نظر، نظریہ اورنظریاتی لوگ

(M.P Khan, Buner)

گذشتہ دنوں جب پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنماندیم افضل پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے توبلاول بھٹوکاردعمل بڑامعنی خیزتھا۔"ندیم افضل نظرآتاتھا، نظریاتی نہ تھا" ۔۔۔ اس کامطلب ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے اورجولوگ جب تک اس جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں وہ نظریاتی ہوتے ہیں لیکن جب وہ اس جماعت کے ساتھ اپناتعلق منقطع کرتے ہیں ، توپھر وہ صرف نظرآتے ہیں۔ ویسے انکی بات ایک لحاظ سے دل کولگتی بھی ہے کہ۔۔۔ جولوگ بارٹی میں ہوتے ہیں وہ واقعی نظرآتے ہیں اورایسے نظرآتے ہیں کہ دن رات اچھے اوربرے حالات میں نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے لیکن جب پارٹی سے ناطاتوڑدیتے ہیں پھرکبھی نظرنہیں آتے ۔۔۔۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم صاحب نے بھی مانسہرہ میں جلسے کے دوران بہت زبردست بات کہی۔۔۔۔" نوازشریف ایک نظرئے ے کانام ہے"۔ بات توواقعی سوچنے کی ہے کہ 35سال اقتدارکے باگ ڈورسنبھالنے کے بعدجب ملک کے اعلیٰ عدلیہ نے نااہلی کافیصلہ سنایا،توسابقہ وزیراعظم صاحب کو اندازہ ہواکہ وہ ایک نظریہ تھالیکن شاید یہ پاکستانی قوم کی بدقسمتی تھی کہ انہیں نوازشریف صاحب صرف نظرآتے تھے ،نظریاتی نہیں تھے۔نوازشریف صاحب کی بدنصیبی یہ تھی کہ اتنے لمبے عرصے میں وہ قوم کو یہ باورکرانے میں کامیاب نہ ہوسکے کہ وہ ایک نظریہ کانام ہے۔

جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام اوردیگرمذہبی جماعتیں ، خواہ وہ سیاسی ہوں یانہ ہوں، نظریہ کی بنیاد پرکام کرتی ہیں۔جماعت اسلامی والے اپنی موجودہ جماعت کارشتہ سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے جوڑتے ہیں اوراپنی پارٹی کو اصولی جماعت تصورکرکے اسلام کے عالمگیر اورجامع نظریات کی علمبرداری کادعویٰ کرتے ہیں۔جماعت اسلامی اپنے نظریات کے فروغ کے لئے جلسے جلوسوں، درس قرآن کی نشستوں، اخبارات اورمیگزین وغیرہ کاسہارالیتے ہیں۔ ماہنامہ ترجمان القرآن اس جماعت کانمائندہ جریدہ ہے جبکہ مودودی صاحب کی تفسیرترجمان القرآن بھی دین اسلام کی عالمگیراصولوں کی روشنی میں نظام خلافت ، نظام شریعت، تہذیب ومعاشرت،عقائد ، عبادات،قانون، معیشیت وغیرہ پر بحث کرتی ہے۔لیکن جب ہم جماعت اسلامی کے بنیاد ی نظرئے کے تناظرمیں موجودہ جماعت اسلامی کامشاہدہ کرتے ہیں توکہیں بھی افکارِمودودی صاحب نظرنہیں آتے اورنہ ہی جماعت کے بنیادی نظرئے کانام ونشان نظرآتاہے۔

اسی طرح جمعیت علمائے اسلام (ف) پاکستان کی سب سے بڑی دینی سیاسی جماعت ہے اوراسکی سیاست کی بنیاد ایک مخصوص نظرئے پرقائم ہے۔اس جماعت کے ساتھ وابستہ افرادمیں اکثریت علمائے کرام کی ہے جودین کی سربلندی کے لئے مختلف محاذوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ان لوگوں کادعویٰ ہے کہ وطن عزیز میں کسی قسم کی غیرشرعی اورغیراسلامی سرگرمی، بے حیائی اورفحاشی کے خلاف وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی مانندکھڑے ہیں۔ایوان اقتدارمیں اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہرآواز اورپیش کئے جانے والے ہربل کی تردیدمیں جمعیت اسلام کے ممبران پیش پیش ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انکااصولی اختلاف رہتاہے کہ وہ ملک میں موسیقی اورناچ گانے کے کلچرکو فروغ دے رہاہے۔

اسی طرح دیگرتمام سیاسی جماعتیں اپنے نام نہادنظرئے کی بنیاد پر عوام کی توجہ حاصل کرنے کی سعی لاحاصل کررہی ہیں۔بنیادی طورپر نظریہ شخصیات کاہوتاہے، جوانہیں دیگرلوگوں سے ممیزاورممتازکردیتاہے جبکہ بحیثیت مجموعی سیاسی جماعت کامنشورہوتاہے،جس کی بنیادپر وہ عوام کو بیوقوف بناتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے ۔ ہمارے سیاسی راہنماؤں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کو پہچان لے۔ دوقومی نظرئے کے تناظرمیں معرض وجودمیں آنے والے ملک کو کس نظرئے کی بنیاد اسلامی جمہوریہ پاکستان بنایاجاسکتاہے۔ سترسال گزرنے کے باوجودہم منزل مقصودتک پہنچنے میں ناکام رہیں۔ ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے، روزبروزبڑھ رہے ہیں۔ ہم قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں اوربے روزگاری، جہالت ، غربت اورافلاس سے نجات ہمارے لئے چیلنج بن چکی ہے۔ترقی کے اس سفرمیں ہمارے ہم سفردیگرقومیں ہم سے کس قدرآگے نکل گئیں۔ انہیں انکے لیڈروں نے ایک نظریہ دیااوراس نظرئے کی بنیاد پر انہوں نے صحیح معنوں میں اپنے ملک کی خدمت کی ۔ لیڈر اورقوم نے من وعن نظرئے کی پاسداری کی۔یہی اقوام نظریاتی بنیں اورانہوں نے ہمیشہ اپنے ملک کی قیادت کے باگ ڈورصرف نظریاتی لوگوں کے ہاتھ میں دئے اورنتیجتاً انکے لیڈروں نے قوم اورملک کی ایسی بے لوث خدمت کی کہ آج ہمارے لیڈران سے قرض لے لے کر ملک کانظام چلارہے ہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ اتنے لمبے عرصے تک نہ ہم خودنظریاتی بنے اورنہ ہمیں نظریاتی قائدنصیب ہوا۔جوبھی آیااسکایہی نظریہ تھاکہ ۔۔۔۔ قوم اورملک کی دولت کو شیرمادرسمجھ کر لوٹاجائے ۔دولت کے نشے نے انکے دل ووماغ کو ماؤف کردیا اورانکاہوس زرکبھی ختم نہیں ہوا۔اب ہمیں ضرورت ہے صحیح معنوں میں نظریاتی لیڈرکی، جوموجودہ حالات کے تناظرمیں قوم اورملک کے حالات کے مطابق ایسانظریہ پیش کرے اوراس پر عمل کرے، جو ہمیں ذلت کے دلدل سے نکال دے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MP Khan

Read More Articles by MP Khan: 100 Articles with 49831 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2018 Views: 592

Comments

آپ کی رائے