وقت کیا ہے؟

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے

جیسے سارے دریا آ کر سمندر سے مل جاتے ہیں ایسے ہی بہت سی راہیں آپ کو راہِ خدا سے ملا دیتی ہیں
کبھی کوی واقعہ کوی راستہ کوی انسان کوی شرمندگی آپ کو خالقِ کائنات اور مالکِ کُل سے قریب کر دیتی ہے اور ہر فیصلہ کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے
بہت سی اندھیر نگریوں میں ایسے خُدا کے بندے آتے رہے جو ان میں رہے اور اُن کے رہن سہن کے مطابق اُن کے دُکھ درد میں شریک ہوتے ہوے اپنے طرز عمل سے خُدا کے بندوں کو خدا سے ملانے کا کام کرتے رہے اور انہوں نے اپنا سارا وقت خُدا کی راہ میں خدا کے بندوں کو دے دیا اور وقت کا بادشاہ بھی اُن کے پاس ادب سے حاضری دیتا تھا

ایسے بہت سے سلسلے چلتے رہے اور ان ہی میں ایک سلسلے میں ایک اصطلاح استعمال ہوی "فنا فی الشیخ " جو میں نے سُنی تو مجھے بڑی عجیب اور غیر مناسب لگی مگر کچھ کتابوں سے اندازہ ہوا کہ بات ویسے نہیں جیسی بادی نظر میں دکھتی ہے بات یہ تھی کہ جیسے بچہ کے لیے والدین اور استاد اور جیسے کوی ہماری پسندیدہ شخصیت اور اُس کی طرح کا بنے کی کوشش کرنا اس کی محبت میں

یہ باتیں ہم دنیا داروں کی سمجھ میں کہاں آنی ہے ہم تو بحث براے بحث والے ہیں کہ بس سامنے والے کو چت کرنا ہے اور کل سے پھر وہی کرنا ہے جو کرتے آے ہیں

سرِ کوے ناشناساں ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اُس سے بات کرنا

اور ٹی وی پر بھی سارا وقت بحث جس سے کوی نتیجہ نہ نکلے اور کہیں وقت ہاتھ سے نہ نکل جاے

فنا کی بات ہو رہی تھی تو ہم شیخ کے بجاے کچھ اور چیزوں میں فنا کر رہے ہیں وقت کو اور شیخ سے یاد آیا ہمارے ایک عزیز اردو پڑھاتے تھے ۔ میں اور میرا کزن ان سے پڑھنے جاتے تو علم اور کھانا مفت ملتا تھا میں بہت شوق سے پڑھنے والوں میں تھا اور کزن کا شوق عملی زیادہ تھا وہ بڑے دیہان سےپلمبر اور الیکٹریشن کے کام کو بغور دیکھتے اور خود بھی کرنے کا تجربہ کرتے بس کبھی کبھی گھر سے دھماکے کی آواز آتی تھی اور پھر کسی بڑے سے ڈانٹ پڑنے کی آواز اس سے بھی زیادہ زور سے آتی تھی اور یہ ڈانٹ اپنے بچپن میں آینسٹاین بھی کھاتا ہو گا اور ہمارے کزن بھی ایڈیسن کی طرح ہمت نہیں ہارتے اور بلب کو نئے سرے سے ایجاد کرنے کی کوشش میں اسے ناراض کر دیتے اور وہ روٹھ جاتا اور فیوز ہو جاتا لیکن ان کے ساتھ رہتے ہوے ہم نے بھی کچھ سیکھ ہی لیا اور کچھ شوق ہمیں بھی تھا تو جس وقت ہمارے عزیز استاد ایک شعر کی تشریح سمجھا رہے تھے وہ کزن ان کے گھر کے تاروں پر نظر رکھے ہوےتھے اور میرے دل کے تار چھڑے ہوے تھے اور شعر کچھ یوں تھا

ڈھونڈتا ہے آپ کو خود سے پرے
شیخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے

یعنی شیخ جی جسے دنیا بھر میں ڈھونڈ رہے ہیں وہ تو دل میں بیٹھا ہے شہ رگ کے پاس
اب ہمارے کزن جن کا دیہان کہیں اور تھا اُس کی یہ تشریح بتای کہ
شیخ صاحب گھر سے ناراض ہو کر چلے گئے ہیں

اور ہمارے استاد عزیز خدا جنت نصیب کرے غیرتِ اردو سے سخت غصہ میں آتے ہوے کہنے لگے
ارے !!!
کون شیخ صاحب !!! ؟؟؟

اور شیخ کو شاعروں نے خوب استعمال کیا
جیسے

واعظ و شیخ بھی خوب ہیں کیا بتلاوں

میں نے میخانے سے کس کس کو نکلتے دیکھا

یاد آیا اپنے قرب و جوار میں بھی کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ فنا فی شیخ کا درجہ پا چکے تھے اب یہ اور بات ہے کہ شیخ وہ اپنی بیگم کو مان چکے تھے اور تمام معاملات کو بیگم کی آنکھ سے دیکھتے تھے اور بیگم نے بھی انہیں اپنا محبوب جِن بنایا ہوا تھا یہاں چراغ رگڑا وہاں حاضر

کیا حکم ہے میری آقی

انور مقصود نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ شادی کے بعد بس آپ یوں سمجھیں کہ آپ فوت ہو چکے ہیں تو زندگی اچھی گزرے گی

اور ہم نہ شیخ کو مانتے تھے نہ فنا کو اور ہماری بیگم ہمارے اطوار کو دیکھ کر ہمیں خُدا کے حوالے کر ہی چکی تھیں اور کچھ یوں ہوا کہ

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

اور میں اپنے میں ڈوب گیا اور ڈوبتا ہی چلا گیا
اور سجاد بھای کا گایا

میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

ابھی ڈوب ہی رہا تھا کہ جھیل سے گہری آنکھیں سامنے آ گئیں اور میں تیرنے لگا اور پھر وقت کی کشتی مجھے کہاں لے گئ پتہ ہی نہ چلا اور وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے

اور کچھ لوگ اپنے مقصد میں یا اپنے شوق یا کام میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ شائد وہ وقت کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں اور کچھ کسی کی محبت میں یہ کہ بیٹھتے ہیں

وقت کی قید میں
زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں
جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر کہیں جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو

آج جانے کی ضد نہ کرو

وقت کیا ہے کہ انتظار میں گزر کے نہ دے اور دوسری طرف برسوں بیت جایں اور پتہ نہ چلے

تڑپتے مجھے رات بھر ہو گئ
چلے آو اب تو سحر ہو گئ

کوی وقت کو استاد کہتا ہے کہ وقت آپ کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے اور کوی اسے مرہم کہتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ آپ بہت سے غم بھول جاتے ہیں اور کوی کہتا ہے Time is money
اور ایک کتاب میں پڑھا کہ سب سے قیمتی تحفہ جو آپ کسی کو دیتے ہیں تو وہ آپ کا وقت ہے جو آپ کسی کو دیتے ہیں اور کبھی آپ کہتے ہیں کہ وقت نہیں ہے آپ کے پاس
بہت پہلے ایک لیکچر سُنا تھا Time management
پر اور اس میں بتایا گیا کہ صحیح معنوں میں غور کریں تو دکان دفتر کارخانے میں ہم سمجھ یہ رہے ہوتے ہیں کہ آٹھ گھنٹے کام کیا مگر تعمیری Productive کام شائد ایک گھنٹہ ہی نکلے باقی ایسے ہی گزر رہا ہوتا ہے جو بچا کر اور یہ سیکھ کر اپنے شوق یا خدمت خلق میں لگایا جا سکتا ہے

ایک بزرگ کو سُنا کہ لوگ اچھے وقت کے انتظار میں رہتے ہیں یا اس غم میں کہ اچھا وقت چلا گیا حالاںکہ یہی اچھا وقت ہے جو اس وقت آپ کے پاس ہے اور اس کو کھو دیتے ہیں یعنی موجود لمحہ میں جینا اور اس کو اچھی طرح جینا اور جو یہ راز جان جاتے ہیں وہ خوش رہتے ہیں اور ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اور موت کا بھی ایک وقت مقرر ہے اور گیا وقت واپس نہیں آتا

اور اِس دنیا کا وقت کچھ اور اُس دنیا کا کچھ اور جیسا کہ بتایا گیا ہے

پھر اللّلہ فرماے گا تم زمین میں گنتی کے کتنے سال رہے وہ کہیں گے کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہونگے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91108 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2018 Views: 423

Comments

آپ کی رائے