عبادات کی افادیت اغیار کی نظر میں

(Sohail Aazmi, Dera Ismail Khan)

چائنہ کے ایک سائنسدان نے جب ایک مسلمان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس نے سوال کیا کہ آپ کو یہ ورزش کس نے بتائی ہے ۔مسلمان نے کہا کہ یہ ہماری ورزش نہیں ہے بلکہ ہماری نماز ہے ہم دن میں پانچ مرتبہ اس کا اہتمام کرتے ہیں ۔سائنسدان نے کہا کہ میں نے ریسرچ کی ہے کہ اگر کوئی آدمی دن میں پانچ مرتبہ ایسے ہی ورزش کا اہتمام کرے تو اس کے جسم کے ہر حصے کی ورزش ہوجاتی ہے ۔اس نے مطالبہ کیا کہ میں تمہارے نبی ؐسے ملنا چاہتا ہوں ۔اس طرح ایک جرمن ڈاکٹر نے بھی ہمارے وضو ،نماز کے بارے میں ریسرچ کرنے کے بعد بتایا تھا کہ دونوں عملوں سے انسانی جسم ،نفسیاتی بیماریوں وغیرہ کو آرام پہنچتا ہے جس کے باعث انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے ۔آج کل کی عام بیماریاں جیسے شوگر ،بلڈ پریشر ،دل کے امراض،آنکھوں کی بیماریاں ،پیشاب کی بیماریاں ،جوڑ ،گھٹنے ،بواسیر وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے ۔چہرے پر بڑھاپے کے اثرات ظاہر نہیں ہوتے ۔دوران خون جاری رہتا ہے جس کے باعث دل کے والوزکا بند ہونا جیسی امراض سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔بدقسمتی سے مسلمان جسے اﷲ تعالی نے اپنے نبی ؐ کے توسط سے جو عمل ہمیں دیاہے اس سے دنیاوآخرت دونوں کا فائدہ ہے ۔آج ان اعمالوں کی افادیت سے اپنے آپ کو محروم کررکھا ہے ۔آج ہمیں غیر مسلم نماز ،وضو کی افادیت اپنے تجربات کی روشنی میں بتارہے ہیں ۔انہیں ہماری نماز ،آذان کے عمل کو دیکھ کر ذہنی وقلبی سکون ملتا ہے لیکن آج 90% لوگ نماز کو چھوڑے ہوئے ہیں ایک یہودی عالم نے ہمارے کسی بڑے عالم سے سوال کیا کہ آپ کی مسجد میں نماز میں کتنی صفیں ہوتی ہیں اس نے بتایا کہ مشکل سے ایک یا دو تو وہ عالم مطمئن ہوگیا اور اس نے خوشی کا اظہار کیا ۔مسلمان عالم نے اس سے پوچھا کہ آپ نے یہ سوال کیوں کیا ۔یہودی عالم نے جوابدیا کہ ہماری مذہبی کتابوں میں تحریر ہے کہ جب مسلمان کی فجر کی نماز میں اتنے لوگ ہوں جتنے ان کی جمعہ کی نماز میں ہوتے ہیں تو کفر کی ترقی رک جائے گی اور مسلمانوں کی تنزلی اور جب 51% مسلمانوں نے نماز پڑھنی شروع کردی تو کفر کی گراوٹ شروع ہوجائے گی اور مسلمانوں کی ترقی شروع ہوجائے گی ۔ایسی صورتحال بہت دور ہے اس لئے ہمیں ابھی کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔ہماری نماز کی اہمیت ،افادیت سے غیر مسلم بھی خائف ہیں اسی لئے آج ان کی محنت ہے کہ مسلمان جتنا زیادہ ہوسکے اپنے اسلامی فرائض،شعائر سے دور کیئے جائیں تاکہ انہیں غلبہ حاصل نہ ہوسکے ۔اسلئے انہوں نے ہمیں بے حیائی کے کاموں میں اتنی حد تک مبتلا کردیاہے کہ ہم نماز ودیگر فرائض سے غافل ہوتے جارہے ہیں ۔نماز ایسا عمل ہے کہ ہمیں بقول قرآن شریف کے آیت کے ترجمہ کے بیشک نماز بری اور فحش باتوں سے روکتی ہے جس کی نماز اسے بے حیائی اور بری باتوں سے نہیں روکتی اس کی نماز میں کمی ہے ۔مسلسل نماز پڑھے ،علماء کرام کے پاس جائے ،تبیلغ کے کاموں میں جڑنے سے نماز کی خامیوں کا پتہ چلتارہتا ہے ۔ایک مسلمان نے کسی عالم سے پوچھا کہ بھائی نماز سے ہمیں روٹی روزی کیسے ملے گی ۔اس نے سوال کیا کہ آپ نماز کیوں پڑھتے ہیں جواب دیا جنت کے لئے ۔ عالم نے جواب دیا کہ جب آپ کو نمازسے دو وقت کی روٹی ملنے کی امید نہیں تو اتنی بڑی جنت کیسے ملے گی ۔آج امت مسلمہ طرح طرح کے مسائل ،پریشانیوں کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ اسوۃ حسنہ سے ہماری دوری ہے ۔آج ہم نے اسوۃ حسنہ اور نماز جیسی اہم عبادت سے دوری کے باعث ایک طرف تو کفر کو اپنے اوپر حاوی کرلیاہے۔دوسرے ہم نے ہسپتالوں ،لیبارٹریوں ،حکیموں ،جعلی عاملوں ،پیروں ،فقیروں کو رونق بخشی ہوئی ہے ۔ہم نے اﷲ کے گھریعنی مساجد کو غیر آباد کیا ۔اﷲ تعالی نے ہمیں طرح طرح کی بیماریوں ،پریشانیوں میں مبتلا کردیا۔آج بھی اگر ہم اپنی نماز پر محنت کریں دوسرے مسلمانوں کو نماز کی دعوت دیں تو ایک طرف تو ہمارے رزق کامسئلہ حل ہوجائے گا دوسرے بروز قیامت اﷲ کے غیض وغضب کا ہم شکار نہ ہوں گے ۔ایک صحابی ؓنے حضورؐسے دریافت کیا کہ یار سول اﷲ ؐآپ بروز قیامت ہمیں کیسے پ گے جب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی امتیں موجود ہوں گی ۔آپ ؐ نے فرمایا کہ میری امت کے وضو کے اعضاء بروز قیامت دور سے چمکیں گے جس کی وجہ سے انہیں دور سے پہچان لوں گا ۔اب جو مسلمان قطئی نماز پڑھتا ہی نہیں وہ تو بروز قیامت آپ ؐ کی پہچان سے بھی فارغ ہوا۔آج ہم مساجد تو دھڑا دھڑ تعمیر کررہے ہیں انہیں دلہنوں کی طرح سجارہے ہیں جبکہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مساجد کو دلہنوں کی طرح سجایا جائے گا لیکن نمازی بنانے کی محنت ہم نہیں کررہے ہیں ۔اﷲ بھلا کرے دعوت تبلیغ کی محنت کرنے والوں کا جن کی جماعتیں لوگوں کے گھر گھرجا کر انہیں مساجد میں بلاتی ہیں ۔دین کے ماحول میں آکر ان کے اندر نماز کا شوق پیدا ہوتا ہے ۔آج اس محنت کے باعث آہستہ آہستہ ہماری مسجدیں ،مدارس ،مراکز،خانقاہیں آباد ہورہی ہیں ۔لوگوں کا اسلام کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے لیکن یہودونصاریٰ اسلام کے لئے کی جانے والی محنت چاہے وہ تبلیغ ،مدارس ،جہاد اخلاق کے ذریعے ہو ،کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ۔ایک وقت تھا جب جہاں میں ناکامی یا تاخیر کسی سنت کے عمل کو چھوڑنے کو قرار دیا جاتا تھا ۔اب ہم سنت کے عمل کو یہ کہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ سنت ہی تو ہے کوئی فرض تو نہیں ہے حالانکہ میرے بنی ؐکی ہر سنت میں خیر ہی خیر ہے ۔آج امت مسلمہ کی بقا اور پریشانیوں سے نجات اﷲ کے احکامات کو نبی ؐ کے طریقوں کے مطابق پور ا کرنے میں ہے ۔دنیاوی یا اغیار کا کوئی طریقہ ،رواج یا عمل ہمیں دنیا وآخرت کی کامیابی نہیں دلوا سکتا ۔ہمیں کامیابی اسی محنت اور طریقوں کے ذریعے ملے گی جو آج سے پندرہ سوسال پہلے میرے نبی ؐنے شروع کیں تھیں اگرہم کامیابی انبیاء کرام کے طریقوں میں ڈھونڈیں گے تو ہم دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے اور کامیابی ہم سے دور ہوتی رہے گی ۔
٭٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 71943 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2018 Views: 620

Comments

آپ کی رائے