’’میں ملالہ ہوں سے ملال اور سوال‘‘ (پہلی قسط)

(Naseem Ul Haq Zahidi, Lahore)

پچھلے دنوں پاکستان کا بے حس میڈیا ’’ملالہ‘‘کی پاکستان آمد پر اتنا پرجوش دیکھائی دے رہاتھا کہ جیسے ملالہ کسی ملک کو فتح کرکے پاکستان آئی ہو ۔ہر ٹی وی چینل پر بس ملالہ ہی تھی ۔غیر مسلم اوم پوری مر جائے یا راجیش کھنہ،سری دیوی مر جائے یا سلمان خان کو سزا ہوجائے پاکستان کا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کی یہ اولین ترجیح ہوتی ہے کہ پہلے تو وہ اس مرنے والے غیر مسلم کو مسلمان ثابت کیا جائے ،پھراس کے وہ کارنامے جو کبھی اس نے سر انجام دیئے بھی نہ ہوں منظر عام پر لائے جائیں۔ وقفے وقفے سے بریکنگ نیوز چلائی جاتی ہے ۔اس اسلامی ریاست میں اگر کالجز یونیورسٹیز میں خواتین کے حجاب لینے کی بات ہوتو فوراًچند دین بیزار لبرلز،سیکولز،ملحد خواتین وحضرات ٹی وی چینلزپر بیٹھ کر اسے دقیانوسی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔مسلمان داڑھی رکھے تو دہشت گرد غیر مذہب کے لوگ رکھیں تو وہ اپنے مذہب پر کاربند مسلمان ظالم اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ،اپنا دفاع کریں تو Terroristsیہود ونصاریٰ،ہندؤاور بدھ مت مسلمانوں کو زندہ جلا دیں تو Peace of Soldierفاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ فرماتے ہیں کہ دشمن سے پہلے غدارکو قتل کرنا لازمی ہوتا ہے ۔

ہمارے ملک کا حنوط شدہ الیکٹرانک میڈیا مارننگ اور ایوننگ شوز میں ناچ گانے اور خواتین کے ایام مخصوص اور جنسی تعلیم کے حوالے سے سرعام فحش گفتگو ہوسکتی ہے نہیں بات ہوسکتی تو مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بات نہیں ہوسکتی برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم جس کو سوچ کر انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے ،سیکولزم کا ڈھنڈوراپیٹنے والا بھارت کے اندر گائے کے ذبح کرنے پر مسلمانوں کو ذبح کیا جارہا ہے،مسلمانوں سے زبردستی اپنی مذہبی نعرے لگوائے جاتے ہیں ۔کشمیر،فلسطین ،شام کے اندر مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے مگر ذاتی مفادات کی وجہ سے ہمارا میڈیا اور حکمران ان حقائق کو نہیں دیکھاتے ۔یہ کارل مارکس،لینن،ماؤزے،مینڈلا اور باقی سب فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒکے پاؤں کی دھول بھی نہیں ہیں یہ قاتل اور ظالم تھے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ لوگوں نے قتل وغارت گری کرکے لیڈر بنے مگر سلاطین اسلام اپنے کردار اور گفتار کی بدولت لوگوں میں مقبول و محبوب ہوئے ۔آدھی دنیا کا فاتح ہونے کے باوجود شدید خواہش کے باوجود سلطان صلاح الدین پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ساری زندگی حج نہ کرسکے ۔دنیا کی تاریخ کے سب سے کم عمرمسلم سالار محمد بن قاسم ؒ نے راجہ داہر کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا اور عرب سے اسلام کو لانے والے ،آج چند نام نہاد دانشور انکی ذات پر دشنام طرازیاں کرتے ہیں اور گاندھی کو بڑا لیڈر مانتے ہیں ۔مسلمانوں کی تاریخ غداروں سے بھری پڑی ہے برکیف !ملالہ اپنی کتاب (I AM MALALA)میں لکھتی ہے ۔میرا تعلق ضلع سوات کے قصبے مینگورہ سے ہے ۔جب گیارہویں صدی عیسوی میں افغانستان کاسلطان محمود غزنوی یہاں حملہ آور ہوا تو وہ اپنے ساتھ وادی سوات میں اسلام بھی لے آیا اور ہمارا حکمران بن بیٹھا ۔اس سے قبل وادی سوات میں بودھ حکمرانوں کی مملکت ہوا کرتی تھی ۔بودھ یہاں دوسری صدی عیسوی میں آئے اور انہوں نے سوات پر 500برس تک حکمرانی کی ۔چینی مورخین نے سوات کے حوالے سے جو کہانیاں لکھیں ہیں۔ان میں بیان کیا ہے کہ کس طرح دریائے سوات کے کنارے بودھ پیروکاروں کی 14ہزار خانقاہیں تھیں اور ان خانقاہوں کی گھنٹیوں کی سحر انگیز آواز پوری وادی میں گونجا کرتی تھی ۔یہ خانقاہیں اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں لیکن ان کے آثار اب بھی جابجا پائے جاتے ہیں میرے والد بھی گوتم بدھ سے بہت متاثر ہیں ۔انہوں نے ’’بت کڑاکی باقیات‘‘کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی ۔اس نظم میں بتایا گیا ہے کہ مندر اور مسجد ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں ۔اس نظم کا ایک بند ہے ۔’’جب میناروں سے حق کی صدا بلند ہوتی ہے بدھا مسکرانے لگتا ہے اور ماضی کی کڑیاں آپس میں جڑنے لگتی ہیں ‘‘برما کے اند رگوتم بدھ کے پیروکاروں نے مسلمانوں کو جس طرح اذیتیں دیدے کر مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے اس کی تاریخ میں دوسری کوئی اور مثال ملنا مشکل ہے ۔آنگ سانگ سوچی کو بھی امن نوبل انعام اسی لیے دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی دشمن ہے ۔امن نوبل انعام صرف مسلمانوں کے دشمن یا غداروں کے لیے مخصوص ہے ملالہ کا والد جوگوتم بدھ سے بہت متاثر ہے گوتم بدھ کی تعلیمات میں سے ’’روحانی نجات نہ تو خدا کی توفیق سے ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی بخشش وکرم کا نتیجہ ہے بلکہ یہ انسان کی اپنی ذاتی جدوجہد ،آزادی قوت اور اخلاقی کشمکش کا ثمر ہے ‘‘بدھ مذہب کی تعلیمات کا یہاں سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس مذہب میں خدا کا ہی کوئی واضح تصور ہی موجود نہیں اس کی بنیاد کیا ہوسکتی ہے؟آگے لکھتی ہے کہ ہمارے ملک کی تاریخ بہت پرانی نہیں ۔لیکن بدقسمتی سے فوجی آمر یت کے ادوااس کی تاریخ کا بڑا حصہ ہیں ۔جب میرے والد 8برس کے تھے تو ضیاء الحق نامی ایک جنرل نے ملک کی بھاگ ڈور سنبھال لی ۔اس کی بہت سی تصاویر موجود ہیں ۔وہ ایک ڈرؤانا شخص تھا ۔جس کی آنکھوں کے گرد پانڈہ کی طرح سیاہ رنگ کے حلقے تھے اور اس کے دانت ہوشیار باش کی حالت میں کھڑے نظر آتے تھے ۔جنرل ضیا ء نے ہمارے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر کے ان پر غداری کا مقدمہ چلایا اور بالآخر راولپنڈی جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا ۔ان کی پھانسی نے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کردیا ۔امریکیوں نے امداد بند کردی ۔بعد ازاں جنرل ضیاء نے اسلاما ئزیشن کی تحریک شروع کی تاکہ پاکستان کو باقاعدہ مسلم ملک بنایا جائے ۔جس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ فوج ہو۔ضیاء اس پر بھی حکم لگاتے تھے کہ ہمیں نماز پڑھنی چاہیے اور انہوں نے ہر ضلع ،دوردرازکے دیہات میں نماز کمیٹیاں قائم کیں اور ایک لاکھ نماز انسپکٹر بھرتی کیے ۔اس سے قبل ’’ملّا‘‘محض نشان تمسخر ہی ہوا کرتا تھا جو میرے والد کے مطابق شادیوں میں کسی کونے کھدرے میں بیٹھا ہوتا اور جلد واپس ہوجایا کرتا ۔لیکن جنرل ضیاء کے دور میں اس ملّا نے اتنا اثر ونفوذ حاصل کر لیا کہ اسے اسلام آباد میں خطبات و رہنمائی کے لیے طلب کیا جانے لگا ۔ضیاء کے دور میں پاکستان میں عورتوں کی زندگیوں پر مزید پابندیاں لگ گئیں ۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒکہتے ہیں ’’دنیا میں دو ہی طاقتیں ہیں ایک قلم اور دوسری تلوار جبکہ تیسری طاقت عورت کی ہے ۔جوان دونوں سے زیادہ طاقتور ہے‘‘۔مگر اس کے برعکس جنرل ضیا ء نے اسلامی قوانین متعارف کرائے جس میں عورت کی گواہی کم کرکے آدھی کردی گئی ۔ہمارا ملک ہاکی کے کھیل میں ہمیشہ نمایاں رہا ہے ۔مگر ضیاء الحق نے خواتین کھلاڑیوں کو مختصر لباس کے بجائے ڈھیلی ڈھالی شلوار پہنادیں اور چند کھیلوں پر تو خواتین کے لئے پابندی لگا دی ۔ہمارے بیشتر مذہبی مدارس اسی وقت معرض وجود میں آئے ۔دینیات کا اسلامیات میں بدل دیا گیا جو پاکستان میں آج بھی رائج ہے۔ہماری تاریخ کی کتابوں کو از سرنوتحریر کرایا گیا جس میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ بتایا گیا ۔گویا ہم 1947ء سے پہلے بھی اپنا وجود رکھتے تھے ۔ہندوؤں اور یہودیوں پر لعن طعن کی گئی ۔جو ان کتابوں کو پڑھے گا اسے یہی لگے گا یا وہ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہو گا کہ ہم نے لڑی جانے والی تینوں جنگیں جیت لیں اور اپنے دشمن ہندؤستان کو شکست فاش دی ۔جنرل ضیاء الحق شہید ؒ کے متعلق جوغلط الفاظ ملالہ نے استعمال کیے ہیں اس مرد مومن مرد حق کی مذہبی و قومی خدمات کو سراہنے کی بجائے انکوجابر متشدد حکمران ثابت کیا ہے جو صریحاً یہود ونصاریٰ اور ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے جنرل ضیاء الحق شہید ؒکے خدمات اگلی قسط میں پیش کی جائیں گی جو کہ انکے پرنسل اٹیچی غازی جہاد افغانستان فاروق حارث العباسی کے زبانی ہوں گئیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Naseem Ul Haq Zahidi

Read More Articles by Naseem Ul Haq Zahidi: 95 Articles with 40115 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2018 Views: 619

Comments

آپ کی رائے