کشمیرمیں خاندان کار کوٹ بنسی کی حکومت ۔۔۔۔۔ ایک نظر میں(آخری حصہ )

(Amir Jahangir, )

راجہ کو لیا پیڈ نے دنیا کی نمودونمائش کو چھوڑ کر فقیری کا لباس زیب تن کرتے ہوئے عروس سلطنت کو خیر آباد کہاتو753ء میں اس کا بھائی وزرادت(بجرادت)گدی نشین ہوا۔راجہ وزرادت بڑا ظالم اور شہوت پرست حکمران تھا۔کہا جاتا ہے کہ 360رانیاں ہر وقت اس کے محل میں رہتی تھیں۔قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔نیکیوں کے بجائے تمام بری رسومات نے اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔یہ ظالم راجہ تپ دق کے مرض کے باعث 7سال کی حکومت کے بعد 760ء کو جہان فانی سے چل بسا۔

راجہ وذیا دت کی وفات کے بعد اس کا بیٹا پرتھوپیڈ نے اعنان حکومت سنبھالا۔ظلم و ستم اور عیش و عشرت میں باپ سے چار ہاتھ آگے تھا۔ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ راجہ پرتھوپیڈ کے 4سالہ ظالم حکومت کا خاتمہ764ء میں اپنے بھائی سنگرام پیڈ کے ہاتھوں معزولی کی صورت میں ہوا۔

راجہ پرتھواپیڈ کی معزولی کے بعد اس کا بھائی سنگرام حکمران بنا۔فتنہ و فساد کی وجہ سے کشمیر میں خانہ جنگی کا عالم تھااور حکمران عیش وعشرت میں مبتلا رہتے تھے۔راجہ سنگرام پیڈ کو محض سات دنوں کی حکومت نصیب ہوئی اور جیا پیڈ کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔

راجہ سنگرام پیڈ کے قتل کے بعد جیا پیڈ 764ء میں ہی سلطنت کشمیر کا وارث بنا۔ راجہ جیا پیڈ نے حکومت سنبھالتے ہی اپنے داداللتا دت(مکتا پیڈ)کی پیشن گوئی کو درست ثابت کرتے ہوئے عدل و انصاف سے حکومت کرنے لگا۔ظلم و ستم کا دور ختم کرتے ہوئے انتظام مملکت کو اچھے خطوط پر استوار کیا۔کشمیر کے اطراف کے راجاؤں کو اپنا مطیع و فرما بردار بناتے ہوئے تسخیر ممالک کے لیے نکل پڑا۔سب سے پہلے ہندوستان کی طرف رخ کیااور کشمیر میں انتظام ملک کے لیے زر نامی اپنے سالے کو مقرر کیا۔جیا پیڈ کی روانگی کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد اس کے سالے زر نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے کشمیر میں خود مختار حکومت کا اعلان کیا۔جیا پیڈ نے پنجاب، ترکستان اور قنوج کو فتح کرتا ہوا گوردیس جا پہنچا۔گوردیس میں راجہ جے انت والئی گوردیس کی بیٹی کلیان دیوی اور مندرکو مار جی کے پجاریوں میں سے کملا دیوی سے شادی کی اور وہاں ہی رہنے لگا۔گوردیس میں اپنے خسر کے مخالفوں کی سرکوبی کے بعد پانچ علاقوں پر قبضہ جماتے ہو ئے راجہ جے انت کی حکومت میں شامل کیے۔

عرصہ تین سال کے بعد اپنے وزیر کی درخواست پر راجہ جے اندر سے اجازت لیتے ہوئے کلیان دیوی اور کملا دیوی کے ہمراہ واپس کشمیر کی طرف رخ کیا۔جب جیا پیڈ کے سالے زر کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے فوج آراستہ کرتے ہوئے مقابلے کی ٹھان لی مگر بری طرح ناکام ہوا۔جیا پیڈ کامیابی اور کامرانی سے ملک میں داخل ہوا اور دینا دت ثانی کا لقب اختیار کیا۔ملکی ترقی اور علم دوستی کی طرف توجہ دی ۔ہر طرف علم و ادب کا چرچہ ہونے لگا اورجگہ جگہ درس گائیں اور تعلیم گائیں تعمیر کروا کر علم و ہنر عام کیا۔دارالصدر کی جگہ اندر کوٹ شہر تعمیر کروایاجے پور شہر تعمیر کروایا، شہر سلیمان پور کی بنیاد رکھی۔ رانی کلیان دیوی نے کلیان پورا اور رانی کملا دیوی نے کملا پورا شہر تعمیر کروائے ۔جیا پیڈ نے دینا دت کے نام سے ایک شہر آباد کرتے ہوئے اپنی حسین یادگار چھوڑی۔

راجہ جیا پیڈ کچھ عرصہ بعد سیاحت کے شوق سے مشرق کی طرف نکل پڑا۔تمام ملک سیر و سیاحت کے بعد دریائے شور کی طرف سے بنگالہ سے ہوتا ہوا نیپال پر حملہ آور ہوا۔ والئی نیپال راجہ ارنڈی نے اطاعت قبول کی لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد معمولی سی بات پر راجہ جیا پیڈ پر سخت غصہ آیا اور ارنڈی ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ راجہ جیا پیڈ نے پیچھا کیا اور راستے میں اس کی فوج ایک دلدل میں پھنس گئی۔جب ارنڈی کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے راجہ جیا پیڈ کو قید کرکے قلعہ کنڈ میں محبوس کر دیا۔یہ قلعہ چاروں طرف سے پانی میں تھا اس لیے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔راجہ جیا پیڈ اپنے وزیر دیو شر کی مددسے اس قلعہ سے دریا میں چھلانگ لگا کر دریا عبور کرتے ہوئے کشمیر میں داخل ہوا۔فوج تیار کرتے ہوئے نیپال پر حملہ آور ہوااور ارنڈی کو قید کرتے ہوئے اپنی حکومت کا اعلان کیا۔واپس کشمیر پہنچ کر عدل و انصاف سے حکومت کرنے لگا۔کامراج میں تانبے کی ایک کان ملی اور اپنے سے کشمیر میں سکہ جاری کیا۔ ایک برہمن زادہ نے اس کی رانی سے دھوکہ کیا تو رانی نے خود کشی کر ڈالی جس کے باعث راجہ جیا پیڈ پرہمنوں کے سخت خلاف ہو گیا۔راجہ جیا پہڈ حکومت کے آخری ایام میں ظالم اور خون خوار حکمران راجہ بن گیا۔آخر کار 33سال کی حکومت کے بعد تمام عمر نیکی کرنے کے باوجود آخر میں ظلم و ستم کا داغ لے کر 797ء کو اس کائنات سے چل بسا۔

راجہ جیا پیڈ کی وفات کے بعد اس کا بیٹا للتا پیڈ کشمیر کا حکمران بنا۔عیاشی اور شہوت پرستی میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔مے فروش کی لڑکی جیا دیوی کے عشق میں اس حد تک غرق ہوا کی سب کچھ بھول گیا۔آخر کا اپنی یاد گار چھوڑنے کا خیال آیا تو اس نے موضع سونہ پارہ، بھلہ پورہ، اور دیو ننس آباد کرتے ہوئے برہمنوں کو جاگیر بخشی۔11برس اور 9 ماہ کی حکومت کے بعد809ء کو خالق حقیقی سے جا ملا۔

للتا پیڈ کی وفات کے بعد اس کا چھوٹا بھائی سنگراما پیڈ (پرتھوا پیڈ)عروس مملکت پر بیٹھا۔راجہ سنگراما پیڈ سے عمر نے وفا نہ کی اور کوئی بھی قابل ذکر اقدام کیے بغیر 7سال حکومت کرنے کے بعد 816ء کو طبعی موت مر گیا۔

راجہ سنگراما پیڈ کی وفات کے بعد راجہ للتا پیڈ کا بیٹا چپت جیا پیڈ(بر ہسپت)نے 816ء میں کشمیر کی حکمرانی سنبھالی۔چپت جیا پیڈ کم سن تھا اور تمام امور مملکت اس مملکت اس کے پانچ ماموں پدم، آدت پل،کلیان، مم، اور ردم چلانے لگے۔راجہ چپت پیڈ کی حکومت کے دوران جیا دیوی نے مندر جے ایشور کی بنیاد رکھی۔جب راجہ تھوڑا ہوشیار ہوا تو ان پانچوں نے راجہ کے چھوٹے بھائی اجتا پیڈ سے مل کر سازش کرتے ہوئے 12سال بعد 828ء میں حکومت سے معزال کر دیا۔

راجہ چپت پیڈ کی معزولی کے بعدادت پل نے اجتا پیڈ کے سر پر تاج حکومت رکھ دیا۔راجہ اجتا پیڈ برائے نام حکمران تھا۔ محاصل ملک کے پانچ حصے مقرر کیے تھے۔ایک حصہ راجہ کو بطور وظیفہ دیتے ار باقی سب خود ہضم کر لیتے تھے۔راجہ اجتا پیڈ کے دور میں آدت پل نے آدت پل پور،پدم نے پدم پور، دم نے دم سوامی اور کلیان نے کلیان سوامی کے ناموں سے اپنی اپنی حسین یادگاریں چھوڑ دیں۔بعد میں ان بھائیوں کے درمیان اختلافات ہوئے اور37سالوں کے بعد 865ء میں اجتا پیڈکی معزولی کے ساتھ ہی اس کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

راجہ اجتا پیڈکی معزولی کے بعد راجہ سنگراما پیڈ کے بیٹے اننگا پیڈ نے مسند حکومت سنبھالا۔راجہ اننگا پیڈ بھی مضبوط حکمران ثابت نہ ہوا۔ 5سال کی حکومت کے بعد 870ء میں راجہ اننگا پہڈ کو بھی حکومت سے معزول کر دیا گیا۔

راجہ اننگا پیڑ کی معزولی کے ساتھ ہی اعنان حکومت راجہ اجتا پیڈ کے لڑکے ادت پلا پیڈ کے سپرد کر دی گئی۔راجہ ادت پلا پیڈ کے وزیر رتن نے مندر رتنہ سوامی کی بنیاد رکھی۔ مندر رتنہ سوامی خاندان کارکوٹ بنسی کی آخری یاد گار ثابت ہوئی۔راجہ ادت پلا پیڈاندرونی خلفشار، فتنہ فساد اور عین لڑائی کی وجہ سے 2سال 872ء کو اونتی ورما کے ہاتھوں مارا گیا۔ راجہ ادت پلا پیڈکی موت سے کشمیر سے خاندان کارکوٹ بنسی کی حکومت کا خاتمہ مجموعی طور پر259سالوں کے بعد ہوا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15074 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2018 Views: 391

Comments

آپ کی رائے