مختصر افسانہ (صوفی)

(معز خان, karachi)
تحریر کا عنوان صوفی ہے، جب کہ تحریر ایک فاضل ڈاکٹر اور ایک بہروپئے ٹھگ کے درمیان ہوئے مکالمے پر مبنی ہے۔

سردیوں کا دن ڈھل رہا تھا۔ میں مستقبل کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تھوڑا پریشان تھا۔ کیوں کہ زندگی کی چالیس بہاروں کے ساتھ خزاں کے موسم بھی دیکھ چکا تھا لیکن میرے پاس کوئی ہنر نہیں تھا نہ ہی محنت کرنے کا تجربہ تھا، کیوں کہ میں بنیادی طور پر ٹھگ تھا۔ کبھی محنت مزدوری نہیں کی تھی، شہر لاہور کے ٹھگوں میں میرا ایک مقام تھا، لیکن ٹھگوں کی زندگی بہت عیاش ہوتی ہے، بلکل ایسے ہی پیسوں میں کفایت شعاری جیسی ناموں سے میرا کوئی تعارف نہیں تھا، حالات حاضرہ کا باغور جائزہ لیتے ہوئے میں جب حتمی طور پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچھ سکا تو کان کے پیچھے لگی سگریٹ نکال کر ہاتھ میں گھماتے ہوئے جیب سے ماچس کی ڈبیہ نکالی اور سگریٹ سلگا کر ڈوبتے ہوئے سورج کی طرف اپنا دھواں پھینک کر اس کا اکیلا پن دور کر رہا تھا کیوں کہ سورج نے اگلی صبح پھر سے طلوع ہو جانا ہے لیکن اب کی بار مجھے اپنا طلوع کسی صورت نظر نہیں آرہا تھا۔

میں اپنی زندگی کا عروج دیکھ چکا تھا، اور آنے والے زوال کو بھانپ کر مجھے گھبراہت مستقل طور پر گھیرے ہوئے تھی۔ میں جاگنگ پارک میں لگی بینچ پر بیٹھا غروب آفتاب کے ساتھ جمع ہونے والے جاگنگ گروپس کو دیکھ رہا تھا۔ لوگ یہاں جاگنگ اور کثرت کرنے آتے تھے، ویسے تو میں شہر لاہور کا مقامی نہیں تھا، لیکن طویل عرصہ گزارنے کے بعد مجھے اس شہر سے انسیت ہوگئی تھی، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مجھے اس شہر سے محبت ہوگئی تھی۔

ٹھگوں میں ہی سہی لیکن اس شہر میں میرا ایک مقام تھا، لوگ کہتے ہیں مجھ میں کوئی بات ہے میں ضرور کچھ بڑا کروں گا، مجھے کبھی اس بات کا ملال نہیں ہوا کہ میں ٹھگ ہوں یا پھر یہ غلط کام ہے۔ ڈرامائی انداز میں کہا جائے تو مجھے میرے اندر کے ضمیر نے کبھی نہیں جھنجھوڑا میں نے مسافروں سے لے کر سرکاری افسران اور بنئے سے لے کر تیلی سب کو ٹھگا ہوا تھا اور بہت وسیع تجربہ تھا، میرا تجربہ اتنا تھا کہ میں بازار میں گھومتے کسی بھی نئے ٹھگیئے کو پہچان جاتا تھا لیکن میں باقی ٹھگوں کی طرح کسی سے اس بات پر نہیں الجھا کہ یہ علاقہ میرا ہے یا تمہارا، اس کے برعکس میں اس کا پیچھا کرتا اور اس کی کاروائی مکمل ہونے کا انتظار کرتا اور پھر اسے چائے پلانے کے بہانے سے کاروائی کے دوران کی ہوئی غلطیوں سے آشناء کرتا، جس سے وہ خوش کر مجھے گرو مان لیتا اور آنے والے وقتوں میں عزت کے ساتھ ساتھ جب جب ملاقات ہوتی تو میرا کھانا پینا مفت ہوتا، بھلا اب گرو سے پیسے کون لے گا، اب اسے میری رحم دلی کہا جائے یا پھر ٹھگوں کے ساتھ میری چالبازی کہا جائے، اس سے مجھے ایک یہ فائدہ بھی ہوتا کہ مجھے ہر کسی کی خبر رہتی اور مجھے کاروائی کرتا دیکھ کر کوئی بھی دوسرا ٹھگ مجھے گرو مان کر کبھی بھی نہ تو میرا راستہ کاٹتا اور نہ ہی میرے شکار پر نظر رکھنے کی کوشش کرتا، ماضی کے سہانے دن یاد کرتے ہوئے اچانک سے میرا دھیان اپنے ساتھ بینچ پر جاگنگ سے تھک کر بیٹھنے والے ایک ڈھلتی عمر کے فرد نے کھینچا، میں نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اس کی طرف مسکان بھری نظروں سے دیکھا، وہ بری طرح ہانپ رہا تھا، چھوٹی سی بوتل سے کوئی مشروب پیتے ہوئے اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا " ڈاکٹر جوئے سمتھ "

میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھام لیا، جیسے مجھے خود سہاروں کی ضرورت ہو۔ پہلے پہل تو ڈاکٹر میرے ہاتھ ملانے کے انداز سے مجھے غلط سمجھ رہا تھا، لیکن کچھ ہی دیر میں اس کا یہ ابہام دور ہوگیا، آہستہ آہستہ ہماری باتیں شروع ہونے لگی، ڈاکٹر اپنے بارے میں بتانے لگا کہ "میں ایک فاضل ڈاکٹر ہوں" اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میں نے سوال کردیا کہ جسم کے کون سے حصے کے ڈاکٹر ہیں آپ، میری بات پر وہ مسکرایا اور بولا میں نے سوشل سائنس پڑھی ہے، اوہ اچھا اچھا آپ صحافی ہیں یا کوئی دوسری معاشرتی ڈگری رکھتے ہیں ، میری بات پر اس نے ہاں میں سر ہلا دیا، اس کا تعارف تو میں مکمل لے چکا تھا۔ وہ ساتھ والی ہی ایک امیر بستی کا مقیم تھا۔ اور بڑھاپے میں کسی متفقہ طور پر بیماری کے حملے سے بچنے کے لئے کثرت کرنے آتا تھا۔ اس کے جوان بیٹے تھے اور شائد وہ بھی شادی شدہ تھے، ڈاکٹر اپنی زندگی بہترین انداز میں گزار رہا تھا اور مجھے اس سے شدید جلن ہو رہی تھی۔ میں اپنے جذبات چھپا کر مسکراتے ہوئے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ میری بڑی داڑھی اور اونچی شلوار دیکھ کر وہ مجھے مذہبی سمجھ کر بہت محتاط انداز میں گفتگو کر رہا تھا۔ میں اس کی باتوں سے اس کی دبی سانسوں کی گھٹن محسوس کر رہا تھا۔ اس نے باتوں باتوں مجھ سے میرا تعارف پوچھا تو تھوڑا سا چونک گیا کیوں کہ میں اپنا اصلی نام بھول چکا تھا، عام طور پر مجھے گرو کے نام سے لوگ جانتے تھے، لیکن یہاں گرو نام بتانا کچھ مناسب نہیں لگا، مجھے کچھ یاد نہ آیا کہ میرا نام کیا ہے تو کچھ بھی سوچے سمجھے بنا ہی میں نے کہہ دیا کہ مجھے "عبداللہ" کہتے ہیں اور میں "ڈھولن وال" کا رہائشی ہوں، اور پیشے سے جولاہا ہوں لیکن میں کپڑے کی پیکنگ والی ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ آج کل بے روزگار ہوں، میرا حالیہ دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں تھا کہ میں کسی مسجد کا امام ہوں یا پھر درس و تدریس سے وابستہ ہوں۔ ڈاکٹر کو میری حالت زار دیکھ سن کر مجھ پر ترس آیا اور ہمیشہ کی طرح اس نے بھی مجھے ساتھ چائے پینے کی آفر دی، اس بار بھی میں نے حامی بھر دی لیکن اس شرط کے ساتھ کے میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میری بےچارگی دیکھ کر وہ مسکرایا اور بولا آجاو سمجھ لو کہ میں تمہاری چائے کا وسیلہ ہوں خدا کی طرف سے، میں مسکرایا اور ساتھ چلنے لگا اور ساتھ ہی سوچنے لگا کہ اس نے میری بےعزتی کی ہے یا پھر مزاق جو بھی تھا میں سمجھ نہیں پایا، قریب ہی چائے کا ایک مہنگا کیفے تھا، ایسی جگہوں پر میں اپنے جوانی کے دنوں میں عیاشی مارنے آیا کرتا تھا، آج ایک اور حقیقت مجھ پر عیاں ہونے لگی کہ طوائف اور ٹھگ کی زندگی میں کمائی کے دن بہت محدود ہوتے ہیں، اور دونوں ہی اپنے حال کو دیکھتے ہوئے مستقبل کا سوچ کر اپنے ماضی کو کوستے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر نے کیفے کا دروازہ کھولا اور ہم دونوں اندر جیسے ہی داخل ہوئے،سکون اور راحت کے احساس نے مجھے نیند کی آغوش میں جانے پر مجبور کرنا شروع کر دیا، میں نے اپنے اوسان پر قابو پایا، میں ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے رن مرید کی طرح چل رہا تھا۔ مجھے آج اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہو رہا تھا، میں نے کبھی کسی کے ساتھ بےچارگی کا اظہار نہیں کیا تھا، ایک کونے میں بڑی میز پر ہم دونوں جا کر بیٹھے جہاں پہلے سے کچھ صاحبان بیٹھے تھے، میں بھی خاموشی سے ان سب کے ساتھ بیٹھ گیا یہ سب آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور میں خاموشی سے اپنے آپ میں شرمندہ تھا۔ ڈاکٹر کی آواز ان سب میں بلند تھی، اور وہ ہر کسی کی بات کا نفی کرنے اور جوابی سوال کا حق رکھتا تھا، شاید ایسا اس لئے تھا کہ ڈاکٹر عمر میں سب سے بڑا تھا یا پھر پیسے اور رتبے کے حوالے سے سب سے طاقتور تھا، اب کی بار ڈاکٹر نے میرے ہاتھ کو ٹویا(چھونا) اور پوچھا عبداللہ تم بھی اپنے بارے میں کچھ بتاو زندگی کے تجربات سے کیا سیکھا وہ مستقل میری داڑھی دیکھ رہا تھا بل آخر اس کا آخری سوال میرے مذہب فرقے اور خدا پر تھا، میں اپنے آپ میں الجھ گیا تھا۔ میں نے خود نارمل کیا اور بولنے کی کوشش شروع کی کہ نام تو آپ جانتے ہیں عبداللہ کہتے ہیں مجھے اور کپڑے کی پیکنگ کمپنی میں ملازمت کرتا تھا، اور جولاہا ہمارا خاندانی پیشہ ہے، بات کو جاری رکھتے ہوئے میں نے کہا کہ مذاہب کا تو میں شدید بیری ہوں اور جب مذہب کا بیری ہوں فرقہ پرستی کا سوال ہی بنتا۔۔۔۔۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹر اور اس کا دوست جو کہ عمر میں میرا ہانڑٰی (ہم عمر) تھا۔ یک مشت بول اٹھے تم بھی لادین ہو کیا؟؟؟ نہیں تو میں صرف مذاہب کا بیری ہوں البتہ میں مسلمان ہوں، میری بات کے جواب میں ڈاکٹر بولا کہ اسلام بھی تو ایک مذہب ہے نا، نہیں تو قطاً ایسا نہیں، ایسا کس نے کہہ دیا کہ اسلام مذہب ہے، اسلام تو درحقیقت ایک زندگی گزارنے کا طریقہ جسے عقل بھی تسلیم کرتی ہے، اور میں کہتا ہوں جو بات تمہیں اس دین میں بے تکی لگے تم اسے دیوار پر دے مارو، ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں کہ تم اسے رد کر سکو ہر بات کی دلیل موجود ہے، ہم اس پر احسن انداز میں بات کر سکتے ہیں۔

میں آج بلاوجہ مولوی دین مذہب کی وکالت کر رہا تھا میں ایسا تو نہیں تھا، لیکن آج کچھ عجیب ہو رہا تھا۔ میری سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ میری آنکھوں میں اب مایوسی نہیں تھی، جیسے مجھے زندگی کا کوئی مقصد مل گیا ہو، ان کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ یا تو یہ لادین لوگوں کا گروپ ہے جو کہ بہت زیادہ فاضل ہیں، ڈاکٹر نے مجھے بچہ سمجھ کر سوال کرنا شروع کر دئے کیا تم نے خدا کو کبھی دیکھا جس پر میں نے نفی میں سر ہلا دیا، ہمارا مقالمہ اب مذہب سے ہٹ کر خدا پر آگیا تھا جو کہ دین ہونے کی بنیادی وجہ ہے، جب تم نے خدا کو نہیں دیکھا تو تم کیسے عبادات کرتے ہو، ڈاکٹر کا سوال سننے پر میں نے ڈاکٹر سے پلٹ کر سوال کر دیا کہ تم مجھے خدا نہ ہونے کی کوئی دلیل دے دو، اگر تمہاری دلیل میں وزن ہوا تو میں بھی عبادت چھوڑ کر لادین ہو جاوں گا، اس کا لہجہ بدل رہا تھا، اس نے بات شروع کرتے ہی مجھے نشانہ بنانا شروع کر دیا، تم نے خدا کی عبادت میں ساری زندگی گزار دی جبکہ بدلے میں تمہیں صرف جولاہے کا پیشہ نصیب ہوا اور ایک چھوٹی سی ملازمت ملی جو کہ اب نہیں تم بیروزگار ہو تمہارے پاس کھانے کو کچھ نہیں، اب کی بار میں ہنسا اور ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر تم نے تو خود مجھے دعوت دی تھی چائے کی اور اس کے ساتھ تم نے خود کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے تمہارا وسیلہ ہوں چائے کے لئے، اور میرا تو یہ ماننا ہے انسان کا رزق اس کی موت سے زیادہ تیزی سے اسے تلاش کرتا ہے۔ میری نہ تم سے جان پہچان تھی نہ ہی پہلے کبھی ملاقات ہوئی، تم خود میرے پاس آئے دو باتیں کی اور چائے پر لے آئے، کیا تم ایسے ہی جاگنگ پارک سے لوگوں کو اٹھا کر چائے پلانے لے آتے ہو اتنی مہنگی جگہ پر، یقیناً تم نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا ہوگا۔ میری بات سے ڈاکٹر نے سوفیصد اتفاق کیا اور اتنی بات مان گیا کہ یہ خدا کا حکم تھا کہ تم مجھے چائے پلاو۔ دین پر تو ڈاکٹر آپ کوئی بھی سوال نہیں کر سکتے کیوں کہ سائنسی لحاظ سے ہر عمل کی دلیل موجود ہے حتاکہ کھانا کھانے سے لے کر پنج وقت نماز ادا کرنے تک، رہی بات خدا کو دیکھنے کی تو یہ میرے ایمان کا حصہ ہے، مجھے خدا کے ہونے پر کوئی شک نہیں، اور جہاں تک میرا علم ہے خدا تلاشنا اتنا آسان نہیں کیوں کہ جیسے تم تلاش شروع کرو گے تمہیں دنیا کے گورکھ دھندے میں الجھا دیا جائے گا۔ اور تم سب بھول بھال کر اپنے مسائل سلجھانے میں لگ جاو گے، ہاں تم خدا کا عکس قائنات کی ہر چیز میں دیکھ سکتے، ایسا نظم و ضبط کسی اور کے بس میں تو نہیں، ڈاکٹر بےصبر ہو کر خود کو جب میدان ہارتا ہوا پانے لگا تو بیچ میں ہی بول پڑا کہ یہ پوری دنیا تو ایک خلیئے سے پیدا ہوئی ہے جو جس کا ظہور نباتات کی شکل میں ہوا تھا۔ جب کہ تمہارا ماننا ہے کہ انسان آدم کی اولادوں میں سے ہے، جس پر میں پر میرا ماتھا تھوڑا سا ٹھنکا کیوں بات تو ڈاکٹر کی درست تھی کہ ہمارے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں کہ ہم آدم کی اولاد ہیں، میں نے بات شروع کرتے ہوئے دوبارہ اسے کہا ابھی اس پر سائنس کی تحقیق جاری ہے کہ دنیا پر آدم کا وجود گزرا یا نہیں کیوں سائنس نام ہی تلاش کا ہے ہو سکتا ہے آنے والے وقتوں میں اس بات کو بھی مان لے کے انسان آدم کی اولاد میں سے ہے جیسا کہ اس سے پہلے سائنس نے بہت سی باتیں معزرت کے ساتھ قبول کر لی، لیکن میرا تم سے یہ سوال کہ تم مجھے ڈارون کی تھیوری سمجھا دو۔ جس پر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ بہت آسان اور سادہ سی بات ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ہر چیز کی خاصیت تبدیل ہوتی بلکل ایسے ہی جیسے ایک عام آدمی کے ہاتھ نرم ہوتے ہیں اس کے برعکس تندور پر روٹی لگانے والے اور لوہار کے ہاتھ بھی فولاد جیسے ہی سخت ہوتے جاتے ہیں، یہ سب ارتقائی عمل ہی ہے جس سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اس میں خدا کا کوئی عمل دخل نہیں، کیوں خدا کا عمل دخل کیسے نہیں، اس کی بات مکمل ہوتے ہی میں نے بہت نرم لہجے اور شائستگی سے پوچھا کہ آپ نے کہا کہ دنیا پر انسانی وجود ایک نباتاتی خلیہ کی شکل میں آیا جو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا گیا ہے، میری بات پر ڈاکٹر اور اس کے دوستوں ہم آواز ہو کر کہا بلکل ایسا ہی ہے، جس پر میں نے کہا وہ پہلا خلیہ کیسے وجود میں آیا اور دنیا پر آنے سے پہلے وہ کہاں تھا، میری بات تسلی سے سننے کی کوشش کرتے ہوئے جو کہ ان سب کے لئے بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا، جھٹ پٹا کر بولے میاں تمہارا علم بہت کمزور ہے میں تمہیں آسان الفاظ میں سمجھاتا ہوں کہ یہ سب کیسے ہوا، قائنات میں ایک بگ بینگ ہوا جس کے نتیجے میں یہ دنیا اور نظام شمسی وجود میں آیا ، میں نے پلٹ کر کہا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن دنیا کے وجود میں آنے کے بعد وہ نباتاتی انسان کہاں سے آیا، ڈاکٹر نے ایک چائے کی چسکی لی اور کہا کہ وہ بھی خود ہی پیدا ہوگیا جب دنیا کا درجہ حرارت کم ہونے لگا اور معقول درجہ حرارت ملنے پر کیمیکل ری ایکشن ہونے پر زندگی وجود میں آنے لگی بعد ازاں اس پر موسم اور حالات کی تبدیلی کے اثرات مرتب ہونے لگے، ڈاکٹر کی بات مکمل ہونے پر میں نے اسے حالیہ دنوں ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بڑی سائنسی کھوج کے بارے میں بتایا جس میں یہ کہا گیا تھا انسان اس دنیا پر ایلین ہے اور ایلین کا مطلب ہوتا ہے آسمان سے اتارا ہوا یا کسی دوسری دنیا سے آیا ہوا فرد، باشندہ۔

اگر ہم لفظ ایلین کے خواص کا جائزہ لیں تو یہ پیچھے جاتے ہوئے یہ ہمیں عربی زبان میں بھی ہمیں لفظ علی ملتا جس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آسمان سے اتارا ہوا، دراصل یہ لفظ یونانی زبان کا ہے (ایلائنس ) جس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آسمان سے اتارا ہوا۔ اور دوسری آسمانی کتابوں میں بھی اس لفظ کا حوالہ ملتا ہے، لیکن آپ تو آسمانی کتابوں کو رد کرتے ہیں۔ تو سائنس بھی یہ بات مان رہی ہے، سائنس بھی اس پر تاحال تحقیق کر رہی ہے، بہت سے محققین اس بات پر بضد ہیں کہ انسان کا تعلق کسی اور سیارے سے ہے۔ جو کہ لاکھوں نوری سال دور ہو سکتا ہے، چائے ختم ہوئی تو ڈاکٹر نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحث اتنی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں، بقیہ بحث کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ بحث کا لفظ دو بار سن کر میں مسکرا کر بولا کہ میں تو قطعی طور پر آپ سے بحث نہیں کر رہا اور نہ ہی آپ کو اس بات پر زبردستی قائل کرنا پسند کروں گا کہ آپ یکتہ پرست بنیں یا مجھ سے ہار کر لادینئت کو ترک کردیں۔ مجھے آپ سب لوگ بہت اچھے لگے، آپ لوگوں کے پاس بلا کی معلومات ہیں، کل ملاقات کرتے ہیں لیکن اس شرط پر کہ میں اپنی چائے کے پیسے خود ادا کروں گا، میری بات سن کر سب کھل کھلا اٹھے،

گھر واپسی آتے میرے لئے ایک نئی مصیبت تیار ہوچکی تھی کہ کل کی چائے کے پیسوں کا انتظام کرنا ہوگا، ہم چھڑے لوگوں کا گھر نہیں ہوتا اسی لئے مارکیٹ کے اوپر بنے ہاسٹل میں کمرہ کرائے پر لے کر رہنے پر اکتفا کر لیتے ہیں،

اگلی صبح حجام کی دکان پر مزدوری کرنے کے بعد شام میں اجرت وصولنے کے بعد میں جلدی سے گھر گیا اور الماری میں رکھا اکلوتا جوتا پہنا جو کہ میں نے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لئے مخصوص کر رکھا تھا پہنا اور بھاگتے ہوئے جاگنگ پارک پہنچ گیا، ڈاکٹر صاحب مجھ سے پہلے ہی جاگنگ کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر وہ پاس آئے اور ان کے دوسرے دوست بھی آگئے، ڈاکٹر نے سلام کے بعد پہل اس بات سے کی آج تم ہمیں قائل کرو جو کہ ناممکن بات ہے، وگرنہ تم قائل ہو کر جاو،

ڈاکٹر کی اس بات پر میں کچھ بھی نہ کہہ سکا، میں نے کل کی بات دوبارہ شروع کی اور ڈاکٹر کے استعمال کردہ لفظ "بگ بینگ" کو موضوع بناتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کی بات بگ بینگ تک سمجھ آئی لیکن اس میں بھی سائنسدانوں کی دو رائے ہیں کہ زندگی کا وجود کیمیکل ری ایکشن سے بھی ہوسکتا ہے، اور دوسری یہ کہ انسان حقیقی طور پر اس دنیا کا نہیں،

میرا سوال یہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، اور کیا معاملات تھے، میرا سوال سن کر ڈاکٹر نے فوراً قہقہہ لگایا اور طنزاً کہا "میاں گھر سے تیاری کر کے آئے ہو نا" جس پر میں نے کہا جی بلکل چائے کے پیسے ساتھ لایا ہوں۔

ڈاکٹر نے اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ بگ بینگ سے پہلے کی معلومات جمع کرنا ممکن نہیں اس لئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس سے پہلے کیا تھا، جس پر میں نے قہقہہ لگایا کہ" چلیں جب تک وہ وقت نہیں آتا تو مان لیجئے کہ اس سے پہلے خدا کی خدائی ہے" اور ویسے بھی سائنس کہتی ہے بنا ہوا کہ تو پتا بھی نہیں ہلتا تو اتنی بڑی قائنات اتنے نظم و ضبط میں کیسے چل سکتی ہے،

ڈاکٹر نے دوبارہ سوال کیا کہ تم بتاو جس خدا کی تم پرستش کرتے ہو اس کی آخری حد کیا ہے، جس پر میں نے کہا مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ خدا شروع کہاں سے ہوتا ہے تو میں یہ کیسے بتا سکتا ہوں کہ خدا کہاں خدا کی حد ختم ہوتی ہے اور اگر خدا کی کوئی حد ہے تو پھر لازمی طور پر خدا نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ میرے ایمان کا حصہ ہے کہ، (ان الله علی کل شی قدیر) اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ مردوں کو زندہ کرے گا مرنے کے بعد۔ وہ کن فیا کن پر قدرت رکھتا ہے۔ میری اس بات پر ڈاکٹر کے ایک ساتھی نے کہا سائنس اس پر بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے، اب سائنس تقریباً موت پر جیت پا چکی ہے، اب جسم کے کسی بھی عضو کو بدلا جاسکتا ہے، حتاکہ بائیو سائنس ٹیکنالوجی کی مدد سے نیا بھی بنایا جاسکتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف لافانی زندگی کے حصول کے لئے بھی تجربات کئے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے انسان جس عمر میں چاہے وہیں ہمیشہ کے لئے رک کر جوان رہ سکتا ہے، تحمل سے پوری بات سننے کے بعد میں نے جواب دینا شروع کیا " بیماری کا علاج سنت ہے چاہے وہ عضو کو بدلا ہی کیوں نہ جائے اس کے برعکس موت پر جیت والی بات میری سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ یہ بھی میرے ایمان کا حصہ ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، آپ کی بات ٹھیک ہوگی لیکن میں ایک سوال کرنا چاہوں گا کہ لازمی تو نہیں کہ موت بڑھاپے یا پھر بیماری کی صورت میں ہی آئے گی۔ " کیا مطلب تمہارا" ڈاکٹر تھوڑا سا جھلا کر بولا، میں نے گھاس پر بیٹھے پاس سے گزرتے چائے والے کو اشارہ کرتے چائے منگوائی اور دوبارہ اپنی بات شروع کرتے ہوئے کہا، کھیت میں اگنے والی گندم پر اگرذرا سا غور کیا جائے تو اس بات کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ جتنی گندم ہم اگا کر کھاتے ہیں کیا اسے سو فیصد ریسائکل کیا جا سکتا ہے، اگر سو فیصد ریسائکل کرنا ممکن ہے تو میں آپ کے دعوے کو مان لیتا ہوں کہ انسان کبھی موت کا شکار نہیں ہوگا کیوں اگر انسان بیماری اور بڑھاپے سے نہ بھی مرے تو ایک نہ ایک دن وسائل ختم ہونے پر بھوک سے ضرور مر جائے، کیوں کہ ہم جو گندم کھاتے ہیں وہ پیٹ میں جانے کے بعد جسم کو طاقت دیتی ہے، جسے ہم دیکھنے، سننے، بولنے، سانس لینے اور دیگر امور میں خرچ کر دیتے ہیں، جسے ریکور نہیں کیا جاسکتا، باقی فضلہ بچ جاتا جسے عام طور پر کھاد کے طور استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جتنی انرجی گندم اگانے میں خرچ ہوئی تھی۔ انسانی جسم سے نکلنے والے فضلے سے دوبارہ اتنی انرجی کھیت میں نہیں پہنچتی جس کی بنا پر زمین بہت آہستہ آہستہ بنجر ہونا شروع ہو جاتی ہے، اور ایک دن ایسا بھی آئے گا جب تمام زمین بنجر ہوجائے گی اور ہر صورت میں انسان کو موت کا مزا چکھنا ہوگا، ڈاکٹر صاحب میں آپ کی ہر بات مان لیتا ہوں، لیکن مجھے یہ بتائے کہ اچانک ہم میں سے کسی کی دھڑکن رک جائے اور موت واقع ہوجائے اور سامنا خدا سے ہو تو ہم کس منہ سے خدا کا سامنا کریں گے، میں آپ کو ہرگز جنت دوزخ کے نام سے ڈرا دھمکا نہیں رہا۔ خدا تو محبت کا پہلا نام ہے، خدا ہمارے لاکھوں گناہ کو نظر انداز کرکے ہمیں رزق عطا کرتا ہے جس کے ہم کسی صورت قابل نہیں، بس میرے یہی خیالات و دلائل ہیں اور میں کسی بھی صورت یہ نہیں چاہوں گا کہ آپ میرے دلائل کے ذیر اثر ہو کر خدا کی عبادت شروع کریں بلکہ اس کے برعکس اگر آپ خدا کو پہچانے تو اس کی محبت کی صفت کو سامنے رکھیں۔ آزان مغرب ہوئی تو غیر ارادی طور پر سب خاموش ہو گئے اس کے بعد میں نے مسجد کا رخ کیا۔ جو کہ بہت عجیب بات تھی۔ اگلی شام میں دوبارہ پارک آیا لیکن آج میری ڈاکٹر یا کسی سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ لیکن میں روزانہ کی بنیاد پر جاگنگ پارک آنے لگا۔ اکثر میری ملاقات اس پارک میں لادین لوگوں سے ہوتی، اور میں بلکل سادہ سے الفاظ میں خدا کی تعریف بیان کرتا مجھے نہیں معلوم میں ٹھیک کرتا ہوں یا غلط، یا مجھے یہ سب کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ لیکن جب میں نے ایک روز پارک میں جاگنگ کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی اور شام کی چائے ساتھ پیتے ہوئے میں محسوس کر رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا موڈ بہت اچھا ہے آج ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں چپڑاسی کی نوکری کی آفر بھی کر دی لیکن مجھے اپنا چھپایا ہوا جھوٹ کھائے جا رہا تھا، تو میں نے ڈاکٹر صاحب دھیان کھینچتے ہوئے بات شروع کی" میرا نام عبدالرشید ہے، اور میں شہر لاہور کے جانے مانے ٹھگوں میں سے ہوں، مجھے سب گرو کے نام سے جانتے ہیں، میرے پاس لوگوں کو ٹھگنے کا بہت وسیع تجربہ ہے اور میں ہرگز پیشے جولاہا نہیں ہوں نہ ہی میں نے زندگی میں کبھی نوکری کی ہے لیکن اب مجھ سے وہ کام نہیں ہوتا جس کا میں فنکار ہوں ، اور نہ ہی میں کوئی مولوی موذن ہوں، بلکہ میرے پاس اتنی معلومات اس لئے ہیں کیوں کہ میری عادت میں شامل رہا ہے بیس سال سے کہ میں جب بھی اکتاہت کا شکار ہوتا تو سرکاری کتب خانے کا رخ کر لیتا اور روز کوئی نہ کوئی کتاب اٹھا کر بیٹھ جاتا اور میرے پاس الفاظ کے پلندے جمع ہوتے رہتے، جن کا بے دریغ استعمال لوگوں کو ٹھگنے میں استعمال کیا، ڈاکٹر صاحب اگر آپ مجھے نوکری دینا بھی چاہتے ہیں تو میرے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ میرے چھپے سچ کو جان کر میری نوکری کا فیصلہ کریں، ڈاکٹر صاحب بلکل خاموشی سے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میری باتوں کو سن رہے تھے، میں آج جب بول کر چپ ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مجھ پر سے بہت بڑا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور میں دس سال پیچھے چلا گیا ہوں اور جوان ہوگیا ہوں ، آزان مغرب ہوئی، چائے کے پیسے دیتے ہوئے میں مسکرایا اور بولا کہ آپ پر میری دوسری چائے ادھار ہوگئی آج۔ نماز کی ادائیگی کے لئے جب میں صف میں کھڑا ہوا تو مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آج میرے کندھے ڈاکٹر صاحب کے کندھوں سے ملے ہوئے تھے، میرے لئے بہت حیرت کی بات تھی کیوں کہ آج ڈاکٹر صاحب نماز ادا کرنے صف میں کھڑے تھے، نماز کے بعد دعا ہوئی تو میں ڈاکٹر صاحب کو دیکھ رہا تھا۔ ان کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔ بعد ازاں میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا آپ اور مسجد میں، ایسا کیا ہوا کہ خدا یاد آگیا جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تمہاری آخری بات بہت گہری تھی، کہ اگر اچانک دھڑکن رک گئی اور واقعی خدا ہوا تو آپ کیسے سامنا کریں گے۔ بات مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے میرے ہاتھ میں اپنا وزٹنگ کارڈ تھماتے ہوئے کہا کہ کل سے وقت پر نوکری۔۔ پر آ جانا ۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: معز خان

Read More Articles by معز خان: 2 Articles with 1206 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 May, 2018 Views: 578

Comments

آپ کی رائے
شکریہ عظمیٰ احمد
By: معز خان, karachi on May, 08 2018
Reply Reply
0 Like
Nice and Impressive
jazak Allah ho kKhair
stay blessed always
By: uzma ahmad, Lahore on May, 08 2018
Reply Reply
1 Like