نواز شریف کا کیا بنے گا ؟

(Roshan Khattak, Peshawar)

 پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قسمت کا ستارہ اِن دنوں گردش میں ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہ تاحیات ناہل قرار دیئے جا چکے ہیں،دیگر کئی مقدمات میں نیب نے ان کے ارد گرد شکنجہ کَس لیا ہے۔اندریں حالات عوام کے ذہنوں میں لا محالہ یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ نواز شریف کا کیا بنے گا؟ کیونکہ نواز شریف کے مستقبل کے ساتھ وطنِ عزیز کے سیاسی مستقبل کا بھی گہرا تعلق ہے۔بِلا شک و شبہ پاکستان مسلم لیگ(ن) ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی ہے جس کا مستقبل بھی نواز شریف کے مستقبل کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس پارٹی میں بہت سارے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ہمیشہ اپنی ذاتی مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہو ئے سیاست کرتے ہیں ،ان کا کو ئی نظریہ نہیں بلکہ ہوا کے رخ کو دیکھ کر وہ سیاست کرتے ہیں۔بناء بر ایں اگر نواز شریف کی کشتی احتساب عدالت کے بھنورمیں پھنسنے کے بعد باہر نکل کر ساحل تک نہیں پہنچتی تو نواز لیگ میں شامل بہت سارے ارکانِ پارلیمنٹ کا کسی دوسری کشتی میں چھلانگ لگانا بعید از قیاس نہیں۔در اصل سیاسی جماعتوں کی ہمیشہ یہ کو شش ہو تی ہے کہ پارٹی میں ان لوگوں کو شامل کیا جائے یا ان لوگوں کو الیکشن میں حصہ لینے کے لئے ٹکٹ دئیے جائیں جو اپنے علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے ہوں، اور Electableہوں۔مگر ایسے لوگ زیادہ تر نظریاتی نہیں ہو تے بلکہ ان کی ترجیح ہر حال میں اقتدار میں رہنا ہو تا ہے۔وہ ہوا کا رخ دیکھ کر سیاست کرتے ہیں۔جس کی ایک مثال حال ہی میں جنوبی پنجاب کے دس ارکانِ اسمبلی کا مسلم لیگ(ن) سے علیحدگی کا اعلان ہے اور مستقبل قریب میں وسطی پنجاب سے بھی کئی دیگر ارکانِ اسمبلی کا نون لیگ چھوڑنے کا اعلان سامنے آسکتا ہے۔لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت نواز شریف کے مستقبل کے ساتھ مسلم لیگ(ن) کے مستقبل کوبھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔بعض لو گوں کا خیال ہے کہ کسی شخص کے جانے سے اس کی پارٹی یا سیاست ختم نہیں ہو سکتی ۔وہ ا س سلسلہ میں پیپلز پارٹی کی مثال پیش کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو(مرحوم) کو اگر چہ جسمانی طور پر ختم کیا گیا مگر اس کی سیاست آج بھی زندہ ہے۔مگر وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بھٹو ایک نظریہ کا نام تھا ۔روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ عوام میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ وہ غریب عوام کے مسیحا کا صورت اختیار کر چکے تھے اور وہ عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا شرف حاصل کر چکے تھے اور دوسری بات یہ بھی تھی کہ اس وقت آزاد عدلیہ تھی نہ آزاد میڈیا نہ آزاد سیول سوسائٹی اور نہ آج کی طرح شتر بے مہار سوشل میڈیا۔ آج کے حالات اس وقت کے حالات سے یکسر مختلف ہیں۔ بناء بریں اگر نواز شریف نے حالات کا مقابلہ دانشمندانہ طریقہ سے نہ کیا توحالات اس طرح پلٹا کھاجا ئینگے کہ انکا نام پاکستانی سیاست سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتا ہے ۔البتہ اگر وہ سیاسی تدبّر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں تو ان کے لئے امکانات ختم نہیں ہو ئے ۔ میاں محمد نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا آئین کے آرٹیکل 62ّ(۱)ایف کے تحت نا اہلی کا فیصلہ اگر چہ نواز شریف کے لئے قابلَ قبول نہیں ہے اور وہ اس سلسلہ میں جو بیانیہ دے رہے ہیں ۔اس کو کسی صورت میں پسندیدہ بیانیہ قرار نہیں دیا جا سکتا مگر حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کے لئے بہت فا ئدہ مند ثابت ہو گا۔ اس لئے کہ جس طرح ماضی میں وزیر اعظم کے سر پر آئین کے آرٹیکل58(2b) کی تلوار لٹکتی رہتی تھی اب سیاستدانوں کے سر پر آئین کے آرٹیکل 62(۱)ایف کی تلوار لٹکتی رہی گی۔اب سیا سی لیڈر شِپ کو یہ بات مدِ نظر رکھنی چا ہئیے کہ اپنے آپ کو صادق و امین رکھے بغیر کسی بھی وقت ان کا سیاسی کھیل ختم ہو سکتا ہے۔ان بدلے ہو ئے حالات میں نواز شریف کو بھی اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔ عدلیہ سے محاذ آرائی، اسٹیبلیشمنٹ سے زور آزمائی اور بھارت سے ہاتھ مِلائی ان کے لئے نقصان کا باعث ثابت ہوئی ہے اور مزید سخت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔اگر چہ آئیندہ عام انتخابات میں پنجاب سے نون لیگ کے کامیابی کے امکانات موجود ہیں مگر اس کے لئے نواز شریف کو بہت زیادہ عقلمندی کا ثبوت دینا ہو گا اور مستقبل کی صورتِ حال کا احساس اور صحیح صحیح اندازہ لگا کر قدم اٹھانا پڑے گا۔ورنہ موجودہ مقدمات کے علاوہ بھی ان کے خلاف، ان کے خاندان کے خلاف ان کے پارٹی کے سر کردہ افراد کے خلاف ابھی بہت سارے مقدمات سرکار کے فا ئلوں میں بند پڑے ہیں جو کسی وقت کھل سکتے ہیں اور انہیں مزید مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ کرپشن یا منی لانڈرنگ جیسے مقدمات کے علاوہ ماڈل ٹاون جیسے مقدمات ان کے سیاسی کیرئیر کا مکمل خاتمہ بھی کر سکتے ہیں۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کے لئے غرور و تکّبر ہمیشہ زہرِ قاتل ثابت ہوا ہے ۔لہذا نواز شریف کو بھی ہر قدم رکھنے سے پہلے اور ہر بول بولنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چا ہئیے یا بولنا چاہئیے ورنہ ان کے قسمت کا ستارہ گردش کرتے کرتے گِر بھی سکتا ہے۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 446 Print Article Print
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 237 Articles with 122438 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Reviews & Comments

Language: