنسی اور مبینہ مشکوک یا محفوظ کرپٹو کرنسی ویسے تو کاغزی کرنسی کا بھی کیا اعتبار اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ ضرورت کے لیے محدود کرنسی رکھ کر باقی سونے یا جایداد کی شکل میں رکھا جاے

بات ہو رہی تھی جن کی اور اس پر تکیہ کرنے کی تو اب ہمارا تکیہ تو موبائل ہو گیا ہے جو سوتے وقت بھی سرہانے ہوتا ہے جو نقصان دہ بھی ہے مگر کام بھی بہت آتا ہے اگر واے فاے ہو تو اور مفید وایف کی طرح مگر اتنے فرق سے کہ ایک پر ہمارا حکم چلتا ہے اور دوسرے کے حکم کے ہم تابع اور کبھی جِن بے قابو بھی ہو جاتا ہے آپ کی زرا سی غلطی پر

اب عاملوں کی بھی ضرورت نہ رہی کہ ان کے بغیر ہی محبوب قدموں میں بلکہ قدموں کے بجاے اسکرین پر ہی آجاتا ہے اور اُس کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہتی ہے

جن یہ کہتے ہیں کہ ہم کِن پر تکیہ کریں کہ
جن پہ تکیہ تھا وہ پتے ہوا دینے لگے
بلکہ اب تو ہوا بھی نہیں دیتے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اور انسان کہتے ہیں کہ ہمارا کام موبائل سے چل رہا ہے ہاں اگر"جن" ایزی لوڈ کروا دیں ہمیں قالین پر نہ اُڑایں
جن کہتے ہیں کہ ہمارا پیسہ انسانوں نے اسٹاک اور کرنسی میں لگوا کر ڈبو دیا اور اب ہمارے اوپر قرض کا لوڈ ہے امریکی حکومت کی طرح اور ساری دنیا کو قرض دے کر ٹرمپ کی طرح دھونس نہیں جما سکتے

ایک زمانے میں مجھے شوق چڑھا تھا ٹیلی فلم بنانے اور اس میں کام کرنے کا تو بڑی بھاگ دوڑ کے بعد دو شروع کی تھیں ایک "سانس " جو مکمل تو ایک ہفتہ میں ہوی مگر پیسے وصولنے میں سانس پھول گی اور ایک سال کے بعد ہمارے ڈایریکٹر نظامی کی کوشش سے وصول ہوی اور کچھ سانس آی ورنہ سانس اٹکی رہتی اور دوسری کا نام یہی تھا " جن پہ تکیہ تھا " جو بن کھلے مرجھا گئ کیونکہ جن پر تکیہ کیا تھا وہ اپنا تکیہ لے کر الگ ہو گئے اور ہم تکیہ لگا کر لیٹ گیے "جن" کےانتظار میں "جن "پر تکیہ کیے ہوے

بعض لوگ ہوتے تو انسان ہیں مگر وہ اتنی محنت سے مسلسل کام کرتے ہیں کہ جن ہونے کا شُبہ ہوتا ہے ایک زمانے میں مجھے بھی شوق ہوا تھا اسی طرح کا مگر اب پریوں کی وادی میں رہتا ہوں اور میں نے فرصت کے رات دن ڈھونڈ لیے
ہیں

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِجاناں کیے ہوے

جاناں تو نہ ملی مگر ہم لکھنے لکھانے میں لگ گئے اور شاعری اور نثر میں اوقات صرف کرنے لگے اور اس نے اوقات یاد دلا دی کیونکہ یہ زہن کی مشقت ہے
اور دوسروں کا تو پتہ نہیں مگر میرے اوپر اچھے اثرات ہوے

انسان اور جن دونوں ہی اس دنیا میں رہتے ہیں اور جن انسانوں سے بہت پہلے
مگر وہ عام انسانوں کو نظر نہیں آتے سواے کچھ لوگوں کے جن کے وہ کام بھی کرتے ہیں مگر اس طرح نہیں جس طرح ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے کہ ان کو اور کوی کام نہیں سواے انسانوں پر آنے کے اور خوب دو نمبری ہورہی ہے جن نکالنے کے بہانے

ایک صاحب ایک مستند بزرگ کے پاس پہنچے کہ کوی وظیفہ بتایں تو انہوں نے اس شرط کے ساتھ کہ درمیان میں کچھ حیرت انگیز چیزیں آینگی ان میں پڑے بغیر آگے گزر جانا ہے مگر وہ وہیں اٹک گئے اور موکل قابو میں کر لیا اور شعبدہ بازی کا مزہ لگ گیا اور موکل سے کام لینے لگے گاڑی بھی اس سے ڈرایو کرواتے خود پیچھے بیٹھ جاتے اور لوگ حیرت سے تکتے کیونکہ گاڑی چلانے والا تو نظر نہیں آتا
ایک دن پولس آی مجرم کی تلاش میں مدد کے لیےتو انہوں نےزیادہ پیسے مانگے پولس نے لوک اپ میں بند کر دیا الٹا پیسے دے کر جان چھڑای پولس کے سامنے موکل بھی بیچارہ بے بس تھا شائد یوں وہ اپنی نیت کے انجام کو پہنچے

بہرحال دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں پر آدمی بھروسہ کرتا ہے اور تکیہ کیے ہوے ہوتا ہے وہی پتے ہوا کیا دینگے آدمی کا پتہ ہی صاف کر دیتے ہیں اور لگ پتہ جاتا ہے
خوش نصیب ہیں وہ جو اپنے رب سے امید رکھتے ہیں اور صرف خدا پر اعتماد رکھتے ہیں

اور جو الله پر توکل کرے گا تو الله اُس کے لیےکافی ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 232 Articles with 86951 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2018 Views: 568

Comments

آپ کی رائے