ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ایکشن…… ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے

(عابد محمود عزام, Lahore)

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حالیہ سینیٹ الیکشن میں ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت کے حوالے سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپنی پارٹی کے 20اراکین کے نام افشا کر کے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ان تمام افراد کو اپنی صفائی کا مکمل موقع دیں گے، اگر ان ارکان نے مطمئن نہ کیا تو پارٹی سے نکال دیں گے اور ان کے نام قومی احتساب بیورو (نیب) کو دے دیں گے۔ سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ پر عمران خان نے اپنی ہی جماعت کے 20 ارکان کے خلاف جرات مندانہ ایکشن لیا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرح دوسری جماعتوں کو بھی ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے‘ کیونکہ جمہوری استحکام کے لیے ووٹ بیچنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں ہارس ٹریڈنگ روکنے میں مخلص ہیں تو سب کو اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی عمران خان کے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ عمران خان کے اس اقدام کی تعریف کرنی چاہیے، اس اقدام سے ملکی سیاست میں اچھی مثال قائم ہوئی ہے۔پاکستان کی سیاست میں ’’سیاسی گھوڑوں‘‘ کی خریدو فروخت کا آغاز 1985 ء میں ہوا۔ 1990 ء میں ایک مرتبہ پھر ہارس ٹریڈنگ کی گئی اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً ہارس ٹریڈنگ کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہو گا کہ ہمارے ملک میں ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ سیاسی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہے۔ ماضی میں اس کے خلاف باتیں ہوتی رہیں اور اس کے خاتمے کے عزائم بھی ظاہر کیے جاتے رہے، لیکن اس کے سدباب کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کی یہ سماجی و سیاسی بْرائی بڑھتے بڑھتے ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ایک وبا کی شکل میں تیزی سے پھیل رہی ہے، لیکن عمران خان نے اپنی پارٹی کے 20 اراکین صوبائی اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر نکال کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ اب اگر عمران خان نے اس کے خلاف ایکشن لیا ہے تو اسے ایک خوش آئند تبدیلی قرار دینا بے جا نہ ہو گا۔

ہمارے انتخابی نظام کی بدقسمتی ہے کہ یہاں امیدوار بننے سے انتخاب لڑنے تک پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے اور پیسے کے زور پر انتخاب جیتنے والے ارکان اسمبلی اپنا لگایا گیا پیسہ سود سمیت وصول کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اور عوام کی فلاح کا کوئی بھی کام پیسے کے بغیر نہیں کرتے۔ المیہ یہ ہے کہ پارٹی قیادتوں نے خود اس کلچر کو فروغ دے کر انتخابی عمل کو دھن دولت کے ساتھ منسلک کیا اور عام آدمی کے لیے انتخابات میں حصہ لینا عملاً ناممکن بنایا ہے۔ انتخابی عمل میں پیسے کے عمل دخل کی ابتدا پارٹی قیادتوں کی جانب سے پارٹی ٹکٹ کی درخواست کے ساتھ امیدواروں سے پارٹی فنڈ کے نام پر خطیر رقوم وصول کرنے سے ہوتی ہے جو ٹکٹ ملنے یا نہ ملنے کی ہر دو صورتوں میں ناقابل واپسی کی شرط پر وصول کی جاتی ہیں۔ سینٹ کے حالیہ انتخابات ہارس ٹریڈنگ کی اچھوتی مثال بن کر سامنے آئے، جس کے لیے بالخصوص پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی قیادتوں نے اپنی الگ الگ حکمت عملی کے تحت بلوچستان اسمبلی کے کتنے ارکان اسمبلی کو کس حربے کے تحت اپنی جیب میں ڈالا ہوگا، اس کا ان پارٹیوں کی قیادتوں کو ہی بخوبی علم ہوگا، چنانچہ جب سینٹ انتخابات سے قبل بلوچستان اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کا راستہ کھول دیاگیا تو لامحالہ اس کے اثرات سینٹ انتخابات کے موقع پر دوسری اسمبلیوں پر بھی مرتب ہوئے۔ کے پی کے اور پنجاب سے بھی ارکان فروخت ہوئے، جس کے خلاف ایکشن لینا انتہائی ضروری تھا۔ بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ عمران خان نے بکاؤ ارکان کے خلاف ایکشن کا اعلان تو کردیا ہے، لیکن اپنے اس اعلان پر عمل بھی کرتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ اگر وہ اپنے اعلان پر عمل کرتے ہوئے ہارس ٹریڈنگ میں ملوث تمام ارکان کے خلاف کارروائی بھی کرتے ہیں تو ہی مانا جائے گا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے، بصورت دیگر ان کے اعلان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

ناقدین کی جانب سے مختلف اعتراضات کیے جارہے ہیں جن کا جواب بھی عمران خان صاحب کو دینا چاہیے۔ جن لوگوں کے نام جاری کیے کیا ان سے باز پرس کی گئی تھی؟ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر کیا ان کو شوکاز نوٹس جاری کیاگیا تھا؟ یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ عمران خان 20 نام منظرِ عام پر لائے ہیں تو ان کے پاس ثبوت بھی ہوں گے، مگر سوال یہ ہے کہ الزام لگنے کے بعد بعض ارکان کی جانب سے میڈیا پر آکر یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہوں نے ووٹ تحریک انصاف کو ہی دیا ہے، ہارس ٹریڈنگ نہیں کی۔ اگر ایسا ہے تو یہ اس کی تحقیقات بھی ہونی چاہیے، کیونکہ اگر کسی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگائے جانے کے بعد جھوٹا بھی ثابت ہوجاتا ہے تو بھی اس الزام کی وجہ سے اس کا سیاسی مستقبل تو تاریک ہوسکتا ہے۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کے نام دیے گئے ہیں ان میں سے بعض کئی ماہ پہلے ہی پارٹی عملاً چھوڑ چکے تھے۔اگرایسا ہے تو کہیں یہ کوئی انتقامی کارروائی بھی تو ہوسکتی ہے۔اس کی تحقیقات بھی ضرور ہونی چاہیے۔ جہاں تک ووٹ بیچنے کے الزامات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیے گئے لہٰذا جن لوگوں پر ووٹ فروخت کرنے کاالزام لگا ہے ان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس حوالے سے جو بھی مناسب کارروائی ہو کر سکتے ہیں، کیونکہ انھیں بہرحال اپنا دامن صاف کرنا ہے۔

ناقدین کی جانب سے عمران خان پر ایک برا اعتراض یہ بھی کیا جارہا ہے کہ چودھری سرور کے پاس مطلوبہ ووٹ نہیں تھے۔ تحریک انصاف کے لیڈر چودھری محمد سرور نے سینٹ کے انتخاب میں اپنی کامیابی کے لیے پنجاب اسمبلی کے مطلوبہ ارکان کو خریدنے کے لیے عمران خان کی فراہم کی گئی سہولت سے ہی فائدہ اٹھایا ہوگا، کیونکہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد کم ہونے کے باعث پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کسی امیدوار کا انتخاب جیتنا عملاً ناممکن تھا۔ اگر چودھری محمد سرور نے سینٹ کی رکنیت کے لیے پنجاب اسمبلی کے مطلوبہ ارکان سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کیے تو یہ ہارس ٹریڈنگ کے زور پر ہی ممکن ہوا ہوگا، جبکہ سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی قیادتوں نے باہمی ملی بھگت کے تحت جو حکمت عملی اختیار کی، اس میں ہارس ٹریڈنگ کے عمل دخل کو بھلا کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے اس نیک کام کی شروعات سینٹ کے حالیہ انتخابات میں اپنی پارٹی کے اندر ہونیوالی فلور کراسنگ کا سخت نوٹس لے کر کی ہے تو انہیں ووٹ خریدنے والے اپنی پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ بھی ووٹ فروخت کرنے والے ارکان جیسا سلوک ہی کرنا چاہیے۔بلاشبہ کرپشن اور ووٹ کو بیچنا یا ووٹ کو خریدنا انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے، اس حوالے سے لازمی طور پر قانون سازی بھی کی جانی چاہیے۔ اسی طرح انہیں آئندہ انتخابات کے امیدواروں کے لیے پارٹی ٹکٹ کی درخواست کے ساتھ بنک ڈرافٹ منسلک کرنے کی شرط کے خاتمہ کا بھی اعلان کر دینا چاہیے۔ اس نیک کام میں انتخابی میدان میں اترنے والی دوسری جماعتیں کوئی حصہ ڈالتی ہیں یا نہیں، اس سے عمران خان کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ وہ کم از کم اپنے ضمیر کو تو مطمئن رکھیں گے، جبکہ انتخابی عمل میں کرپشن کلچر کے خاتمہ کے لیے ان کی قائم کی گئی مثال کسی نہ کسی مرحلے پر بارآور بھی ہو سکتی ہے۔ اگر وہ سینٹ کے انتخاب کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ کے لیے اپنی پارٹی میں قائم کی گئی نادر مثال پر قائم رہتے ہیں تو اس سے انتخابی نظام میں تطہیر کے عمل سے مثبت نتائج حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419586 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2018 Views: 488

Comments

آپ کی رائے