ایبٹ آباد آپریشن کے 7 سال

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

ایبٹ آباد آپریشن کو 2مئی2018کو 7سال ہو رہے ہیں۔جس میں امریکہ نے پاکستانی سرحدو ں کو توڑ کر ملکی فوجی اکیڈمی کے قریب آپریشن کیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔اس سب میں ایک پاکستانی نے ملک سے غداری اور امریکہ کے لئے جاسوسی کی۔جسے غداری کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لئیصدربارک اوباما کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ دباؤ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں ہے۔جسے پاکستان نے رہا نہ کیا تو اسے جیل توڑ کر ملک سے لے جانے کی کوشش کی گئی۔ جس کے بعد ڈاکٹر آفریدی کو پشاور جیل سے اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا ۔ اب اس کی رہائی کی باتیں ہونے لگی ہیں۔یہ بھی خیال ہے کہ امریکی خواہش پر ڈاکٹر کو ملک بدری کی سزا دی جائے گی۔جیل توڑنے کی منصوبہ بندی امریکی سی آئی اے نے کی ۔ جس کا انکشاف روسی خبر رساں ایجنسی سپٹنیک نیوز نے کیا جو ماسکو میں قائم رشین میڈیا گروپ نے چند سال پہلے لانچ کی ہے۔ ایجنسی نے اپنے کئی نامعلوم زرائع کے حوالے سے کہا کہ امریکہ ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنا چاہتا ہے جو امریکہ میں 86سال کی قید کاٹ رہی ہیں۔امریکہ کی طرف سے پشاور جیل توڑنے کی کوشش آئی ایس آئی نے ناکام بنائی۔کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لئے حکومت پاکستان نے لچک پیدا کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا تھا۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر طارق فاطمی نے اس کا اعتراف کیا تھا۔
یہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کون ہے۔ امریکہ کا پیارا کیوں ہے۔ صدر اوباما کے بعدصدر ٹرمپ اسے اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ امریکی کانگریس کا اس سے کیا رشتہ ہے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکاکا جاسوس ہے۔جو 33سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔ مئی 2011کو ایبٹ آباد آپریشن میں مدد کی۔ ڈاکٹر آفریدی کو امریکی دباؤ پر ماورائے عدالت کیسے رہا کیا جا سکتا ہے۔ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر آفریدی کے جعلی پولیو قطرے پلانے کی مہم کی وجہ سے اسامہ بن لادن کا پتہ چلا۔ جس میں امریکی کمانڈوز سیکڑوں کلو میٹر طے کر کے لڑاکا جہازوں پر آئے۔ پاکستان کی سرحدی یا فضائی حدود کی ہی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ پاکستان کے اندر تکگھس کرفوجی آپریشن کیا۔ ملک کے وفاقی دارلحکومت اور جی ایچ کیو کے قریب پہنچ کر اپنے ٹارگٹ کو ایک جنگی کارروائی کے بعد اغوا کر لیا۔ایبٹ آباد میں یہ علاقہ بھی انتہائی حساس تھا۔ فوجی چھاؤنی اور فوجی ٹریننگ سنٹر کا علاقہتھا۔ امریکہ نے پاکستان کے تحفظ اور دفاعی نظام پر سوالیہ نشان ڈال دیئے۔ کون زمہ دار ہے۔ غفلت کس نے کی ہے۔ سب کچھ بھلا دیا گیا ہے۔ کوئی ٹھوس انکوائری نہیں ۔ زمہ داری کا کوئی تعین نہیں۔ حکمران خود غافل ہوں تو وہ اپنے ماتحت اداروں سے کیا جواب طلبی کریں گے۔ جب اداروں کے سر براہان یر غمال بنے ہوں۔ چند لوگ انہیں اعتماد دے کر اپنے اشاروں پر نچا رہے ہوں۔ پرویزمشرف کا قوم پر یہ احسان ہے کہ قوم کے عزت اور وقار کو ڈالروں کے بدلے نیلام کر دیا۔ ان کی وکالت کرنے والے ڈالروں اور پاؤنڈز ، یوروکے بدلے اپنا ضمیر بیچ چکے ہیں۔ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے تو ڈاکٹر آفریدی کا معاملہ اتنا طول نہ پکڑتا۔ اس نے ملک کے ساتھ غداری کی ہے۔ ڈالر زکے بدلے ملک کی سالمیت اور سلامتی کو خطرے میں ڈالا ۔ وہ کہتے ہوں گے کہ حکومت امریکہ سے مدد لیتی ہے۔ کوئی گناہ نہیں۔ حکمران ڈالر لے کر اپنی تجوریوں میں جمع کرتے ہیں، کوئی گناہ نہیں، وہ بھی امریکہ سے براہ راست ڈیل کر رہے ہیں تو یہ کیسے گناہ ہو گیا۔ ڈاکٹر آفریدی نے امریکہ سے براہ راست ڈیل کی۔ لیکن پکڑے گئے۔ جو پکڑا گیا وہ چور۔ جو بچ گیا وہ کھلاڑی۔ لکن جس طرح ٹرائل ہو رہا ہے ، وہ انتہائی دلچسپ ہے۔ آفریدی کو گرفتاری کے بعد ملک کے خلاف سازش کرنے کے الزامات سہنے پڑے۔ اسے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ نے 33برس بلا ضمانت قید سنائی ۔ اس سزا کو قبائلی عدالت نے کالعدم قرار دیا ۔کمشنر ایف سی آر نے اس سزا کو اوور ٹرن کر دیا۔ خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کو دوبارہ کیس کی شنوائی کی ہدایت ہوئی۔حیران کن طور پر اکٹر آفریدی کو بغاوت کے بجائے کسی شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق پر دی گئی۔ مشکوک طور پر معافیاں دی گئیں۔ آفریدی آج پشاور سنٹرل جیل سے اڈیالہ پہنچ گئے ہیں۔ آفریدی کے وکیل قمر ندیم آفریدی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کو اچھی پیش رفت قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر آفریدی کو ملک سے غداری کی کوئی سزا نہ ملے اور اسے باعزت رہا کر دیا جائے۔ ریمنڈڈیوس(بلیک واٹر) کی طرح۔ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں سرعام تین پاکستانیوں کو قتل کیا ۔ ڈاکٹر عافیہ بھی امریکی شہری ہوتیں تو اسے کابل سے ہی باعزت رہا کرا دیا جاتا۔ لیکن امریکہ نے اسے بد نام زمانہ انٹروگیشن سنٹر پہنچا دیا۔امریکی ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لئے ایسے بات کرتے ہیں جیسے آفریدی پاکستان کا شہری نہیں بلکہ ہم نے اسے امریکہ سے اغواکیا ہے۔ آفریدی کا کیس ایف سی آر کمشنر کی عدالت میں رہا۔ ٹائمنگ دیکھیں جس دن صدر اوباما شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے امریکی امداد کے بل پر دستخط کر رہے تھے اس دن ہی کمشنر کے پاس آفریدی کی پیشی تھی۔ وکیل کو فیس امریکہ دیتا رہا۔کمشنر کو یہ کیس فاٹا ٹریبونل نے ریفر کیا ۔ سابق کمشنر صاحبزادہ محمدانیس کی ہلاکت کے بعد سے ان کے احکامات کالعدم قرار دینے کی باتیں ہو نے لگیں۔ اس لئے شکوک بڑھ رہے تھے کہ سابق کمشنر کی موت قدرتی نہیں تھی بلکہ اسے قتل کر دیا گیا ۔کیوں کہ وہ کسی سمجھوتے پر راضی نہ تھے۔ اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ نواز شریف حکومت کوئی سمجھوتہ نہ کرنے پر اٹل تھی۔ ایک ملکی غدر کو کیسے رہا کیا جا سکتا ہے یا امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔شکیل آفریدی نے ملک کے تقریباً ا یک لاکھ پولیو زدہ افراد کی ہلاکت کے اسباب پیدا کئے۔ اس نے اور اس کی ایجنٹوں کی ٹیم نے پولیو ورکرزبن کر قوم کو دھوکہ دیا۔ ایک مقدس پیشے کی آڑ لے کر اسے بدنام کیا۔ ڈاکٹری کوجاسوسی اور غداری میں بدل دیا۔ جو لوگ پولیو کے نام پر تشدد کا نشانہ بنے۔ ان کا قتل ہوا۔ یہ مقدمہ ڈاکٹر آفریدی پر چلنا چاہیئے۔ غدار اور قاتل کے سزا کیا ہو سکتی ہے۔ امریکہ اس ملک کے آئین و قانون کے ساتھ ہمیشہ مذاق کرتاہے۔ ڈاکٹر آفریدی کے بیوی بچوں کو اس کی سزا نہیں دی جانی چاہیئے۔سچ کیا ہے۔ اس کے لئے ایبٹ آباد آپریشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے میں مزید دیر نہ کی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔یہ بھی بتایا جائے ڈاکٹر آفریدی کو غداری کی سزا کیوں نہ دی گئی یااس ملک میں غداری کوئی جرم نہ رہا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222525 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
02 May, 2018 Views: 375

Comments

آپ کی رائے