ایک مثالی و مربی استاذ کامیاب منتظم

(Sayed Riyaz, )
تاریخ کے اوراق میں تو زندہ رہے گا

مو لا نا مفتی سید محمد ریا ض ندوی کھجنا وری
استاذ تفسیر و ادب دار العلوم صدیقیہ نلہیڑہ روڑکی
استاذ الاساتذہ فقیہ زماں حضرت مو لا نا مفتی محمد ظہورؒ صاحب ندوی کا شما ردار العلوم ندوۃ العلما ء کی ان اعلی شخصیا ت میں تھا جن کے کا ندھوں پراس ادراہ کی اہم ذمہ داریوں کا با ر گراں تھا ،یوں تو ان کی شنا خت اور پہچا ن مفتی ندوہ کی رہی ،لیکن سا تھ میں بہت سی ذمہ داریا ں بھی نبھا تے رہے،ان کی خدما ت کا دائرہ وسیع ،متنوع ،ہمہ جہت اس اعتبار سے ہے کہ انہوں نے دلوں پر حکو مت کی اور ہر میدا ن میں تا بندہ نقوش چھوڑگئے ،ان کی علمی و عملی شخصیت کے نقوش قابل رشک تھے ،نا ئب مہتمم ، نا ئب نا ظم ،اور نگرا ن اعلی نہ جا نے کن کن عہدوں پر وہ فائز رہے اور وہ بحسن و خو بی انہوں نے انجا م دئیے اور ان کے بر تا ؤ رہن سہن میں کچھ فرق نظر نہیں آیا ایک عجیب سی شا ن استغنا ء ،بے نیا زی ان کا طرہ امتیا ز تھا،ایک قلندرانہ شا ن و صفات کے حا مل تھے ،عام سی صدری اور کبھی شیروانی زیب تن کئے ہو ئے ندوہ کی پر شکوہ عما رت کے درجات میں فقہ کے دقیق مسا ئل طلبا ء کو سمجھاتے ہوئے ،اعلی ترین ذمہ داروں کے سا تھ سر جو ڑ کر بیٹھے کسی اہم انتظا می معا ملے کو طے کرتے ہوئے ،دار الا فتا ء میں پر وقار و سنجیدہ اندا ز میں متمکن سنجیدہ مسا ئل پر پو چھے گئے فتووں کا جواب دیتے ہو ئے، کبھ دربان کی کرسی پر بیٹھے ان سے خیر خیر یت معلوم کر تے ہو ئے ،میں نے ندوہ میں تعلیم کے دوران پانچ سالہ زندگی میں آپ کے بہت سے انداز دیکھے۔

گر چہ ان کی شہرت و نا موری کا دائرہ خواص طبقہ میں زیا دہ تھا لیکن وہ جس مقا م اور جس حیثیت پر بھی رہے ممتاز رہے ،سینکڑوں تشنگا ن علم و معرفت نے ان کے دامن فیض سے وابستہ ہو کر علمی ،ادبی واسلا می معا شرے میں اپنی شنا خت بنا ئی ،وہ ایک خلوت پسند اور گو شہ نشیں شخصیت کے ما لک تھے ،شہرت و ناموری سے انہیں کو ئی دلچسپی تھی ہی نہیں ،اخفاء حال ان کا مزاج تھا ،استغنا ء وبے نیازی کا رویہ ان کے اندر ایسا تھا جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے ،جن حضرات نے آپ کو قریب سے دیکھا ہے یا جلوت و خلوت میں ان سے کچھ شنا سا ئی رہی ہے وہ یقینی طور پر بتلا سکتے ہیں کہ ان کی سیرت اور شخصیت میں متنوع اور گو نا گوں صفات جمع تھیں وہ تنہا ایک انجمن تھے کسی شا عر کا یہ شعر ان کی زندگی پر پورے طور پر صادق آتا ہے ۔

فقیر عشق سے ملیو ضروردلی میں وہ ایک شخص نہیں مستقل ادارہ ہے
گرچہ دار العلوم ندوۃ العلما ء میں دار القضا ء والافتاء کے علا وہ آپ کا تعلق زیادہ تر فقہ اصول فقہ کی کتب سے رہا ،اور خوشہ علوم نبوی کو آپ اپنے علم و عر فا ں سے سیراب کرتے رہے ،لیکن اس کے علا وہ آپ کے اندر انتظا می امور کی بھی بھر پور صلا حیت تھی،جس کا اظہارآپ کے عہدہ و مناصب کے افتخار سے ہو تا ہے ۔
اولیا ء اﷲ و بزرگا ن دین کی خاص صفت استغنا ء وبے نیا زی نے ان کو خواص و عام میں مقبول بنا کر بلند مقا م عطا فر ما یا تھا،اور ان کو اس اعلی مر تبہ پر فا ئز کیا تھا جس کو دیکھ کر ہر انسا ن رشک کر تا ہے ان کو دیکھ نبی کریم ﷺ کا فرما ن فورا ذہن میں آتا تھا ،من تواضع ﷲ رفعہ اﷲ عز و جل،جوشخص اﷲ کے لئے تواضع اختیا ر کرتا ہے اﷲ تعا لی اس کو بلند درجات عطا فر ما تا ہے ،لوگوں کی نظروں میں اس کی مقبو لیت کا دائرہ کا ر بڑھ جا تا ہے ،آپ کی زند گی کا ایک نما یاں وصف فنا ئیت تھا اور یہ پہلو بہت ابھرا ہوا تھا ،جبکہ اس طرح کے اوصاف بہت کم لو گوں میں پیدا ہو تے ہیں۔

مفتی صاحبؒ ایک نہا یت ذہین ،بے دار مغز ِحاضر دما غ اور ذکی الحس عالم دین تھے ،حقائق بیا نی میں بے با ک اور صاف گو ئی میں ممتاز تھے ،خوش اخلا قی و خوش کلا می دونوں صفتیں بدرجہ اتم مو جو د تھی انہیں صفات کی وجہ سے وہ علما ء و مشا ئخ میں بھی مقبول و ہر دلعزیز ہو ئے،ارباب حل و عقد ان کے نیا ز مندوں میں تھے ،وہ اپنے عہد کے ایک بلند قا مت عالم دین اور مفتئی زما ں تھے،اپنے طرز کی ایک منفرد اورعدیم المثال شخصیت تھے ،تحریک ندوۃ العلماء کے اولوا العزم اور با وفا سپا ہی تھے ،ان کی شخصیت علم و عمل کا حسین سنگم تھی ،ان کے اخلا ق و کردار ،تعلقا ت و معا ملا ت ،رہن سہن اور عبادات و معا ملا ت کو دیکھ کر تاریخ کے صلحاء واتقیاء کی یا د تازہ ہو جا تی تھی ،ان کے تقوے اور خدا ترسی کی مثال کم یا ب ہے ،وہ اپنی اسی خوبی کی وجہ سے منظور نظر بنے ، وہ اپنے شا گردوں اور اپنے سے کم عمر وکم علم والے لو گوں پر کبھی اپنے علمی تبحر کا رعب جما نے کی کو شش نہیں کرتے تھے ،ضیافت و اکرام بھی ان کی شنا خت تھی ،چھوٹوں پر شفقت ان کی عزت حوصلہ افزائی ان کا وطیرہ تھا ،میدان فقہ میں آپ کو ید طو لی حاصل تھا ،مفتی صاحب ؒ کے ضعف و نقا ہت اور علا لت کے با عث قوی بھی کمزور پڑگئے تھے مگر ان کے سینے میں اخلا ص و ﷲیت ثبا ت و استقا مت وعزیمت اور روحانی عملی طا قت کا ہما لیہ بنا ہوا تھا کسی بھی لو مۃ لا ئم کی پرواہ کئے بغیر ثبا ت قدمی ،اولوا العزمی ،مستقل مز اجی اور عالی ہمت کے سا تھ اپنی منز ل کی جا نب تیز گا می کے سا تھ ہمہ وقت رواں دواں رہے ،جو درحقیقت یقیں محکم ،عمل پیہم ،محبت فاتح عا لم کا مجسم پیکر تھے ،اپنی سا دگی ،بے لو ثی ،خدا ترسی تواضع اور اخلا ص میں واقعی نمو نہ سلف تھے ،تکلفات سے عاری ،کھا نے پہننے میں سادہ مزاجی ،تمام شعبہائے زندگی میں خواہشا ت پر حد درجہ کنٹرول ،دنیوی منصب و چا ہت، شہرت و نا موری،خود ستا ئی و خود نما ئی اور خود سرائی سے مکمل اجتنا ب تھا ،جب وہ علم و عمل اور صبر و اخلا ق کے خزانہ سے لیس ہو کر میدان عمل میں اترے تو فتح و کا مرا نی نے ان کے قدم چو مے، ظفر مندی نے ان کے خیر مقدم کے لئے تیزی سے اپنی آنکھیں فرش راہ کردی ، کہاں اس دور میں کو ئی اتنا بڑا عالم ان کے جیسی بنیا دی سہو لیا ت سے بھی عاری زندگی گذا ر سکتا ہے ذرا تصور کیجئے اس مکا ن کا جو شبلی ہا سٹل سے ملا کٹھل کے زیر سا یہ چھو ٹا سا اور سا دہ سا مکا ن ، مگر اﷲ کا مخلص بندہ قاضی شریعت ،دار العلوم ندوۃالعلماء کے مفتی عام ،استاذ الا سا تذہ والعبا قرۃ نے اسی مکا ن میں زندگی کا ٹ ڈالی ان کے خوان علم و افادہ کے ریزہ چیں کہا ں سے کہا ں پہنچے ،مگر یہ بندہ خدا کبھی بھی مو لو یو ں میں پا ئی جا نے والی ما دیت اور اس کے حصول کی کو ششوں کی طرف ذرا بھی ما ئل نہ ہواان کی زندگی اس دور میں علما ء کے لئے قا بل تقلید ہے۔

دور ما ضی کی یا د گا ر تھے وہ دور ندوہ کے شا ہکا ر تھے وہ
طلبا ء آ پ سے بے تحا شا محبت کرتے تھے ،وہ کبھی کسی طا لب علم کو نہ ڈانٹتے ،نہ کھا نا بند کرتے ،نہ اخراج کرتے ،بلکہ ہمیشہ پیا ر سے سمجھا دیا کرتے ،بلکہ طلبا ء مشکل اوقات میں ان کا سہا را لیا کر تے تھے ،درسی کتا بیں تقریبا ان کو حفظ یا د تھی ،خصوصا ہدا یۃ کے حواشی ان کو ازبر یا د تھے ۔

ان کی زندگی ساد گی کا نمو نہ تھی ،اگر وہ دنیا کما نا چا ہتے تو ان کا شما ر ہندو ستا ن کے اغنیا ء علما ء میں ہو تا لیکن بند ہ نے سادگی اور تواضع و مسکنت ہی کو اپنا وطیرہ بنا یا اور قنا عت ہی کو اپنے لئے لا زم قرارد یا،آپ کا مزا ج ملکوتی تھا وہ امتیاز کے زینے پر جس قدر چڑھتے گئے فروتنی وانکسا ری اسی قدر ان کے اندر گھر بنا تی گئی ،ان کے تواضع سے بسا اوقات دوسروں کو دھوکہ ہو تا یہ ان کا اپناشعار تھا کہ وہ چھوٹوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ،ان کی تواضع کو تاہ قدوں کوبلند قامت کردیتی تھی ان کا پیغام یہ تھا

ہم نے ہر ادنی کو اعلی کر دیا خاکسا ری اپنی کا م آئی بہت
مفتی صاحب کے یہاں سوائے خو بیوں کے اورتھا ہی کیا ،اور یہ ان کی محبوبیت وعند اﷲ مقبولیت ہی کا اثر تھا کہ ان کے نما زجنازہ میں ہزاروں فرزندان توحید کا مجمع تھا ، نا ئب نا ظم ومہتمم ندوۃ العلما ء ہو نے کے با وجودوہ کسی بھی طا لب علم یا ملا زم کی سا ئیکل پر سوار ہو کر با زار یا ڈاکٹر کے یہا ں چلے جا یا کرتے تھے اس وقت ان کی پہچا ن ان کے منصب کے اعتبار سے بہت کم ہو پا تی تھی ، انہوں نے نصف صدی سے زائد ندوہ کی بے لوث خد مت کی ۔

حضرت مفتی صاحب ؒ پختہ علمی لیا قت ،فقہی بصیرت ،تدریسی مہا رت ،اور حاضر جوا بی ، قوت فیصلہ اور سادگی ،تصنع سے پا ک اپنے انو کھے طرز زندگی کے لئے مشہور تھے (عمر نوے سال )ستر سال تک ندوہ میں تدریسی اور انتظا می خدمت انجا م دی ،آپ حضرت مو لا نا علی میا ں ؒ اوراستاذ محترم حضرت مو لا نا سید محمد رابع حسنی ندوی ناظم ندوۃ العلما ء کے معتمد علیہ تھے آ پ کے فتا وی کا انداز نرا لا تھا ندوہ میں مطلق مفتی صاحب سے مراد آپؒ ہی ہو تے تھے فقہ و فتاوی کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور دوسرے انتظا می شعبو ں کے بھی آ پ ذمہ دار تھے ،قسام ازل نے آپ کی ذا ت میں گو نا گو خصوصیات ودیعت فر ما ئی تھی ،آپ کا ہر وصف انو کھا ،ہر خوبی نرالی اور ہر صفت بے نظیر تھی ،آپ کی فطرت میں طبا عی دقیقہ رسی ،ذہا نت و ذکا وت اور ظرافت و بذلہ سنجی کوٹ کوٹ کر بھری تھی ،قدرت خداوندی سے دما غ بھی ایسا سلجھا سلجھا یا اور صاف لے کر آئے تھے پیچیدہ مسا ئل اور مشکل گھتیوں کے حل میں آپ کا تیر نظر کبھی خطا نہ کر تا تھا،ہما رے سا منے با رہا ایسا ہوا جو مسئلہ اخبا روں میں زیر بحث ہو تا اور اول صفحہ پر شہ سرخی جس مسئلہ کی ہو تی ،اخبا ری نما ئندے مفتی صاحب ؒ کے پا س تشریف لا تے اور اپنی خصوصی گفتگو کے ذریعہ آپ سے جا ئز کہلوانے کی کو شش کرتے مگر کبھی ایسا نہ ہو ا، کبھی ہم ایسا نہ دیکھا ،نہ سنا ، کہ آپ نے کو ئی مسئلہ ایسا بتلا یا ہو جس کو آج کے اخبا ری نما ئندوں نے اچھالا ہو ،یا جو امت مسلمہ میں اختلا ف و انتشا ر کا سبب بنا ہو ،وہ نا کا م ہو کر لو ٹ جا تے ،جبکہ ظا ہرا ایسا لگتا تھا کہ وہ مفتی صاحب ؒ سے کچھ بھی لکھو الیں ،آپ بڑے سا دہ مزاج و سا دگی پسند ،مر نجاں مرنج طبیعت کے ما لک ،ظاہری شا ن و شو کت اور تکلفات سے بے نیا ز انتہا ئی خلیق و خا کسار ہر شخص سے کھل کر ملنے والے ظرافت پسند ،فقہی جز ئیا ت کے حا فظ اور بحر فقہ کے شنا ور ہر جگہ مسئلہ بتا نے والے ،ہر کس و نا کس کو جواب دینے والے مفتی،اعلی درجہ کے ذہین و نکتہ رس ، حاضر جوابی کی دولت سے سر شار ، علما ء و عوام دو نوں طبقوں میں یکسا ں مقبول و محترم ،قانونی مو شگا فیوں سے واقف ،انتظامی امور کے کو چے سے آشنا اور بہترین مد بر و منتظم تھے، ان کما لا ت و اوصاف کو آپ تر تیب دیں پھر ذہن کے پردہ سیمیں پر شخصیت کی جو تصویر ابھرے اس پر لکھ دیں مفتی ظہور صاحب ؒ ۔شخصیت بہت پیدا ہو تی ہیں،لیکن مفتی صاحب ؒ جیسی شخصیت صدیوں بعد معدن انسا نیت سے نکلا کرتی ہے۔آپ چراغ سحر تھے لیکن امید کی کرن بہر حال با قی تھی،افسوس کہ امید کی کرن بھی جا تی رہی ،سحر کا چراغ بھی گل ہو گیا ،اور اس طرح منوں من مٹی کے نیچے لا کھوں من وزنی علم و فضل کو لے کر ہمیشہ کے لئے مفتی صاحب ؒ تہ خا ک ہو گئے ،ایک گو شہ نشیں مجمع کمال ،ایک بے نوا سلطا ن ہنر ،دنیا کی دولت سے بے نیاز ،اہل دنیا سے مستغنی ، انسا نوں کے رد و قبول اور عالم کی دا دو تحسین سے بے پرواہ ،گو شہ علم کا معتکف ،اور اپنی دنیا کا آپ با دشاہ ہر روز آسا نی سے پیدا نہیں ہوا کر تا مفتی صاحب ؒ چلے گئے ، وہاں جہاں ہر ایک کو اپنے اپنے وقت جا نا ہے مگر وہ اپنے علم و ا خلا ص ،فضل و کمال ،پیا ر و محبت ،لینت و مروت اور سادگی وبے تکلفی کی جنت میں ہمیشہ رہیں گے،

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sayed Riyaz

Read More Articles by Sayed Riyaz: 3 Articles with 1526 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2018 Views: 440

Comments

آپ کی رائے